کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج کی اپنے دادا سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْخَلِيفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَابَ الْقَوْمُ إِبِلًا وَغَنَمًا، فَعَجِلُوا فَأَغْلَوْا بِهِ الْقُدُورَ، فَانْتَهَى إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَكُفِئَتْ، فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ، قَالَ: وَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» ثُمَّ أَتَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَخَافُ أَوْ نَرْجُو أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللهِ فَكُلُوا لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشِ ". قَالَ رَافِعٌ: ثُمَّ إِنَّ نَاضِحًا تَرَدَّى فِي بِئْرٍ بِالْمَدِينَةِ، فَذُكِّيَ مِنْ قِبَلِ شَاكِتَلِهِ - يَعْنِي خَاصِرَتَهُ -، فَأَخَذَ مِنْهُ عُمَرُ عَشِيرًا بِدِرْهَمٍ
ترجمہ
…پھر آپ ﷺ نے دیگوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا، پھر دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر شمار کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، تو ایک شخص نے اسے تیر مار کر روک لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان جانوروں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جو تم پر قابو نہ آئے اس کے ساتھ یہی کرو۔“ پھر سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں خدشہ ہے، یا ہمیں امید ہے، کہ ہم دشمن سے مقابلہ کریں گے، اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوگی، تو کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لو، سوائے دانت اور ناخن کے، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر ایک پانی ڈھونے والا اونٹ مدینہ کے ایک کنویں میں گر گیا، تو اسے اس کی کوکھ کی طرف سے ذبح کیا گیا - یعنی اس کی پسلی کے پاس سے -، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے ایک درہم کے عوض دسواں حصہ خریدا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّا نَرْجُو أَنْ نَلْقَى عَدُوَّنَا، فَعَسَى أَنْ لَا يَكُونَ مَعَنَا بَعْضُ الْعِدَّةِ مِمَّا يُصْلِحُنَا، أَفَنَأْكُلُ كُلَّ ذَبِيحَةِ الْقَصَبَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ كُلُّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ ذَكَاةٌ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں امید ہے کہ ہم اپنے دشمن سے مقابلہ کریں گے، اور ممکن ہے ہمارے پاس ہماری ضرورت کا کچھ سامان نہ ہو، تو کیا ہم بانس سے ذبح کیا ہوا (جانور) کھا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جو چیز بھی خون بہا دے وہ ذبح ہی شمار ہوگی، سوائے دانت اور ناخن کے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى قَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ " وَأَصَابَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبِلًا فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْهَا، فَرَمَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ شَيْءٌ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنَ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ،. قَالَ: وَحَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْهُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ سُفْيَانَ هَذَا الْحَرْفَ
ترجمہ
…اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کو کچھ اونٹ ملے، تو ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، ایک شخص نے اسے تیر مار کر روک لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان اونٹوں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جو تم پر قابو نہ آئے اس کے ساتھ یہی کرو۔“ راوی کہتے ہیں: اور نبی کریم ﷺ مالِ غنیمت کی تقسیم میں دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر شمار فرماتے تھے۔
(راوی) کہتے ہیں: اور مجھے یہ سفیان نے بھی بیان کیا، محمد کہتے ہیں: میں نے سفیان سے یہ الفاظ خود سنے ہیں۔
(راوی) کہتے ہیں: اور مجھے یہ سفیان نے بھی بیان کیا، محمد کہتے ہیں: میں نے سفیان سے یہ الفاظ خود سنے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ وَقَدْ جَاعَ الْقَوْمُ فَأَصَابُوا غَنَمًا وَإِبِلًا وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا فَصَنَعُوا الْقُدُورَ فَانْتَهَى إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَكُفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشْرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ جَمَلٌ فَنَدَّ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» ، فَقُلْنَا: إِنَّا نَخَافُ أَوْ نَرْجُو أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ»
ترجمہ
…اور لوگوں میں ایک اونٹ تھا جو بھاگ نکلا، لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر تھک گئے، تو ایک شخص نے اس پر تیر پھینکا اور اسے روک لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان جانوروں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جو تم سے بدک جائے اس کے ساتھ یہی کرو۔“ ہم نے عرض کیا: ہمیں خدشہ ہے، یا امید ہے، کہ ہم کل دشمن سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوگی، تو کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لو، سوائے دانت اور ناخن کے، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَأُصِيبَ إِبِلٌ وَغَنَمٌ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا فَصَنَعُوا الْقُدُورَ، فَدَفَعَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ جَمَلٌ يَسْتَنُّ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ الْبَهَائِمَ لَهَا أَوَابِدُ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» ، قَالَ جَدِّي: إِنَّا لَنَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ "
