حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي تَحْيَا، قَالَ عَبْدُ اللهِ: لَقَدْ سَمِعْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ مَنْقَبَةً، لَأَنْ تَكُونَ لِي أَحَبُّ إِلَى مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ: لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى {فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ} [المائدة: ٢٤] الْآيَةَ، لَكِنْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَشِمَالِكَ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْبَسَطَتْ أَسَارِيرُهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا ایک ایسا فضیلت والا کارنامہ سنا کہ اگر وہ میرا ہوتا تو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے: بدر کے دن وہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی: ”تو تو اور تیرا رب جا کر لڑو“ [سورۃ المائدہ: 24]، بلکہ ہم آپ کے دائیں اور بائیں طرف رہ کر لڑیں گے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ دیکھا تو اس کی رونق کھل اٹھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، ثنا أَبِي، عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”دم جھاڑ، تعویذ اور محبت کے ٹونے شرک ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا أَبُو السَّوَّارِ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَبُو مُوسَى عِنْدَهُ، وَأَخَذَ الْوَالِي رَجُلًا فَضَرَبَهُ وَحَمَلَهُ عَلَى جَمَلٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الْجَمَلَ الْجَمَلَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَذَا الْجَمَلُ الَّذِي كُنَّا نَسْمَعُ، قَالَ: «فَأَيْنَ الْبَارِقَةُ؟»
ترجمہ
(کسی حاکم نے ایک آدمی کو پکڑا، اسے مارا اور اونٹ پر سوار کر دیا، تو لوگ کہنے لگے: اونٹ! اونٹ! (وہی علامت ہے)۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہی وہ اونٹ ہے جس کے بارے میں ہم سنا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو (بجلی کی) چمک کہاں ہے؟“)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَلِيحُ بْنُ وَكِيعٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَكَّائِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ وَحُذَيْفَةَ، فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِامْرَأَةٍ وَرَجُلٍ عَلَى جَمَلٍ قَدْ خُولِفَ وُجُوهُهُمَا، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: هَذَا الَّذِي كُنَّا نَتَحَدَّثُ عَنْهُ، قَالَ: لَا، إِنَّ مَعَ ذَاكَ الْبَارِقَةَ
ترجمہ
یزید بن معاویہ البکائی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ (بن مسعود) اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ان کے پاس سے ایک عورت اور ایک مرد اونٹ پر اس حال میں گزرے کہ ان کے چہرے (پیٹھ کی طرف) پھیرے ہوئے تھے، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہی وہ (علامت) ہے جس کی ہم بات کیا کرتے تھے۔ دوسرے نے کہا: نہیں، اس کے ساتھ (بجلی کی) چمک بھی ہوگی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ صُبَيْحٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُثْمَانَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَاحِبِهِمْ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ صَاحِبَنَا هَذَا قَدْ أَفْسَدَهُ الْحَيَاءُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْحَيَاءَ مِنْ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، وَإِنَّ الْبَذَاءَ مِنْ لُؤْمِ الْمَرْءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ اپنے ایک ساتھی کو لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمارے اس ساتھی کو حیا نے بگاڑ دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حیا اسلام کی شریعت میں سے ہے، اور بدزبانی آدمی کی کمینگی میں سے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى صَاعِقَةُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مَعَنَا، قُلْتُ: مَا لَكَ قَدْ تَرَكْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنَّكُمْ تُخَفِّفُونَ، قُلْتُ: وَأَيْنَ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِيكُمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ» ؟ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَةَ أَضْعَافِ مَا تُصَلُّونَ
ترجمہ
