حدیث نمبر: 4857
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوَارِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَخْرَمَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «لَيْسَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ بِالْيَوْمِ الَّذِي يَقُولُهُ النَّاسُ، إِنَّمَا كَانَ يَوْمَ تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ وتَقْلِسُ فِيهِ الْحَبَشَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَدُورُ فِي السَّنَةِ، فَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَ فُلَانًا الْيَهُودِيَّ، فَيَسْأَلُونَهُ، فَلَمَّا مَاتَ الْيَهُودِيُّ أَتَوْا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلُوهُ»
ترجمہ

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ”عاشوراء کا دن وہ نہیں جسے لوگ عام طور پر کہتے ہیں، بلکہ یہ وہ دن ہے جس میں کعبہ کو غلاف پہنایا جاتا تھا اور حبشی رسول اللہ ﷺ کے سامنے رقص کیا کرتے تھے، اور یہ دن سال میں گھومتا رہتا تھا۔“ لوگ اس بارے میں ایک یہودی سے پوچھا کرتے تھے، جب وہ یہودی فوت ہو گیا تو لوگ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھنے لگے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4857
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 138، حدیث 4876