حدیث نمبر: 10488
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَقْطَعَ الدُّورَ، وَأَقْطَعَ ابْنَ مَسْعُودٍ فِيمَنْ أَقْطَعَ، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، نَكِّبْهُ عَنَّا، قَالَ: «فَلِمَ بَعَثَنِي اللهُ إِذًا؟ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يُعْطُونَ الضَّعِيفَ مِنْهُمْ حَقَّهُ»
ترجمہ

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے صحابہ کو گھروں کی زمینیں تقسیم فرمائیں، اور جنہیں تقسیم کیا ان میں ابن مسعود بھی شامل تھے۔ آپ ﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسے ہم سے الگ کر دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اللہ نے مجھے کس لیے بھیجا ہے؟ بے شک اللہ عزوجل اس امت کو پاک نہیں کرتا جو اپنے کمزور کو اس کا حق نہ دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10488
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 222، حدیث 10534