المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا سُلَيْمَانُ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللهِ حِينَ شُقَّتِ الْمَصَاحِفُ وَالْمَسْجِدُ مُمْتَلِئٌ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: «لَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِكِتَابِ اللهُ» - قَالَ شَقِيقٌ: ثُمَّ رَأَيْتُ أَنَّهُ اسْتَحْيَى مِمَّا قَالَ - فَقَالَ: «وَمَا أَنَا بِخَيْرِهِمْ، وَلَوْ أعْلَمُ رَجُلًا أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللهُ مِنِّي تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَأَتَيْتُهُ» قَالَ شَقِيقٌ: «فَمَا فَرَغَ عَبْدُ اللهِ مِنْ خُطْبَتِهِ قَعَدْتُ فِي الْحِلَقِ لِأَسْمَعَ مَا يَقُولُونَ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مُنْكَرًا عَلَى ذَلِكَ»شقیق بیان کرتے ہیں: جب مصاحف کو پھاڑا (تلف کیا) جا رہا تھا تو سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب کیا، اور مسجد اہلِ بدر سے بھری ہوئی تھی، تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ جانتے ہیں کہ میں ان میں کتاب اللہ کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں۔“ — شقیق کہتے ہیں: پھر میں نے دیکھا کہ انہیں اپنی اس بات پر شرمندگی محسوس ہوئی — تو انہوں نے فرمایا: ”اور میں ان میں سب سے بہتر نہیں ہوں، اور اگر مجھے کوئی ایسا آدمی معلوم ہوتا جو کتاب اللہ کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو اور اونٹ اس تک پہنچ سکتے ہوں تو میں اس کے پاس جاتا۔“ شقیق کہتے ہیں: ”جب سیدنا عبداللہ اپنے خطبے سے فارغ ہوئے تو میں حلقوں میں بیٹھ گیا تاکہ سنوں کہ لوگ کیا کہتے ہیں، تو میں نے کسی کو بھی اس پر اعتراض کرتے نہیں سنا۔“