المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8381–8485) باب: (احادیث 8381 تا 8485)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَعَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مَرْوَانَ، قَالَا: أَتَى رَجُلٌ عُمَرَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ تَرَكْتُ بِالْعِرَاقِ رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ، فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُهُ، مِرَارًا، فَقَالَ: مَا أُنَبِّئُكَ إِلَّا بِالْحَقِّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِي اللهُ عَنْهُ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، قَالَ: فَسَكَنَ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ، ثُمَّ قَالَ: مَا أَصْبَحَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَرَ فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِبَعْضِ حَاجَةٍ حَتَّى أَعْتَمَ، ثُمَّ رَجَعَ بَيْنِي، وَبَيْنَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، إِذَا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُصَلِّي، فَقَامَ يَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ مَا أَدْرِي أَنَا وَصَاحِبِي مَنْ هُوَ؟ قَالَ: فَلَمَّا قَامَ سَاعَةً قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُصَلِّي لَوْ رَجَعْتَ وَقَدْ أَعْتَمْتَ، قَالَ فَغَمَزَنِي وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ لِقِرَاءَتِهِ، قَالَ: فَرَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَعَدَ يَدْعُو فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ» وَلَا أَدْرِي أَنَا وَصَاحِبِي مَنْ هُوَ حَتَّى سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْ كَمَا يَقْرَأُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ» ، قَالَ: «فَذَلِكَ حِينَ عَلِمْتُ أَنَا وَصَاحِبِي مَنْ هُوَ» ، قَالَ: «فَغَدَوْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ لِأُبَشِّرَهُ، فَقَالَ قَدْ سَبَقَكَ أَبُو بَكْرٍ، وَايْمُ اللهِ مَا سَابَقْتُ أَبَا بَكْرٍ إِلَى خَيْرٍ إِلَّا سَبَقَنِي»…(راوی نے کہا) اس نے مجھے اشارہ کیا، اور نبی کریم ﷺ اس کی قراءت غور سے سننے لگے، (راوی نے) کہا: پھر اس نے رکوع کیا اور سجدہ کیا، پھر بیٹھ کر دعا کرنے لگا، تو نبی کریم ﷺ فرمانے لگے: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا، مانگو، تمہیں دیا جائے گا۔“ مجھے اور میرے ساتھی کو معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہے، یہاں تک کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو تازہ کی طرح پڑھے جیسا وہ نازل ہوا تھا، تو وہ اسی طرح پڑھے جیسے ابن ام عبد پڑھتے ہیں۔“ (راوی نے) کہا: ”یہی وہ وقت تھا جب مجھے اور میرے ساتھی کو معلوم ہوا کہ وہ کون ہیں۔“ (راوی نے) کہا: ”پھر میں صبح سویرے عبداللہ کے پاس گیا تاکہ انہیں خوشخبری دوں، تو انہوں نے کہا: تم سے پہلے ابوبکر آ چکے ہیں، اور اللہ کی قسم، میں نے جب بھی ابوبکر سے کسی نیکی میں سبقت لے جانے کی کوشش کی، وہ ہمیشہ مجھ سے پہلے ہی وہاں پہنچ گئے۔“