کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: زہری کی خارجہ بن زید کے واسطے سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ زَيْدٌ: " لَمَّا كَتَبْنَا الْمَصَاحِفَ، فَقَدْتُ آيَةً كُنْتُ أَسْمَعُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهَا عِنْدَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: ٢٣] " قَالَ: «وَكَانَ خُزَيْمَةُ يُدْعَى ذَا الشَّهَادَتَيْنِ»
ترجمہ
… تو میں نے وہ آیت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی: ”مومنوں میں کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے گئے عہد کو سچا کر دکھایا، پھر ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی انتظار میں ہے، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی“ [سورۃ الاحزاب: 23]۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اور خزیمہ رضی اللہ عنہ کو ذوالشہادتین (دو گواہیوں والا) کہا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا، أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالَا: سَمِعْنَا إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ: " فَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْتُ الْمُصْحَفَ، وَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُهَا، فَالْتَمَسْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] فَأَلْحَقْتُهَا فِي سُورَتِهَا مِنَ الْمُصْحَفِ "
ترجمہ
خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: جب میں قرآن کی کتابت کر رہا تھا تو سورۃ الاحزاب کی ایک آیت مجھے نہ ملی، حالانکہ میں رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت پڑھتے سنا کرتا تھا۔ میں نے اسے تلاش کیا تو یہ سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی: ”مومنوں میں کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے گئے عہد کو سچا کر دکھایا“ [سورۃ الاحزاب: 23]، تو میں نے اسے اس کی سورت میں قرآن کے نسخے میں جوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْيَمَامَةَ أُصِيبَ مِمَّنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ نَاسٌ كَثِيرٌ، فَذَكَرَ نَحْوَ أَرْبَعِمِائَةٍ، فَجِئْتُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كَانتْ وَقْعَةٌ أُخْرَى يَذْهَبُ الْقُرْآنُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا أَنَا بِمُغَيِّرٍ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ مَا نُغَيِّرُ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهٌ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قُلْتُ: فَمَا عَلَيْكُمْ؟ فَقَالَا: مَا عَلَيْنَا صَدَقْتَ، فَكَتَبَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْجَرِيدِ وَالْأَكْتَافِ "
ترجمہ
خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جب یمامہ کا دن ہوا تو قرآن پڑھنے والوں میں سے بہت سے لوگ شہید ہو گئے، تقریباً چار سو کا ذکر کیا۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اگر کوئی اور جنگ ہو گئی تو قرآن سینوں سے جاتا رہے گا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں وہ کام نہیں کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔“ پھر انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بلایا، انہوں نے بھی یہی کہا: ہم وہ کام نہیں کریں گے جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: تو اس میں تمہارا کیا نقصان ہے؟ ان دونوں نے کہا: ہمارے لیے کوئی نقصان نہیں، تم نے سچ کہا۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے کھجور کے پتوں اور اونٹوں کے شانے کی ہڈیوں پر لکھوا لیا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قُتِلُوا يَوْمَ الْيَمَامَةِ تَهَافَتُوا كَمَا تَتَهافَتِ الْفِرَاشُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
ترجمہ
… عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: بے شک رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے جب یمامہ کے دن لوگ شہید ہوئے تو وہ اس طرح گر رہے تھے جیسے پروانے گرتے ہیں (پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی)۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَطْلُعَ الثُّرَيَّا ويَبْدُوَ صَلَاحُهَا»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پھل اس وقت تک مت بیچو جب تک ثریا (ستارہ) طلوع نہ ہو جائے اور اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ الْمَرْوَزِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا الثِّمَارَ حَتَّى يَطْلُعَ الثُّرَيَّا»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھل اس وقت تک مت بیچو جب تک ثریا طلوع نہ ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ مَنْدَهَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبِيعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پھل اس وقت تک مت بیچو جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنٌ أَيُّوبَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرایا کو خشک اور تر کھجور کے بدلے بیچنے کی اجازت دی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو الْهَيْثَمِ خَالِدُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ حِينَ يَضْطَجِعُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَى الْأَهْلِ وَالْمَوْلَى، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَيَّ رَحِمٌ قَطَعْتُهَا»
ترجمہ
… سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لیٹتے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اپنے گھر والوں اور غلاموں کی خوشحالی مانگتا ہوں، اور تیری پناہ چاہتا ہوں کہ کوئی رشتہ داری جسے میں نے توڑا ہو، مجھ پر بددعا کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ - لَا أَدْرِي ذَكَرَ أَبَاهُ أَمْ لَا -: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے (یا ان کا ذکر کیے بغیر خارجہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرایا کو خشک اور تر کھجور کے بدلے بیچنے کی اجازت دی۔