حدیث نمبر: 10474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ كُرْدُوسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " مَرَّ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ أُنَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَصُهَيْبٌ وَخَبَّابٌ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا؟ لَوْ طَرَدْتَ هَؤُلَاءِ لَاتَّبَعْنَاكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهَمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ} [الأنعام: ٥٢] إِلَى قَوْلِهِ {أَلَيْسَ اللهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ} [الأنعام: ٥٣] "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قریش کے سردار رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ کے پاس کچھ مسلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا خباب رضی اللہ عنہما بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: اے محمد! کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے (خاص) احسان فرمایا ہے؟ اگر آپ انہیں دور کر دیں تو ہم آپ کی پیروی کریں۔ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اور ان لوگوں کو دور نہ کیجیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا چاہتے ہوئے“ [سورۃ الانعام: 52] سے لے کر ”کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں؟“ [سورۃ الانعام: 53] تک۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10474
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 217، حدیث 10520