حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَمَرُّوا عَلَى عَبْدِ اللهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، سَلْ تُعْطَهْ» قَالَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ: «فَاسْتَبَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ فَمَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ فَبَشَّرَهُ» ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: " لَا أَدْرِي إِلَّا أَنَّ مِنْ دُعَائِي الَّذِي لَا أَكَادُ أَنْ أَدَعَهُ فِي صَلَاتِي: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَبِيدُ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ "
ترجمہ
ابوعبیدہ اپنے والد سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا، آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما تھے، تو ان کا گزر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن ام عبد! مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں اور ابوبکر (یہ خوشخبری دینے) دوڑے، اور ہم جب بھی کسی نیکی کی طرف دوڑتے تو وہ (ابوبکر) ہمیشہ مجھ سے آگے نکل جاتے اور اسے خوشخبری دے دیتے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”مجھے یاد نہیں سوائے اس کے کہ میری وہ دعا جسے میں اپنی نماز میں چھوڑنے کے قریب بھی نہیں آتا، یہ ہے: اے اللہ! میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک مانگتا ہوں جو زائل نہ ہو، اور جنتِ خلد کے سب سے اعلیٰ درجے میں محمد ﷺ کی رفاقت مانگتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، سَمِعَ أَبَا عُبَيْدَةَ يَذْكُرُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ دَعَاهُمْ فَخَرَجُوا مِنْ مَنْزِلِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللهِ قَائِمٌ يُصَلِّي وَيَقْرَأُ، ثُمَّ جَلَسَ فَتَشَهَّدَ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ كَأَحْسَنِ مَا يُثْنِي رَجُلٌ، وَصَلَّى عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ابْتَهَلَ بِالدُّعَاءِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَلْ تُعْطَهْ» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ: مَنْ هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «هَذَا عَبْدُ اللهِ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، فَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ كَمَا قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ» فَابْتَدَرَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا فَسَبَقَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ عُمَرُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ سَبَقَهُ، قَالَ عُمَرُ: «وَكَانَ سَبَّاقًا بِالْخَيْرَاتِ»
ترجمہ
…پھر وہ (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز میں) بیٹھے اور تشہد پڑھا، اور اللہ کی ایسی تعریف کی جیسی وہ اس کے لائق ہے، بہترین انداز میں جیسے کوئی آدمی تعریف کرتا ہے، اور اپنے نبی ﷺ پر درود بھیجا، پھر خشوع کے ساتھ دعا میں مصروف ہو گئے جبکہ نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، یہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ عبداللہ ابن ام عبد ہے، تو جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تازہ (نئے نازل ہونے) کی طرح پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ اسے اسی طرح پڑھے جیسے ابن ام عبد پڑھتے ہیں۔“ تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما دونوں (خوشخبری دینے) دوڑے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان سے آگے نکل گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان سے آگے نکل گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور وہ ہمیشہ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ فَتَعَشَّوْا عِنْدَهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ عَلَى قِرَاءَةٍ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»
ترجمہ
…اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (بھی) تھے، انہوں نے ان کے پاس شام کا کھانا کھایا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان (چلتے ہوئے) نکلے، تو ان کا گزر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تازہ کی طرح پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللهِ: مَا الَّذِي كُنْتَ دَعَوْتَ بِهِ لَيْلَةَ قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ تُعْطَهْ» قَالَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى دَرَجَةِ الْخُلْدِ
