حدیث نمبر: 10456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي تَحْيَا، قَالَ عَبْدُ اللهِ: لَقَدْ سَمِعْتُ مِنَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ مَنْقَبَةً، لَأَنْ تَكُونَ لِي أَحَبُّ إِلَى مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ فَقَالَ: لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى {فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ} [المائدة: ٢٤] الْآيَةَ، لَكِنْ نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَشِمَالِكَ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْبَسَطَتْ أَسَارِيرُهُ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا ایک ایسا فضیلت والا کارنامہ سنا کہ اگر وہ میرا ہوتا تو مجھے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے: بدر کے دن وہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی: ”تو تو اور تیرا رب جا کر لڑو“ [سورۃ المائدہ: 24]، بلکہ ہم آپ کے دائیں اور بائیں طرف رہ کر لڑیں گے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ دیکھا تو اس کی رونق کھل اٹھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10456
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 212، حدیث 10502