حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ حَدَّثَنِي أَبِي أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ السَّكِينَةَ، غَشِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ زَيْدٌ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ، فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ: «اكْتُبْ» فَكَتَبْتُ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥] {وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ} [النساء: ٩٥] الْآيَاتِ كُلَّهَا قَالَ: فَكَتَبْتُ ذَلِكَ فِي كَتِفٍ فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى حِينَ سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لَا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَمَا قَضَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ كَلَامَهُ أَوْ قَالَ إِلَّا أَنْ يُحْصِيَ كَلَامَهُ حَتَّى غَشِيَتْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا الثَّانِيَةَ مِثْلَ مَا وَجَدْتُ مِنْهَا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اقْرَأْ» فَقَرَأْتُ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥] فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥] قَالَ زَيْدٌ فَأَلْحَقْتُهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقَتِها عِنْدَ صَدْعٍ فِي الْكَتِفِ
ترجمہ
… تو رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر آ پڑی، اور مجھے رسول اللہ ﷺ کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز محسوس نہ ہوئی۔ پھر آپ ﷺ سے وہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”لکھو۔“ تو میں نے لکھا: ”بغیر عذر بیٹھے رہنے والے مومن اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں“ [سورۃ النساء: 95] پوری آیات۔ کہتے ہیں: میں نے اسے ایک ہڈی پر لکھا، تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، وہ نابینا تھے، جب انہوں نے بیٹھے رہنے والوں پر جہاد کرنے والوں کی فضیلت سنی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! ان مومنوں کا کیا حکم ہے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے؟ ابن ام مکتوم کی بات ابھی پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ پر سکینت طاری ہو گئی، اور آپ ﷺ کی ران دوبارہ میری ران پر آ پڑی، تو مجھے دوسری بار بھی اتنی ہی بھاری محسوس ہوئی جتنی پہلی بار ہوئی تھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے وہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”پڑھو۔“ میں نے پڑھا: ”بغیر عذر بیٹھے رہنے والے مومن“ [سورۃ النساء: 95]، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے معذوروں کے“ [سورۃ النساء: 95]۔ زید کہتے ہیں: میں نے یہ لفظ جوڑ دیا، گویا میں اب بھی اس ہڈی میں اس جگہ کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے یہ جوڑا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَشَّتْهُ أَوْ فَنَزَلَتِ السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَمَا رَأَيْتُ شَيْئًا تَوَطَّأَ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أُسْرِيَ أَوْ سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: «اقْرَأْ» فَقَرَأْتُ قَالَ: «اكْتُبْ» {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥] {وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ} [النساء: ٩٥] فَقَالَ: عَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بِعَيْنَيَّ ضَرَرًا فَغَشِيَتْهُ السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا قَطُّ أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُسْرِيَ أَوْ سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ: «اقْرَأْ» فَقَرَأْتُ قَالَ: " اكْتُبْ {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥] " فَمَا نَسِيتُ مُلْحَقِهَا عِنْدَ صَدَعٍ فِي الْكَتِفِ
ترجمہ
… سکینت طاری ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر آ پڑی، اور میں نے کوئی چیز اس سے زیادہ بھاری محسوس نہ کی جتنی رسول اللہ ﷺ کی ران بھاری محسوس ہوئی۔ پھر جب آپ ﷺ سے وہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”پڑھو۔“ میں نے پڑھا۔ فرمایا: ”لکھو: بغیر عذر بیٹھے رہنے والے مومن اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے“ [سورۃ النساء: 95]۔ اتنے میں نابینا صحابی عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری آنکھوں میں تو عذر ہے۔ اس پر آپ ﷺ پر سکینت طاری ہو گئی، اور رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر آ پڑی، تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز کبھی محسوس نہ ہوئی۔ پھر جب آپ ﷺ سے وہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”پڑھو۔