المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حدیث نمبر: 8393
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تَرَكْتُ بِالْكُوفَةِ رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ، فَغَضِبَ عُمَرُ حَتَّى انْتَفَخَ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ هُوَ؟، قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: لِلَّهِ أَبُوكَ، وَمَنْ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقولُ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»ترجمہ
…تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا یہاں تک کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر انہوں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ (کسی نے) کہا: عبداللہ بن مسعود۔ انہوں نے فرمایا: تمہارے باپ کو اللہ (کی رحمت نصیب ہو)، اور اس (اعزاز) کا اس سے زیادہ حقدار کون ہو سکتا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تازہ کی طرح پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ اسے ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھے۔“