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اس رات آپ نے کیا دعا مانگی تھی جب رسول اللہ ﷺ نے آپ سے فرمایا تھا: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا“؟ انہوں نے کہا: (میں نے کہا تھا:) اے اللہ! میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو پھرے نہیں، اور ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور تیرے نبی محمد ﷺ کی رفاقت جنتِ خلد کے سب سے بلند درجے میں مانگتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ يُصَلِّي، وَافْتَتَحَ النِّسَاءَ فَسَجَلَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ قِرَاءَةَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» ثُمَّ قَعَدَ، ثُمَّ سَأَلَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ» فَقَالَ: فِيمَا سَأَلَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَّةِ الْخُلْدِ فَأَتَى عُمَرُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يُبَشِّرُهُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ خَارِجًا، وَقَدْ سَبَقَهُ، فَقَالَ: «إِنْ فَعَلْتَ لَقَدْ كُنْتَ سَبَّاقًا بِالْخَيْرَاتِ»
ترجمہ
زر (بن حبیش) سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تشریف لائے جبکہ سیدنا عبداللہ نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ النساء شروع کر کے پوری پڑھ گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تازہ کی طرح پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔“ پھر وہ (عبداللہ رضی اللہ عنہ) بیٹھے اور (اللہ سے) دعا مانگنے لگے، تو نبی کریم ﷺ فرماتے رہے: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا، مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔“ تو انہوں نے جو دعا مانگی اس میں سے یہ تھی: اے اللہ! میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو پھرے نہیں، اور ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور تیرے نبی ﷺ کی رفاقت جنتِ خلد میں مانگتا ہوں۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دینے آئے تو دیکھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر نکل رہے ہیں اور وہ ان سے پہلے ہی آ چکے تھے۔ تو انہوں (عبداللہ) نے فرمایا: ”اگر تم نے (یہ خوشخبری دی) تو تم پہلے ہی نیکیوں میں سبقت لے جانے والے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، ثنا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا حَاذَا بِهِ يَسْمَعُ دُعَاءَهُ وَهُوَ لَا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ تُعْطَهْ» فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: الدُّعَاءُ الَّذِي دَعَوْتَ بِهِ مَا هُوَ؟ قَالَ: «حَمِدْتُ اللهَ وَمَجَّدْتُهُ» ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَرُسُلُكَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلے، جب وہ ان (ابن مسعود) کے پاس سے گزرے تو ان کی دعا سنی جبکہ آپ ﷺ انہیں پہچان نہیں رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (بعد میں) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور پوچھا: وہ دعا کیا تھی جو تم نے مانگی؟ انہوں نے کہا: ”میں نے اللہ کی حمد اور تعریف کی۔“ پھر کہا: ”اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تیرا وعدہ سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچی ہے، جہنم سچی ہے، تیرے رسول سچے ہیں، نبی سچے ہیں، اور محمد ﷺ سچے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ يَدْعُو بِدُعَاءٍ مَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا حَاذَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ دُعَاءَهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعْرِفُهُ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا سَلْ تُعْطَهْ» فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: الدُّعَاءُ الَّذِي كُنْتَ تَدْعُو بِهِ؟ قَالَ: " حَمِدْتُ اللهَ وَمَجَّدْتُهُ ثُمَّ قُلْتُ: اللهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَكِتَابُكَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَرُسُلُكَ حَقٌّ "
ترجمہ
…اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (ساتھ تھے)، جب رسول اللہ ﷺ ان (ابن مسعود) کے پاس سے گزرے تو ان کی دعا سنی، جبکہ رسول اللہ ﷺ انہیں پہچانتے نہیں تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟ مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ کے پاس واپس گئے اور کہا: وہ دعا کیا تھی جو تم مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ”میں نے اللہ کی حمد اور تعریف کی، پھر کہا: اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تیرا وعدہ سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، تیری کتاب سچی ہے، نبی سچے ہیں، اور محمد ﷺ سچے ہیں، جنت سچی ہے، جہنم سچی ہے، اور تیرے رسول سچے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَبِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ، قَالَ: فَفَزِعَ عُمَرُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ انْظُرْ مَا تَقُولُ وَغَضِبَ، فَقَالَ: مَا جِئْتُكَ إِلَّا بِالْحَقِّ، قَالَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: مَا أَعْلَمْ أَحَدًا أَحَقٌّ بِذَلِكَ مِنْهُ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ: إِنَّا سَمَرْنَا لَيْلَةً فِي بَيْتٍ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ مَا يَكُونُ مِنْ حَاجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجْنَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: أَعْتَمْتَ، فَغَمَزَنِي بِيَدِهِ اسْكُتْ، قَالَ: فَقَرَأَ وَرَكَعَ وَسَجَدَ وَجَلَسَ يَدْعُو وَيَسْتَغْفِرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ تُعْطَهْ» ثُمَّ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَطْبًا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ قِرَاءَةَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» فَعَلِمْتُ أَنَا وَصَاحِبِي أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ، فَقَالَ: سَبَقَكَ بِهَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَا سَابَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ "
ترجمہ
…(راوی نے کہا) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، (کیا) آپ کو دیر ہو گئی؟ تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ خاموش رہو۔ (راوی) کہتے ہیں: پھر وہ (نمازی) قراءت کرتا رہا، رکوع کیا، سجدہ کیا، اور بیٹھ کر دعا اور استغفار کرنے لگا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔“ پھر فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تر و تازہ کی طرح پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔“ تو مجھے اور میرے ساتھی کو معلوم ہو گیا کہ وہ عبداللہ (بن مسعود) ہیں۔ جب میں نے صبح کی تو میں انہیں خوشخبری دینے کے لیے صبح سویرے ان کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا: تم سے پہلے ابوبکر آ چکے ہیں، اور میں نے جب بھی ان سے کسی نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کی، وہ ہمیشہ مجھ سے پہلے ہی وہاں پہنچ جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»
ترجمہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تازہ (نئے نازل ہونے) کی طرح پڑھے، تو وہ ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مَرْوَانَ، قَالَا: أَتَى رَجُلٌ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ تَرَكْتُ بِالْعِرَاقِ رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ، فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُهُ، مِرَارًا، فَقَالَ: مَا أُنَبِّئُكَ إِلَّا بِالْحَقِّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، قَالَ: فَسَكَنَ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ، ثُمَّ قَالَ: مَا أَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَرَ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِبَعْضِ حَاجَةٍ حَتَّى أَعْتَمَ، ثُمَّ رَجَعَ بَيْنِي، وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، إِذَا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُصَلِّي، فَقَامَ يَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ مَا أَدْرِي أَنَا وَصَاحِبِي مَنْ هُوَ؟ قَالَ: فَلَمَّا قَامَ سَاعَةً قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُصَلِّي لَوْ رَجَعْتَ وَقَدْ أَعْتَمْتَ، قَالَ فَغَمَزَنِي وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ، قَالَ: فَرَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَعَدَ يَدْعُو فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ» وَلَا أَدْرِي أَنَا وَصَاحِبِي مَنْ هُوَ حَتَّى سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ كَمَا يَقْرَأُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ» ، قَالَ: «فَذَلِكَ حِينَ عَلِمْتُ أَنَا وَصَاحِبِي مَنْ هُوَ» ، قَالَ: «فَغَدَوْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ لِأُبَشِّرَهُ، فَقَالَ قَدْ سَبَقَكَ أَبُو بَكْرٍ، وَايْمُ اللهِ مَا سَابَقْتُ أَبَا بَكْرٍ إِلَى خَيْرٍ إِلَّا سَبَقَنِي»
ترجمہ
…(راوی نے کہا) اس نے مجھے اشارہ کیا، اور نبی کریم ﷺ اس کی قراءت غور سے سننے لگے، (راوی نے) کہا: پھر اس نے رکوع کیا اور سجدہ کیا، پھر بیٹھ کر دعا کرنے لگا، تو نبی کریم ﷺ فرمانے لگے: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا، مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔“ مجھے اور میرے ساتھی کو معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے، یہاں تک کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تازہ کی طرح پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ اسی طرح پڑھے جیسے ابن ام عبد پڑھتے ہیں۔“ (راوی نے) کہا: ”یہی وہ وقت تھا جب مجھے اور میرے ساتھی کو معلوم ہوا کہ وہ کون ہیں۔“ (راوی نے) کہا: ”پھر میں صبح سویرے عبداللہ کے پاس گیا تاکہ انہیں خوشخبری دوں، تو انہوں نے کہا: تم سے پہلے ابوبکر آ چکے ہیں، اور اللہ کی قسم، میں نے جب بھی ابوبکر سے کسی نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کی، وہ ہمیشہ مجھ سے پہلے ہی وہاں پہنچ گئے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا فُرَاتُ بْنُ مَحْبُوبٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا بَشَّرَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ خوشخبری دی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو ویسے ہی پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ اسے ابن مسعود کی قراءت کے مطابق پڑھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بُكَيْرٍ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَائِشَةَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ النَّخَعِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ قَيْسٍ، أَوِ ابْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ وَأَبُو بَكْرٍ عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَقَامَ يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ، ثُمَّ رَكَعَ عَبْدُ اللهِ وَسَجَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ مِنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» ، قَالَ: " فَأَدْلَجْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ لِأُبَشِّرَهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا ضَرَبْتُ الْبَابَ سَمِعَ صَوْتِي فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ فَقُلْتُ: جِئْتُ أُبَشِّرُكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَبَقَكَ أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: إِنْ يَفْعَلْ فَإِنَّهُ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ، مَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ "
ترجمہ
…رسول اللہ ﷺ (کا گزر) ہوا، میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے، تو ان کا گزر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ قراءت کر رہے تھے۔ آپ ﷺ کھڑے ہو کر ان کی قراءت سننے لگے، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رکوع اور سجدہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو ویسے ہی پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ ابن ام عبد سے (سیکھ کر) پڑھے۔“ (راوی نے) کہا: چنانچہ میں رات ہی کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تاکہ انہیں وہ بات بتاؤں جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی، جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے میری آواز سن لی اور پوچھا: تمہیں کیا لایا؟ میں نے کہا: میں آپ کو وہ خوشخبری دینے آیا ہوں جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی۔ انہوں نے کہا: تم سے پہلے ابوبکر آ چکے ہیں۔ میں نے کہا: اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو وہ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے ہی ہیں، ہم نے کبھی کسی نیکی میں سبقت کی کوشش نہیں کی مگر ابوبکر ہمیشہ مجھ سے پہلے وہاں پہنچے۔
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تَرَكْتُ بِالْكُوفَةِ رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ، فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى انْتَفَخَ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ هُوَ؟، قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ، وَمَنْ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقولُ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»
ترجمہ
…تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا یہاں تک کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر انہوں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ (کسی نے) کہا: عبداللہ بن مسعود۔ انہوں نے فرمایا: تمہارے باپ کو اللہ (کی رحمت نصیب ہو)، اور اس (اعزاز) کا اس سے زیادہ حقدار کون ہو سکتا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تازہ کی طرح پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ اسے ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، ح وَحَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَاهْدُوا هَدْيَ عَمَّارٍ، وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ابوبکر اور عمر کی پیروی کرو، اور عمار کے طریقے کو اپناؤ، اور عبداللہ بن مسعود کے عہد کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللهِ حِينَ شُقَّتِ الْمَصَاحِفُ وَالْمَسْجِدُ مُمْتَلِئٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: «لَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللهُ» - قَالَ شَقِيقٌ: ثُمَّ رَأَيْتُ أَنَّهُ اسْتَحْيَى مِمَّا قَالَ - فَقَالَ: «وَمَا أَنَا بِخَيْرِهِمْ، وَلَوْ أعْلَمُ رَجُلًا أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللهُ مِنِّي تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَأَتَيْتُهُ» قَالَ شَقِيقٌ: «فَمَا فَرَغَ عَبْدُ اللهِ مِنْ خُطْبَتِهِ قَعَدْتُ فِي الْحِلَقِ لِأَسْمَعَ مَا يَقُولُونَ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مُنْكَرًا عَلَى ذَلِكَ»
ترجمہ
شقیق بیان کرتے ہیں: جب مصاحف کو پھاڑا (تلف کیا) جا رہا تھا تو سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب کیا، اور مسجد اہلِ بدر سے بھری ہوئی تھی، تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ جانتے ہیں کہ میں ان میں کتاب اللہ کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں۔“ — شقیق کہتے ہیں: پھر میں نے دیکھا کہ انہیں اپنی اس بات پر شرمندگی محسوس ہوئی — تو انہوں نے فرمایا: ”اور میں ان میں سب سے بہتر نہیں ہوں، اور اگر مجھے کوئی ایسا آدمی معلوم ہوتا جو کتاب اللہ کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہوں تو میں اس کے پاس جاتا۔“ شقیق کہتے ہیں: ”جب سیدنا عبداللہ اپنے خطبے سے فارغ ہوئے تو میں حلقوں میں بیٹھ گیا تاکہ سنوں کہ لوگ کیا کہتے ہیں، تو میں نے کسی کو بھی اس پر اعتراض کرتے نہیں سنا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ عُثْمَانُ رَضِي اللهُ عَنْهُ فِي الْمَصَاحِفِ بِمَا أَمَرَ، قَامَ عَبْدُ اللهِ فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: ١٦١] أَلَا فَغُلُّوا الْمَصَاحِفَ عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ تَأْمُرُنِي أَنْ أَقْرَأَهُ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَوَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ «لَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً» ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَتَانِ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللهِ مِنِّي لَأَتَيْتُهُ
ترجمہ
…(اللہ عزوجل) فرماتا ہے: ”اور جو کوئی خیانت کرے وہ قیامت کے دن اپنی خیانت کی ہوئی چیز کے ساتھ آئے گا“ [سورۃ آل عمران: 161]۔ سن لو! پس مصاحف کو چھپا لو۔ تم مجھے یہ حکم دیتے ہو کہ میں اسے زید بن ثابت کی قراءت کے مطابق پڑھوں؟ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کے منہ مبارک سے ستر سے کچھ زیادہ سورتیں (براہِ راست) حاصل کی ہیں، جبکہ زید بن ثابت (اس وقت) اس کی دو چوٹیاں تھیں اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اگر مجھے کوئی ایسا شخص معلوم ہوتا جو کتاب اللہ کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو تو میں اس کے پاس جاتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِي اللهُ عَنْهُ قَالَ: «وَاللهِ مَا نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ سُورَةٌ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ، وَلَا أُنْزِلَتْ مِنْهُ آيَةٌ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللهِ مِنِّي تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَأَتَيْتُهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اللہ کی قسم، قرآن کی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں نازل ہوئی، اور اس کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ کس بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے کوئی ایسا شخص معلوم ہوتا جو کتاب اللہ کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہوں تو میں اس کے پاس جاتا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: «وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا نَزَلَتْ سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا وَأَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ، وَلَا آيَةٌ وَأَعْلَمُ فِيمَنْ نَزَلَتْ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللهِ مِنِّي تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَرَكِبْتُ إِلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، قرآن کی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں نازل ہوئی، اور نہ کوئی آیت (نازل ہوئی) مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے کوئی ایسا شخص معلوم ہوتا جو کتاب اللہ کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہوں تو میں اس کی طرف سوار ہو کر جاتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَهْرَامَ، ثنا سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَا مِنْ كِتَابِ اللهِ آيَةٌ إِلَّا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ وفِيمَنْ أُنْزِلَتْ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللهِ مِنِّي تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”کتاب اللہ کی کوئی آیت ایسی نہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں نازل ہوئی اور کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے کوئی ایسا شخص معلوم ہوتا جو کتاب اللہ کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہوں تو میں اس کی طرف سفر کرتا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا فِي كِتَابِ اللهِ سُورَةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْلَمُ أَيْنَ نَزَلَتْ، وَلَا فِيهِ آيَةٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کتاب اللہ میں کوئی سورت نہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ کہاں نازل ہوئی، اور اس میں کوئی آیت نہیں مگر مجھے معلوم ہے کہ وہ کس بارے میں نازل ہوئی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ النَّخَعِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللهِ: اقْرَأْ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدٍ، قَالَ: «أتْرُكُ قِرَاءَتِي لِقِرَاءَةِ زَيْدٍ، وَقَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً، وَهُوَ غُلَامٌ لَهُ ذُؤَابَتَانِ؟»
ترجمہ