“ میں نے پڑھا۔ فرمایا: ”لکھو: سوائے معذوروں کے“ [سورۃ النساء: 95]۔ میں کبھی نہیں بھولا کہ میں نے اسے ہڈی میں کہاں جوڑا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَا: ثنا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي قَوْلِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى، قَالَ: «مَسْجِدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے، اللہ عزوجل کے اس قول ”جس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی“ کے بارے میں روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”یہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى: «هُوَ مَسْجِدِي هَذَا»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس مسجد کے بارے میں پوچھا گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میری یہی مسجد ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ مِينَاءَ قَالُونُ قَالُوا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «الْقِرَاءَةُ سُنَّةٌ» زَادَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: لَا تُخَالِفُ النَّاسَ بِرَأْيِكَ
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”قراءت (قرآن کے مختلف طریقوں پر پڑھنا) سنت ہے۔“ ابن ابی مریم کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ”اپنی رائے سے لوگوں کی مخالفت مت کرو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ خَارِجَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَعَلَّمَ كِتَابَ يَهُودَ» ، قَالَ: فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ وَأَكْتُبُ إِلَيْهِمْ وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كَتَبُوا
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہودیوں کی تحریر (عبرانی رسم الخط) سیکھیں۔ وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں آپ ﷺ کے لیے لکھتا اور انہیں خط لکھتا، اور جب وہ خط لکھتے تو میں آپ ﷺ کو پڑھ کر سناتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمُوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَعَلَّمَ كِتَابَ يَهُودَ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي» فَلَمَّا تَعَلَّمْتُ كُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں یہودیوں کی تحریر سیکھوں، تو آدھا مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ میں اس میں ماہر ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہودیوں پر اپنی تحریر کے معاملے میں بھروسہ نہیں۔“ جب میں سیکھ گیا تو آپ ﷺ کے لیے خطوط لکھنے لگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ إِحْدَى عَشْرَةَ سَنَةً»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میری عمر گیارہ برس تھی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمُوَيْهِ قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَخَّصَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، أَنْ تُبَاعَ كَيْلًا بِخَرْصِهَا»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے عرایا کو ان کے اندازے کے مطابق ناپ کر بیچنے کی اجازت دی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ أَخَذَ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ «سَلَامٌ عَلَيْكَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةُ اللهِ فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَمَا بَعْدُ فَإِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ مِيرَاثِ الْجَدِّ وَالْأُخْوَةِ وَإِنَّ الْكَلَالَةَ وَكَثِيرًا مِمَّا يُقْضَى بِهِ فِي هَذِهِ الْمَوَارِيثِ لَا يَعْلَمُ مَبْلَغُهَا إِلَّا اللهُ وَقَدْ كُنَّا نَحْضُرُ مِنْ ذَلِكَ أُمُورًا عِنْدَ الْخُلَفَاءِ بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَعِينَا مِنْهَا مَا شِئْنَا أَنْ نَعِيَ فَنَحْنُ نُفْتِي بِهِ بَعْدُ مَنِ اسْتَفْتَانَا فِي الْمَوَارِيثِ»
ترجمہ
… ابن ابی زناد بیان کرتے ہیں کہ انہیں یہ خط ان کے والد نے خارجہ بن زید بن ثابت سے حاصل کیا تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم، امیر المومنین عبداللہ معاویہ کے نام، زید بن ثابت کی طرف سے: سلام ہو آپ پر، اے امیر المومنین، اور اللہ کی رحمت۔ میں آپ کے سامنے اس اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ امّا بعد! آپ نے مجھے لکھ کر دادا اور بھائیوں کی وراثت اور کلالہ (بغیر اولاد و والد کے فوت ہونے والے) کے بارے میں پوچھا ہے، اور ان میراثوں میں طے کیے جانے والے بہت سے احکام کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے بعد کے خلفاء کے پاس ان امور میں موجود رہے، تو ہم نے جو کچھ محفوظ رکھنا چاہا محفوظ رکھا، اب ہم اسی کے مطابق ان لوگوں کو فتویٰ دیتے ہیں جو ہم سے میراث کے بارے میں پوچھتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ قَبْلَ أَنْ تَطِيبَ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَطًا وَصَوْتًا عَالِيًا مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَؤُلَاءِ قَوْمٌ تَبَايَعُوا الثِّمَارَ فِي النَّخْلِ، ثُمَّ ذَكَرُوا أَنَّهُ أَصَابَهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْفَسَادُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَبَايَعُوا إِذَنْ حَتَّى تَطِيبَ»
