المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حدیث نمبر: 8402
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ تُغَيَّرُ سَاءَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفًا فَلْيَفْعَلْ، فَإِنَّهُ مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَقَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً» وَزَيْدٌ صَبِيٌّ، أَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ترجمہ
خمیر بن مالک بیان کرتے ہیں: جب مصاحف کو بدلنے کا حکم دیا گیا تو یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ناگوار گزری، چنانچہ انہوں نے فرمایا: ”تم میں سے جو کوئی مصحف چھپا سکتا ہے وہ چھپا لے، کیونکہ جو کوئی کسی چیز میں خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن اسے لے کر آئے گا۔“
پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے قرآن کی ستر سورتیں پڑھی ہیں، جبکہ زید ابھی بچہ تھا، تو کیا میں وہ چیز چھوڑ دوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ کے دہن مبارک سے لی ہے؟“