المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 10136–10518) باب: (احادیث 10136 تا 10518)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ الْقَسْمَلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَسْمَلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ» ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا، وَرَأْسِي دَهِينًا، وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا، وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ السَّوْطِ، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «لَا، ذَاكَ الْجَمَالُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفَّهَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، اور جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ میرا کپڑا دھلا ہوا ہو، میرا سر تیل لگا ہوا ہو، اور میرے جوتے کا تسمہ نیا ہو، پھر اس نے کئی چیزوں کا ذکر کیا یہاں تک کہ کوڑے کے تسمے تک کا ذکر کیا، تو کیا یہ تکبر میں سے ہے اے اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہ خوبصورتی ہے، بے شک اللہ عزوجل خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، لیکن تکبر یہ ہے کہ حق کو حقیر جانا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔“