المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حدیث نمبر: 8420
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنْتُ أَجْتَنِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكًا مِنَ الْأَرَاكِ، فَكَانَتِ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ، فَكَانَ فِي سَاقَيْهِ دِقَّةٌ فَضَحِكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَضْحَكُونَ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اراک کے درخت سے مسواک توڑتا تھا، تو ہوا مجھے جھکا دیتی تھی، اور میری پنڈلیاں پتلی تھیں، تو لوگ ہنسنے لگے، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کی پنڈلیوں کی پتلاہٹ پر کیوں ہنستے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (پنڈلیاں) میزان میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہوں گی۔“