ترجمہ
… رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ پھل کے پکنے سے پہلے ہی اس کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کا شور اور بلند آواز سنی تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ لوگ کھجور کے پھل کی خرید و فروخت کر چکے ہیں، پھر بتاتے ہیں کہ بعد میں اسے خرابی لاحق ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر جب تک وہ پک نہ جائے، خرید و فروخت مت کیا کرو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقَاضِي الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ لِإِحْرَامِهِ حَيْثُ أَحْرَمَ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھتے وقت جہاں احرام باندھا وہیں غسل کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَتَاهُ بَنُو النَّجَّارِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ مِنَّا غُلَامًا قَدْ قَرَأَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْكَ بِضْعَ عَشْرَةَ سُورَةً، «فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو بنو نجار آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں ایک لڑکا ہے جس نے آپ پر نازل شدہ قرآن میں سے دس سے کچھ زیادہ سورتیں پڑھ رکھی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور میں نے آپ ﷺ کے سامنے تلاوت کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُرْعَةَ، ثنا أَبُو غَزِيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب حدود (زمین کی سرحدیں) طے ہو جائیں تو پھر شفعہ (پڑوسی کا حقِ خریداری) باقی نہیں رہتا۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ وَلَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَا كَإِحْيَائِهِ لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ فَقِيلَ لَهُ: كَيْفَ تَخُصُّ لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ؟ فَقَالَ: «إِنَّ فِيهَا نَزَلَ الْقُرْآنُ وَفِي صَبِيحَتِهَا فُرِّقَ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَكَانَ فِيهَا يُصْبِحُ مُبْهَجَ الْوَجْهِ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ رمضان کی تئیسویں اور ستائیسویں راتوں میں عبادت کیا کرتے تھے، لیکن سترھویں رات میں ان کی عبادت کا انداز مختلف ہوتا تھا۔ ان سے پوچھا گیا: آپ سترھویں رات کو کیوں خاص کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”اسی رات میں قرآن نازل ہوا، اور اسی کی صبح حق اور باطل کے درمیان فرق کر دیا گیا، اور اس رات کے بعد آپ ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمکتا تھا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ قَالَا: ثنا فَضَالَةُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جنگ فریب کا نام ہے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسَاحِقِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مالِ غنیمت میں گھوڑے کے لیے دو حصے اور سوار کے لیے ایک حصہ مقرر کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ سَبَلَانُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلعَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} [النساء: ٩٣] بَعْدَ الْآيَاتِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْفُرْقَانِ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨] بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ "
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سورۃ النساء کی یہ آیت ”جو کوئی جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اور اللہ اس پر غضب ناک ہوا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کیا“ [سورۃ النساء: 93] سورۃ الفرقان کی ان آیات کے چھ مہینے بعد نازل ہوئی: ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے، اور جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے، اور زنا نہیں کرتے، اور جو ایسا کرے وہ گناہ کی سزا پائے گا“ [سورۃ الفرقان: 68]۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي جَهْمٍ، أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ} [الفرقان: ٦٨] عَجِبْنَا لِلِينِهَا فَلَبِثْنَا سَبْعَةَ أَشْهُرٍ ثُمَّ نَزَلَتِ الَّتِي فِي النِّسَاءِ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ} [النساء: ٩٣] حَتَّى فَرَغَ "