اسود بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: زید کی قراءت کے مطابق پڑھو۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا میں اپنی قراءت چھوڑ کر زید کی قراءت اپناؤں، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں، جبکہ وہ (زید) ابھی ایک لڑکا تھا جس کی دو چوٹیاں تھیں؟“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ تُغَيَّرُ سَاءَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفًا فَلْيَفْعَلْ، فَإِنَّهُ مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» وَزَيْدٌ صَبِيٌّ، أَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» وَزَيْدٌ صَبِيٌّ، أَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
ترجمہ
خمیر بن مالک بیان کرتے ہیں: جب مصاحف کو بدلنے کا حکم دیا گیا تو یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ناگوار گزری، چنانچہ انہوں نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی مصحف چھپا سکتا ہے وہ چھپا لے، کیونکہ جو کوئی کسی چیز میں خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اسے لے کر آئے گا۔“
پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے قرآن کی ستر سورتیں پڑھی ہیں، جبکہ زید ابھی بچہ تھا، تو کیا میں وہ چیز چھوڑ دوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے لی ہے؟“
پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے قرآن کی ستر سورتیں پڑھی ہیں، جبکہ زید ابھی بچہ تھا، تو کیا میں وہ چیز چھوڑ دوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے لی ہے؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» ، وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَتَانِ فِي الْكِتَابِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں“، جبکہ زید بن ثابت کی مکتب میں دو چوٹیاں تھیں (وہ ابھی بچہ تھا)۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ذُو ذُؤَابَةٍ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں“، جبکہ زید بن ثابت کی ایک چوٹی تھی اور وہ لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ، قَالَا: ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: عَلَى قِرَاءَةِ مَنْ يَأْمُرُنِي أَنْ أَقْرَأَ؟ «لَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» ، وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَصَاحِبُ ذُؤَابَةٍ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے کس کی قراءت کے مطابق پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ستر سورتیں پڑھی ہیں“، جبکہ زید بن ثابت ایک چوٹی والا لڑکا تھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، أَوِ ابْنِ شَرَاحِيلَ أَبُو مَيْسَرَةَ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَجُلٌ وَأَنَا أُصَلِّي، فَقَالَ: أَلَا أَرَاكَ تُصَلِّي وَقَدْ أُمِرَ بِكِتَابِ اللهِ فَمُزِّقَ، فَتَجَوَّزْتُ فِي صَلَاتِي وَكُنْتُ لَا أُحْبِسُ، فَدَخَلْتُ الدَّارَ وَلَمْ أُحْبَسْ، وَرَقِيتُ فَلَمْ أُحْبَسْ، فَإِذَا أَنَا بِالْأَشْعَرِيِّ، وَحُذَيْفَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ يَتَقَاوَلَانِ، وَحُذَيْفَةُ يَقُولُ لِابْنِ مَسْعُودٍ: ادْفَعْ إِلَيْهِمْ هَذَا الْمُصْحَفَ، قَالَ: لَا وَاللهِ لَا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِمْ «أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ مَرَّةً ثُمَّ أَدْفَعُهُ إِلَيْهِمْ، وَاللهِ لَا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِمْ»
ترجمہ
میں اوپر گیا تو مجھے روکا نہیں گیا، تو میں نے دیکھا کہ ابوموسیٰ اشعری، حذیفہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم آپس میں گفتگو کر رہے ہیں، اور حذیفہ رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے ہیں: ”یہ مصحف انہیں دے دو۔“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، اللہ کی قسم، میں یہ انہیں ہرگز نہیں دوں گا، رسول اللہ ﷺ نے مجھے ستر سے کچھ اوپر مرتبہ (قرآن) پڑھایا، تو کیا اب میں یہ انہیں دے دوں؟ اللہ کی قسم، میں یہ انہیں ہرگز نہیں دوں گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَزْدِيِّ، أَنَّهُ: سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «لَقَدْ تَلَقَّيْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» أَحْكَمْتُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ
ترجمہ
ابوسعد ازدی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں حاصل کیں“، اور میں نے انہیں پختہ کر لیا اس سے پہلے کہ زید بن ثابت مسلمان ہوتا، جبکہ وہ ایک چوٹی والا لڑکا تھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ الشَّدَّاخِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: عَجَبًا لِلنَّاسِ وَتَرْكِهِمْ قِرَاءَتِي وَأَخْذِهِمْ قِرَاءَةَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، «وَقَدْ أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامٌ صَاحِبُ ذُؤَابَةٍ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ میری قراءت چھوڑ کر زید بن ثابت کی قراءت اپنا رہے ہیں، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں لی ہیں“، جبکہ زید بن ثابت ایک چوٹی والا لڑکا