❮
❯
حدیث نمبر: 11965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْءٌ لَا يُرَدُّ قَالَ: " نَعَمْ، تَقُولُ: أَسْأَلُكَ بِاسْمِكِ الْأَعْلَى الْأَعَزِّ الْأَجَلِّ الْأَكْرَمِ "
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةَ «اغْتَسَلَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ جَنَابَةٍ، وتَوَضَّيَا جَمِيعًا لِلصَّلَاةِ»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، أَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ الْجُنُبَ، وَلَا الْمُضْمَخَ بِالْخَلُوقِ بِخَيْرٍ حَتَّى يَغْتَسِلَا»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا دعا میں کوئی ایسی چیز ہے جو رد نہیں کی جاتی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تم یوں کہو: میں تجھ سے تیرے سب سے بلند، سب سے غالب، سب سے جلیل اور سب سے کریم نام کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنابت کے بعد ایک ہی برتن سے غسل کیا، اور دونوں نے نماز کے لیے اکٹھے وضو کیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے جنبی شخص کے پاس، اور خلوق (خوشبو) میں لتھڑے ہوئے شخص کے پاس خیر لے کر حاضر نہیں ہوتے، یہاں تک کہ وہ دونوں غسل کر لیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11965
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 360، حدیث 12017