حدیث نمبر: 4856
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يُونُسِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَبِي عَنْ رَجُلٍ يَغْزُو وَيَبِيعُ وَيُشْتَرِي وَيَتَّجِرُ فِي غَزْوَتِهِ؟ فَقَالَ لَهُ أَبِي: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ نَشْتَرِي وَنَبِيعُ وَهُوَ يَرَانَا فَمَا يَنْهَانَا»
ترجمہ

… خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے میرے والد سے پوچھا کہ ایک آدمی جہاد پر جاتا ہے اور اسی سفر میں خرید و فروخت اور تجارت بھی کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ میرے والد نے اس سے کہا: ”ہم تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خرید و فروخت کیا کرتے تھے، اور آپ ﷺ ہمیں دیکھتے تھے مگر ہمیں منع نہیں فرماتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4856
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 137، حدیث 4875