حدیث نمبر: 8420
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنْتُ أَجْتَنِي لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكًا مِنَ الْأَرَاكِ، فَكَانَتِ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ، فَكَانَ فِي سَاقَيْهِ دِقَّةٌ فَضَحِكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَضْحَكُونَ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اراک کے درخت سے مسواک توڑتا تھا، تو ہوا مجھے جھکا دیتی تھی، اور میری پنڈلیاں پتلی تھیں، تو لوگ ہنسنے لگے، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم اس کی پنڈلیوں کی پتلاہٹ پر کیوں ہنستے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (پنڈلیاں) میزان میں احد پہاڑ سے بھی بھاری ہوں گی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8420
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 78، حدیث 8452