تھا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، ثنا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «لَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً» وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَتَانِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سے کچھ اوپر سورتیں پڑھی ہیں“، جبکہ زید بن ثابت کی دو چوٹیاں تھیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «أَخَذْتُ مِنْ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً، لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں حاصل کی ہیں، ان میں مجھ سے کوئی نزاع نہیں کرتا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً» ، وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَتَانِ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ستر سے کچھ اوپر سورتیں پڑھی تھیں“، جبکہ زید بن ثابت کی دو چوٹیاں تھیں اور وہ لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا ثُوَيْرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَكَافِرٌ بِاللهِ مَا آمَنَ بِهِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں“، جبکہ زید بن ثابت اللہ کا منکر تھا، اس پر ایمان نہیں لایا تھا (یعنی ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا)۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ التَّمَّارُ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَالِمٍ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، عَنْ بَيَانَ بْنِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» وَخَتَمْتُ الْقُرْآنَ عَلَى خَيْرِ النَّاسِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِي اللهُ عَنْهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ستر سورتیں پڑھیں، اور قرآن کو لوگوں میں سب سے بہتر، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر ختم کیا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلُّوَيْهِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سِيَابَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ جَرِيرٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عِمْرَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ لَهُ: يَا أَخِي إِنَّ لَنَا مَجْلِسًا فَائْتِنَا، فَأَقْبَلْتُ إِلَيْهِ فِي مَجْلِسِهِ فَتَعَلَّمْتُ مِنْهُ سَبْعِينَ سُورَةً، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ: «أَخَذْتُهَا مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ عِنْدِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
زاذان ابوعمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”اے میرے بھائی! ہماری ایک مجلس ہے، تم بھی آیا کرو۔“ چنانچہ میں ان کی مجلس میں حاضر ہوا اور ان سے ستر سورتیں سیکھیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”میں نے یہ رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے حاصل کی ہیں، جنہیں جبریل علیہ السلام رب العالمین عزوجل کی طرف سے لے کر اترے تھے۔“
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُونِي أَنِ اقْرَأَ عَلَى قِرَاءَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «لَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم مجھے کیسے حکم دیتے ہو کہ میں زید بن ثابت کی قراءت کے مطابق پڑھوں؟“ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ» قَالَ الْحَسَنُ: " السَّوَادُ: السِّرَارُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں میرے پاس آنے کی اجازت یہ ہے کہ تم پردہ اٹھا دو، اور میری سرگوشی سن لو، یہاں تک کہ میں تمہیں روک دوں۔“ حسن کہتے ہیں: ”السواد“ سے مراد سرگوشی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ: سَمِعْتَهُمْ يَذْكُرُونَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذْنُكَ عَلَيَّ تَكْشِفُ السِّتْرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں میرے پاس آنے کی اجازت یہ ہے کہ تم پردہ اٹھا دو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، «أَنَّ عَبْدَ اللهِ رَضِي اللهُ عَنْهُ كَانَ صَاحِبَ الْوِسَادِ وَالسِّوَاكِ وَالنَّعْلَيْنِ»
ترجمہ
عبداللہ بن شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے تکیے، مسواک اور جوتوں کے ذمہ دار تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنْتُ أَجْتَنِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكًا مِنَ الْأَرَاكِ، فَكَانَتِ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ، فَكَانَ فِي سَاقَيْهِ دِقَّةٌ فَضَحِكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَضْحَكُونَ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اراک کے درخت سے مسواک توڑتا تھا، تو ہوا مجھے جھکا دیتی تھی، اور میری پنڈلیاں پتلی تھیں، تو لوگ ہنسنے لگے، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کی پنڈلیوں کی پتلاہٹ پر کیوں ہنستے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (پنڈلیاں) میزان میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہوں گی۔“
…