المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حدیث نمبر: 10458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا أَبُو السَّوَّارِ، ثنا عُمَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَبُو مُوسَى عِنْدَهُ، وَأَخَذَ الْوَالِي رَجُلًا فَضَرَبَهُ وَحَمَلَهُ عَلَى جَمَلٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الْجَمَلَ الْجَمَلَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَذَا الْجَمَلُ الَّذِي كُنَّا نَسْمَعُ، قَالَ: «فَأَيْنَ الْبَارِقَةُ؟»ترجمہ
عمیر بن سعید کہتے ہیں: ہم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس تھے، اتنے میں حاکم نے ایک آدمی کو پکڑا، اسے مارا اور اونٹ پر سوار کر دیا، تو لوگ کہنے لگے: اونٹ! اونٹ! (وہی علامت ہے)۔ ایک آدمی نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہی وہ اونٹ ہے جس کے بارے میں ہم سنا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو (بجلی کی) چمک کہاں ہے؟“