حدیث نمبر: 10480
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَقَدْ سَبَقَ إِلَى مَجْلِسِهِ أَصْحَابُ الْخَزِّ وَالدِّيبَاجِ، فَقُلْتُ: أَدْنَيْتَ النَّاسَ وَأَقْصَيْتَنِي، فَقَالَ لِي: ادْنُ، فَأَدْنَانِي حَتَّى أَقْعَدَنِي عَلَى بِسَاطِهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ يَكُونُ لِلْوَالِدَيْنِ عَلَى وَلَدِهِمَا دَيْنٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَتَعَلَّقَانِ بِهِ، فَيَقُولُ: أَنَا وَلَدُكُمَا، فَيَوَدَّانِ أَوْ يَتَمَنَّيَانِ لَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ "
ترجمہ

زاذان کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ان کی مجلس میں ریشمی و زربفت کپڑے پہننے والے لوگ پہلے ہی بیٹھ چکے تھے، میں نے کہا: آپ نے دوسرے لوگوں کو قریب کر لیا اور مجھے دور رکھا؟ انہوں نے فرمایا: قریب آ جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے مجھے قریب کیا یہاں تک کہ اپنے فرش پر بٹھا لیا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”والدین کا اپنی اولاد پر ایک قرض ہوتا ہے، تو جب قیامت کا دن ہوگا وہ دونوں اس اولاد سے چمٹ جائیں گے، وہ اولاد کہے گی: میں تمہاری اولاد ہوں، تو وہ دونوں تمنا کریں گے کاش یہ (نیکی) اس سے بھی زیادہ ہوتی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10480
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 219، حدیث 10526