المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الزناد، عن خارجة بن زيد بن ثابت باب: ابوزناد کی خارجہ بن زید بن ثابت سے روایات
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالُوا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ حَدَّثَنِي أَبِي أَبُو الزِّنَادِ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ السَّكِينَةَ، غَشِيَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ زَيْدٌ: وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ، فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ فَقَالَ: «اكْتُبْ» فَكَتَبْتُ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥] {وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ} [النساء: ٩٥] الْآيَاتِ كُلَّهَا قَالَ: فَكَتَبْتُ ذَلِكَ فِي كَتِفٍ فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى حِينَ سَمِعَ فَضِيلَةَ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لَا يَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَمَا قَضَى ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ كَلَامَهُ أَوْ قَالَ إِلَّا أَنْ يُحْصِيَ كَلَامَهُ حَتَّى غَشِيَتْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ فَوَقَعَتْ فَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِهَا الثَّانِيَةَ مِثْلَ مَا وَجَدْتُ مِنْهَا فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى ثُمَّ سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اقْرَأْ» فَقَرَأْتُ {لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} [النساء: ٩٥] فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ} [النساء: ٩٥] قَالَ زَيْدٌ فَأَلْحَقْتُهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُلْحَقَتِها عِنْدَ صَدْعٍ فِي الْكَتِفِزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بیٹے خارجہ رحمہ اللہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر سکینت (وحی کی کیفیت) طاری ہوئی۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اور میں آپ ﷺ کے پہلو میں تھا، تو رسول اللہ ﷺ کی ران میری ران پر آ پڑی، اور مجھے رسول اللہ ﷺ کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز محسوس نہ ہوئی۔ پھر آپ ﷺ سے وہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”لکھو۔“ تو میں نے لکھا: ”مومنوں میں سے بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں“ [سورۃ النساء: 95] پوری آیات۔ کہتے ہیں: میں نے اسے ایک ہڈی پر لکھا، تو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، وہ نابینا تھے، جب انہوں نے بیٹھے رہنے والوں پر جہاد کرنے والوں کی فضیلت سنی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! ان مومنوں کا کیا حکم ہے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے؟ ابن ام مکتوم کی بات ابھی پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ پر سکینت طاری ہو گئی، اور آپ ﷺ کی ران دوبارہ میری ران پر آ پڑی، تو مجھے دوسری بار بھی اتنی ہی بھاری محسوس ہوئی جتنی پہلی بار ہوئی تھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے وہ کیفیت دور ہوئی تو فرمایا: ”پڑھو۔“ میں نے پڑھا: ”مومنوں میں سے بیٹھ رہنے والے برابر نہیں“ [سورۃ النساء: 95]، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے معذوروں کے“ [سورۃ النساء: 95]۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ لفظ جوڑ دیا، گویا میں اب بھی ہڈی کی دراڑ کے پاس اس جگہ کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے یہ جوڑا تھا۔