ابراہیم تیمی کہتے ہیں: میرے والد نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چھوڑ دیا تھا، میں نے پوچھا: آپ نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنا کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے کہا: تم لوگ (نماز) مختصر کر دیتے ہو۔ میں نے کہا: تو پھر نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان کہاں گیا: ”تم میں بوڑھا، کمزور اور حاجت مند بھی ہوتا ہے“؟ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے، پھر وہ اتنی نماز پڑھتے تھے جتنی تم پڑھتے ہو اس سے تین گنا زیادہ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: «نُهِينَا عَنْ مَحَاشِّ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمیں عورتوں کی دبر (پچھلی شرمگاہ) سے منع کیا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّهْرَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ قَوْمٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ عُذِّبُوا فِي النَّارِ بِرَحْمَةِ اللهِ وَشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ضرور جنت میں داخل ہوں گے جنہیں جہنم میں عذاب دیا جا چکا ہوگا، پھر اللہ کی رحمت اور سفارش کرنے والوں کی سفارش سے (نکالے جائیں گے)۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُخَيَّلُ عَلَى مَنْ رَآهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو دیکھنے والے کو کبھی آپ ﷺ (کی پہچان) میں شک نہیں ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدَةَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ، أَلَا وَإِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجُزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُونَ فِي النَّارِ كَمَا تَهَافَتَ الْفَرَاشُ وَالذُّبَابُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے جو بھی حرمت مقرر کی ہے وہ جانتا تھا کہ تم میں سے کوئی نہ کوئی اس میں جھانکے گا۔ سن لو! میں تمہاری کمر پکڑے ہوئے ہوں تاکہ تم آگ میں اس طرح گر نہ پڑو جس طرح پروانے اور مکھیاں گر پڑتی ہیں۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يَعْمَلُ بِمَعَاصِي اللهِ فِيهِمْ، وَهُمْ أَكْثَرُ مِنْهُمْ وَأَعَزُّ، ثُمَّ يَدَّهِنُوا فِي شَأْنِهِ إِلَّا عَاقَبَهُمُ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی بھی آدمی جو کسی قوم میں ان کے اندر رہ کر اللہ کی نافرمانی کرے، اور وہ قوم اس سے زیادہ تعداد اور طاقت رکھتی ہو، پھر وہ اس کے معاملے میں نرمی برتیں، تو اللہ ضرور انہیں سزا دے گا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: «لَا تَزَالُ الشَّفَاعَةُ بِالنَّاسِ وَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، حَتَّى إِنَّ إِبْلِيسَ الْأَبَالِسِ لَيَتَطَاوَلُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ تُصِيبَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”لوگوں کے لیے شفاعت ہوتی رہے گی اور وہ جہنم سے نکلتے رہیں گے، یہاں تک کہ ابلیس، شیطانوں کا سردار، بھی اس (شفاعت) کی امید میں اپنی گردن اونچی کرے گا کہ شاید وہ اسے بھی مل جائے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ أَيُّوبَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشَرِيكٌ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُرْضِيَنَّ أَحَدًا بِسَخَطِ اللهِ، وَلَا تَحْمَدَنَّ أَحَدًا عَلَى فَضْلِ اللهِ، وَلَا تَذُمَّنَ أَحَدًا عَلَى مَا لَمْ يُؤْتِكَ اللهُ؛ فَإِنَّ رِزْقَ اللهِ لَا يَسُوقُهُ إِلَيْكَ حِرْصُ حَرِيصٍ، وَلَا يَرُدُّهُ عَنْكَ كَرَاهِيَةُ كَارِهٍ، وَإِنَّ اللهَ تَعَالَى بِقِسْطِهِ وَعَدْلِهِ جَعَلَ الرَّوْحَ وَالْفَرَحَ فِي الرِّضَا وَالْيَقِينِ، وَجَعَلَ الْهَمَّ وَالْحَزَنَ فِي السَّخَطِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی ناراضگی مول لے کر کسی کو راضی نہ کرو، اللہ کے فضل پر کسی کی تعریف نہ کرو، اور جو اللہ نے تمہیں نہ دیا ہو اس پر کسی کی مذمت نہ کرو، کیونکہ اللہ کا رزق کسی حریص کی حرص سے تمہاری طرف نہیں آتا، اور نہ کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی سے تم سے پھرتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف اور عدل کے تحت راحت اور خوشی کو رضا اور یقین میں رکھا ہے، اور غم اور پریشانی کو ناراضگی میں رکھا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا أَبُو نُبَاتَةَ يُونُسُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَشَدَّ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا، أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ، وَإِمَامٌ جَائِرٌ، وَهَؤُلَاءِ الْمُصَوِّرُونَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنمیوں میں سب سے سخت عذاب اس کو ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا، یا جسے کسی نبی نے قتل کیا، اور ظالم حکمران کو، اور یہ مصور لوگ (بھی سخت عذاب میں ہوں گے)۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ؟ قَالَ: «ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهُ الْمُؤْمِنُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ، لَيْسَتْ حَصَاةُ أَحَدِهَا إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! سب سے بڑا ظلم کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمین کا وہ ایک ہاتھ (کا ٹکڑا) جو کوئی مومن اپنے بھائی کے حق سے کم کر لے، اس کا ایک ایک کنکر قیامت کے دن اس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، وَماهرُ بْنُ نُوحٍ، قَالَا: ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا عَوْنُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ خِيَارُهُمْ، وَآخِرَهُمْ شِرَارُهُمْ مُخْتَلِفِينَ مُتَفَرِّقِينَ، فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يَأْتِي إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس امت کے پہلے لوگ ان کے بہترین لوگ ہیں، اور اس کے آخری لوگ ان کے بدترین ہوں گے، اختلاف کرنے والے اور متفرق ہو جانے والے۔ جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ لوگوں کے ساتھ وہی کر رہا ہو جو وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا مَعْرُوفُ بْنُ حَسَّانَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا انْفَلَتَتْ دَابَّةُ أَحَدِكُمْ بِأَرْضِ فَلَاةٍ فَلْيُنَادِ: يَا عِبَادَ اللهِ، احْبِسُوا عَلَيَّ، يَا عِبَادَ اللهِ احْبِسُوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ لِلَّهِ فِي الْأَرْضِ حَاضِرًا سَيَحْبِسُهُ عَلَيْكُمْ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا جانور کسی ویرانے میں بھاگ جائے تو وہ پکارے: اے اللہ کے بندو! میرے لیے اسے روک لو، اے اللہ کے بندو! میرے لیے اسے روک لو۔ کیونکہ زمین میں اللہ کا ایک (فرشتہ) موجود ہے جو اسے تمہارے لیے روک دے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رات کو جاگنا (گپ شپ) صرف نمازی یا مسافر کے لیے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ كُرْدُوسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " مَرَّ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَصُهَيْبٌ وَخَبَّابٌ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا؟ لَوْ طَرَدْتَ هَؤُلَاءِ لَاتَّبَعْنَاكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهَمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ} [الأنعام: ٥٢] إِلَى قَوْلِهِ {أَلَيْسَ اللهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ} [الأنعام: ٥٣] "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریش کے سردار رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ کے پاس کچھ مسلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا خباب رضی اللہ عنہما بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: اے محمد! کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے (خاص) احسان فرمایا ہے؟ اگر آپ انہیں دور کر دیں تو ہم آپ کی پیروی کریں۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور ان لوگوں کو دور نہ کیجیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا چاہتے ہوئے“ [سورۃ الانعام: 52] سے لے کر ”کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں؟“ [سورۃ الانعام: 53] تک۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُخْتَارُ بْنُ غَسَّانَ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «اطْعَمْ» ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: «اطْعَمْ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كَانَ يُصَامُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ، فَنَزَلَ رَمَضَانُ فَتُرِكَ هَذَا الْيَوْمُ»
ترجمہ
ابوسعد کہتے ہیں: میں عاشوراء کے دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے، اتنے میں ایک آدمی آیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کھاؤ۔“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ انہوں نے فرمایا: ”کھاؤ، یہ وہ دن ہے جس کا روزہ رمضان کے نازل ہونے سے پہلے رکھا جاتا تھا، پھر رمضان نازل ہوا تو یہ دن ترک کر دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ» ، فَقِيلَ: وَإِيَّاكَ؟ قَالَ: «وَإِيَّايَ، وَلَكِنَّ اللهَ تَعَالَى أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ، وَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس پر جنوں میں سے اس کا ہمنشین (قرین) مقرر نہ کیا گیا ہو۔“ عرض کیا گیا: کیا آپ پر بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر بھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد فرمائی، تو وہ مسلمان ہو گیا، اب وہ مجھے صرف بھلائی کا حکم دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی ایک حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُجَاشِعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی ایک حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الطَّوِيلُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْأُولَى وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: «صَنَعْتُهُ لِئَلَّا تَكُونَ أُمَّتِي فِي حَرَجٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ظہر اور عصر، اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا، آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے یہ اس لیے کیا تاکہ میری امت کسی تنگی میں نہ پڑے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَقَدْ سَبَقَ إِلَى مَجْلِسِهِ أَصْحَابُ الْخَزِّ وَالدِّيبَاجِ، فَقُلْتُ: أَدْنَيْتَ النَّاسَ وَأَقْصَيْتَنِي، فَقَالَ لِي: ادْنُ، فَأَدْنَانِي حَتَّى أَقْعَدَنِي عَلَى بِسَاطِهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ يَكُونُ لِلْوَالِدَيْنِ عَلَى وَلَدِهِمَا دَيْنٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَتَعَلَّقَانِ بِهِ، فَيَقُولُ: أَنَا وَلَدُكُمَا، فَيَوَدَّانِ أَوْ يَتَمَنَّيَانِ لَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ "
ترجمہ
زاذان کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ان کی مجلس میں ریشمی و زربفت کپڑے پہننے والے لوگ پہلے ہی بیٹھ چکے تھے، میں نے کہا: آپ نے دوسرے لوگوں کو قریب کر لیا اور مجھے دور رکھا؟ انہوں نے فرمایا: قریب آ جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے مجھے قریب کیا یہاں تک کہ اپنے فرش پر بٹھا لیا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”والدین کا اپنی اولاد پر ایک قرض ہوتا ہے، تو جب قیامت کا دن ہوگا وہ دونوں اس اولاد سے چمٹ جائیں گے، وہ اولاد کہے گی: میں تمہاری اولاد ہوں، تو وہ دونوں تمنا کریں گے کاش یہ (نیکی) اس سے بھی زیادہ ہوتی۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللهِ يُكَفِّرُ الذُّنُوبَ كُلَّهَا - أَوْ قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ - إِلَّا الْأَمَانَةَ، وَالْأَمَانَةُ فِي الصَّلَاةِ، وَالْأَمَانَةُ فِي الصَّوْمِ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْحَدِيثِ، فَأَشَدُّ ذَلِكَ الْوَدَائِعُ ". قَالَ شَرِيكٌ: حَدَّثَنِي عَيَّاشٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل ہونا تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے - یا فرمایا: ہر چیز کا - سوائے امانت کے، اور امانت نماز میں بھی ہوتی ہے، امانت روزے میں بھی ہوتی ہے، اور امانت بات چیت میں بھی ہوتی ہے، اور ان میں سب سے سخت امانتیں رکھی ہوئی چیزیں (ودیعتیں) ہیں۔“
شریک کہتے ہیں: مجھے عیاش عامری نے بھی زاذان کے واسطے سے، عبداللہ بن مسعود سے، نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی روایت سنائی۔
شریک کہتے ہیں: مجھے عیاش عامری نے بھی زاذان کے واسطے سے، عبداللہ بن مسعود سے، نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی روایت سنائی۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ يُبَلِّغُونَ عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کے کچھ فرشتے زمین میں سیر کرتے پھرتے ہیں، وہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کے کچھ فرشتے زمین میں سیر کرتے پھرتے ہیں، وہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأُمَوِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي عَنْ أُمَّتِي السَّلَامَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں سیر کرتے پھرتے ہیں، وہ میری امت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَا: ثنا الصَّعِقُ بْنُ حَزْنٍ، أَخْبَرَنِي عَقِيلٌ الْجَعْدِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَهَا ثَلَاثًا، «تَدْرِي أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ أَوْثَقَ عُرَى الْإِسْلَامِ الْوَلَايَةُ فِيهِ، الْحُبُّ فِيهِ وَالْبُغْضُ»
ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: «تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ» ، قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ»
ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي الْعَمَلِ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ زَحْفًا، وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلِي عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، نَجَى مِنَّا ثَلَاثَةٌ، وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ، فِرْقَةٌ آزَتِ الْمُلُوكَ وَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَأَخَذُوهُمْ فَقَتَلُوهُمْ وَقَطَّعُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ، وَفِرْقَةٌ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ طَاقَةُ مُوَازَاةِ الْمُلُوكِ، وَلَا بِأَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ يَدْعُونَهُمْ إِلَى دِينِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَسَاحُوا فِي الْأَرْضِ وَتَرَهَّبُوا» ، قَالَ: " وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ} [الحديد: ٢٧] الْآيَةَ "، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَاتَّبَعَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا، وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ»
ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: «تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ» ، قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ»
ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» ، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «تَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟» قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي الْعَمَلِ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ زَحْفًا، وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلِي عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، نَجَى مِنَّا ثَلَاثَةٌ، وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ، فِرْقَةٌ آزَتِ الْمُلُوكَ وَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَأَخَذُوهُمْ فَقَتَلُوهُمْ وَقَطَّعُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ، وَفِرْقَةٌ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ طَاقَةُ مُوَازَاةِ الْمُلُوكِ، وَلَا بِأَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ يَدْعُونَهُمْ إِلَى دِينِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَسَاحُوا فِي الْأَرْضِ وَتَرَهَّبُوا» ، قَالَ: " وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ} [الحديد: ٢٧] الْآيَةَ "، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَاتَّبَعَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا، وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے تین بار عرض کیا: لبیک، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایمان کی سب سے مضبوط رسی کون سی ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اسلام کی سب سے مضبوط رسی اس (اللہ) کی خاطر دوستی رکھنا، اس کی خاطر محبت کرنا اور اس کی خاطر بغض رکھنا ہے۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے تین بار عرض کیا: لبیک، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک سب سے افضل شخص وہ ہے جو عمل میں سب سے افضل ہو جب وہ اپنے دین کی سمجھ رکھتا ہو۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے عرض کیا: لبیک، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک سب سے بڑا عالم وہ ہے جو حق کو سب سے زیادہ پہچاننے والا ہو جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے، خواہ وہ عمل میں کوتاہی کرنے والا ہو، اور خواہ وہ اپنے سرین کے بل گھسٹتا ہوا چل رہا ہو۔ اور مجھ سے پہلے کی امتوں کے لوگ بہتّر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، ہم میں سے تین فرقے نجات پا سکے اور باقی سب ہلاک ہوئے: ایک فرقہ وہ تھا جس نے بادشاہوں کا مقابلہ کیا اور اپنے دین اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی خاطر ان سے لڑا، تو انہوں نے انہیں پکڑ کر قتل کر دیا اور آروں سے چیر ڈالا۔ اور ایک فرقہ ایسا تھا جس میں بادشاہوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی، اور نہ ان کے درمیان رہ کر انہیں اللہ عزوجل اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی طرف بلانے کی سکت تھی، تو وہ زمین میں نکل گئے اور رہبانیت اختیار کر لی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا: ”اور رہبانیت جو انہوں نے خود ایجاد کی، ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی“ [سورۃ الحدید: 27] آیت کے آخر تک۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو مجھ پر ایمان لایا، مجھے سچا مانا اور میری پیروی کی، اس نے اس (رہبانیت) کی پوری رعایت کی، اور جس نے میری پیروی نہ کی، تو وہی لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے تین بار عرض کیا: لبیک، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک سب سے افضل شخص وہ ہے جو عمل میں سب سے افضل ہو جب وہ اپنے دین کی سمجھ رکھتا ہو۔“
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن مسعود!“ میں نے عرض کیا: لبیک، یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک سب سے بڑا عالم وہ ہے جو حق کو سب سے زیادہ پہچاننے والا ہو جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے، خواہ وہ عمل میں کوتاہی کرنے والا ہو، اور خواہ وہ اپنے سرین کے بل گھسٹتا ہوا چل رہا ہو۔ اور مجھ سے پہلے کی امتوں کے لوگ بہتّر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، ہم میں سے تین فرقے نجات پا سکے اور باقی سب ہلاک ہوئے: ایک فرقہ وہ تھا جس نے بادشاہوں کا مقابلہ کیا اور اپنے دین اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی خاطر ان سے لڑا، تو انہوں نے انہیں پکڑ کر قتل کر دیا اور آروں سے چیر ڈالا۔ اور ایک فرقہ ایسا تھا جس میں بادشاہوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی، اور نہ ان کے درمیان رہ کر انہیں اللہ عزوجل اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کی طرف بلانے کی سکت تھی، تو وہ زمین میں نکل گئے اور رہبانیت اختیار کر لی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا: ”اور رہبانیت جو انہوں نے خود ایجاد کی، ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی“ [سورۃ الحدید: 27] آیت کے آخر تک۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو مجھ پر ایمان لایا، مجھے سچا مانا اور میری پیروی کی، اس نے اس (رہبانیت) کی پوری رعایت کی، اور جس نے میری پیروی نہ کی، تو وہی لوگ ہلاک ہونے والے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا بُشْرَى مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَهِيَ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَإِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ سَمُومِ جَهَنَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ، وَمَنْ عَقَّبَ الصَّلَاةَ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا خواب اللہ عزوجل کی طرف سے خوشخبری ہے، اور یہ نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ اور تمہاری یہ آگ جہنم کی لپٹ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔ اور جو شخص مسجد میں نماز کا انتظار کرتے ہوئے آئے وہ اس وقت تک نماز ہی میں ہے جب تک بے وضو نہ ہو، اور جو ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرے وہ اس وقت تک نماز ہی میں ہے جب تک بے وضو نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ الْقَسْمَلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَسْمَلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ» ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا، وَرَأْسِي دَهِينًا، وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ السَّوْطِ، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا، ذَاكَ الْجَمَالُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفَّهَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، اور جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ میرا کپڑا دھلا ہوا ہو، میرا سر تیل لگا ہوا ہو، اور میرے جوتے کا تسمہ نیا ہو، پھر اس نے کئی چیزوں کا ذکر کیا یہاں تک کہ کوڑے کے تسمے تک کا ذکر کیا، تو کیا یہ تکبر میں سے ہے اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ خوبصورتی ہے، بے شک اللہ عزوجل خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، لیکن تکبر یہ ہے کہ حق کو حقیر جانا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ الدُّورَ، وَأَقْطَعَ ابْنَ مَسْعُودٍ فِيمَنْ أَقْطَعَ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَكِّبْهُ عَنَّا، قَالَ: «فَلِمَ بَعَثَنِي اللهُ إِذًا؟ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُعْطُونَ الضَّعِيفَ مِنْهُمْ حَقَّهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے صحابہ کو گھروں کی زمینیں تقسیم فرمائیں، اور جنہیں تقسیم کیا ان میں ابن مسعود بھی شامل تھے۔ آپ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے ہم سے الگ کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اللہ نے مجھے کس لیے بھیجا ہے؟ بے شک اللہ عزوجل اس امت کو پاک نہیں کرتا جو اپنے کمزور کو اس کا حق نہ دے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَرَّةَ الصَّنْعَانِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا، فَجَعَلَ يَطْعَنُهَا وَهُوَ يَقُولُ: «جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، اس وقت کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ انہیں مارنے لگے اور فرماتے جاتے: ”حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ الْمُؤَذِّنُ، مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (رمضان کے) انتیس دن کے روزے اتنے ہی رکھے جتنے تیس دن کے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَامِرِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَخْطَأَ بِخَطِيئَةٍ، وَأَذْنَبَ ذَنْبًا، ثُمَّ نَدِمَ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی خطا کرے اور گناہ کر بیٹھے، پھر اس پر نادم ہو، تو یہ ندامت ہی اس کا کفارہ ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَفَعَهُ قَالَ: «إِنَّ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ عَاقِبَتُهُ تَصِيرُ إِلَى قُلٍّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سود، خواہ کتنا ہی بڑھ جائے، اس کا انجام کمی کی طرف ہی جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا كَثُرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا كَانَ عَاقِبَتُهُ إِلَى قِلَّةٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سود جتنا بھی بڑھے، اس کا انجام کمی ہی کی طرف ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَسَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سچا اور نیک خواب نبوت کے چھہتر اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِحَسْبِ الْمَرْءِ أَنْ يَرَى مُنْكَرًا لَا يَسْتَطِيعُ لَهُ غَيْرًا أَنْ يَعْلَمَ اللهُ أَنَّهُ لَهُ مُنْكِرٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جب وہ کوئی برائی دیکھے جسے بدلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اللہ کو معلوم ہو جائے کہ وہ دل سے اسے برا سمجھتا ہے۔“
…