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب سورۃ الفرقان کی یہ آیت نازل ہوئی: ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے، اور جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل نہیں کرتے“ [سورۃ الفرقان: 68]، تو ہمیں اس کی نرمی پر تعجب ہوا۔ ہم سات مہینے اسی حال میں رہے، پھر سورۃ النساء کی یہ آیت نازل ہوئی: ”جو کوئی جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اور اللہ اس پر غضب ناک ہوا اور اس پر لعنت کی“ [سورۃ النساء: 93]، یہاں تک کہ آیت مکمل ہوئی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّفْخِ فِي السُّجُودِ، وعَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدے میں پھونک مارنے سے اور مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ مَرْوَانَ، قَالَ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، لَوْ أَنَّكَ تَرَكْتَنَا لَكَتَبْنَا عَنْكَ حَدِيثَكَ، فَقَالَ زَيْدٌ: لَا، فَأَجْلَسَ لَهُ مَرْوَانُ كَاتِبًا خَلْفَ الْقُبَّةِ، فَجَعَلَ هُوَ يَسْأَلُ زَيْدًا وَيَكْتُبُ الْكَاتِبُ مَا يُحَدِّثُ بِهِ زَيْدٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ ظَفِرْنَا بِمَا أَبَيْتَ قَالَ: وَاللهِ لَا أَرْمِي حَتَّى أُوتَى بِهِ. فَجَاءَ بِالْكِتَابِ فَشَقَّهُ، وَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَكْتُبَ حَدِيثَهُ»
ترجمہ
… کسی نے کہا: اے ابوسعید! ہمیں تو لگتا ہے کہ ہم اس چیز میں کامیاب ہو گئے ہیں جس سے آپ انکار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک نہیں ہٹوں گا جب تک وہ تحریر میرے پاس نہ لائی جائے۔ چنانچہ وہ تحریر لائی گئی، تو انہوں نے اسے پھاڑ دیا اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنی حدیث لکھنے سے منع فرمایا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَمِّي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔“
ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يُونُسِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَبِي عَنْ رَجُلٍ يَغْزُو وَيَبِيعُ وَيُشْتَرِي وَيَتَّجِرُ فِي غَزْوَتِهِ؟ فَقَالَ لَهُ أَبِي: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ نَشْتَرِي وَنَبِيعُ وَهُوَ يَرَانَا فَمَا يَنْهَانَا»
ترجمہ
… خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے میرے والد سے پوچھا کہ ایک آدمی جہاد پر جاتا ہے اور اسی سفر میں خرید و فروخت اور تجارت بھی کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ میرے والد نے اس سے کہا: ”ہم تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خرید و فروخت کیا کرتے تھے، اور آپ ﷺ ہمیں دیکھتے تھے مگر ہمیں منع نہیں فرماتے تھے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوَارِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْرَمَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «لَيْسَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ بِالْيَوْمِ الَّذِي يَقُولُهُ النَّاسُ، إِنَّمَا كَانَ يَوْمَ تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ وتَقْلِسُ فِيهِ الْحَبَشَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَدُورُ فِي السَّنَةِ، فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَ فُلَانًا الْيَهُودِيَّ، فَيَسْأَلُونَهُ، فَلَمَّا مَاتَ الْيَهُودِيُّ أَتَوْا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”عاشوراء کا دن وہ نہیں جسے لوگ عام طور پر کہتے ہیں، بلکہ یہ وہ دن ہے جس میں کعبہ کو غلاف پہنایا جاتا تھا اور حبشی رسول اللہ ﷺ کے سامنے رقص کیا کرتے تھے، اور یہ دن سال میں گھومتا رہتا تھا۔“ لوگ اس بارے میں ایک یہودی سے پوچھا کرتے تھے، جب وہ یہودی فوت ہو گیا تو لوگ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھنے لگے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى الْعَدَوِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلَهُ أَرْضًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَكَتَبَ لَهُ بِهَا، فَأَسْلَمَ، ثُمَّ أَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ لَهُمْ: أَسْلِمُوا، فَقَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ رَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةَ مَنْ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ "
ترجمہ
… ایک عرب آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے دو پہاڑوں کے درمیان کی زمین مانگی، تو آپ ﷺ نے اسے وہ زمین لکھ دی۔ وہ اسلام لے آیا، پھر اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا: اسلام لے آؤ، میں تمہارے پاس اس شخص کی طرف سے آیا ہوں جو اس طرح عطیہ دیتا ہے جیسے اسے مفلسی کا کوئی خوف نہ ہو۔