ترجمہ
…پھر آپ ﷺ نے تقسیم فرمائی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر شمار کیا، لوگوں میں ایک اونٹ بدکنے لگا، لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر تھک گئے، تو ایک شخص نے اس پر تیر پھینکا اور اسے روک لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان جانوروں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جو تم سے بدک جائے اس کے ساتھ یہی کرو۔“ میرے دادا (سیدنا رافع رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: ہمیں امید ہے، یا خدشہ ہے، کہ ہم کل دشمن سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوگی، تو کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لو، سوائے دانت اور ناخن کے، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فُكُّوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ وَلَا ظُفُرٌ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ "
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کل دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو کھا لو، جب تک وہ دانت یا ناخن نہ ہو، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ عِيسَى الْكُوفِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَانْطَلَقَ أُنَاسٌ فِي سَرَعَانِ النَّاسِ، فَذَبَحُوا وَنَصَبُوا قُدُورَهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَرَأَى الْقُدُورَ قَدْ نُصِبَتْ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَبَحُوا وطَبَخُوا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ، فَكُفِئَتْ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغَنَائِمِ، فَقُسِمَتْ، فَجَعَلَ مَكَانَ كُلِّ بَعِيرٍ عَشْرَ شِيَاهٍ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ نَدَّ بَعِيرٌ مِنْهَا، فَطَلَبَهُ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا» ، ثُمَّ قَالَ جَدِّي: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْمُشْرِكِينَ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، إِلَّا سِنًّا أَوْ ظُفُرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ "
ترجمہ
…چنانچہ کچھ لوگ جلدی کرنے والوں میں شامل ہو کر آگے بڑھے اور تقسیم سے پہلے ہی جانور ذبح کر کے اپنی دیگیں چڑھا دیں۔ رسول اللہ ﷺ جو لوگوں کے پیچھے تھے، وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ دیگیں چڑھی ہوئی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! انہوں نے ذبح اور پکا لیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دیگوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا، پھر آپ ﷺ نے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم دیا، تو اسے تقسیم کیا گیا اور ہر اونٹ کے بدلے دس بکریاں مقرر کیں۔ راوی کہتے ہیں: ہم اسی حال میں تھے کہ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، ایک شخص نے اس کا پیچھا کیا تو دوسرے شخص نے اسے تیر مار کر روک لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان اونٹوں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جو تم پر قابو نہ آئے اس کے ساتھ یہی کرو۔“ پھر میرے دادا (سیدنا رافع رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں خدشہ ہے کہ ہم کل مشرکین سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوگی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لو، سوائے دانت یا ناخن کے، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُبَابِ الْحِمْيَرِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَعِيرًا مِنَ إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَدَّ فَطَلَبُوهُ، فَلَمَّا أَعْيَاهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهُ رَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَأَصَابَ مَقْتَلَهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ أَكْلِهِ، فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ فَقَالَ: «إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا خَشِيتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَاصْنَعُوا بِهِ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ بِهَذَا ثُمَّ كُلُوهُ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ کو خبر ملی کہ صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی، جب وہ اسے پکڑنے سے عاجز آ گئے تو ایک شخص نے اسے تیر مار کر مار ڈالا، تو انہوں نے آپ ﷺ سے اسے کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے اسے کھانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”ان (اونٹوں) میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جب تم ان میں سے کسی سے یہ خدشہ محسوس کرو تو اس کے ساتھ ویسا ہی کرو جیسا تم نے اس کے ساتھ کیا، پھر اسے کھا لو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَبِيبُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا غَزَاةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُصَبِّحُ الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، اذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ وَكُلْ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ، فَأَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ "
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کل صبح ہم دشمن پر حملہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں، تو کیا ہم بانس یا چقماق پتھر سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ، سوائے دانت اور ناخن کے، دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ودَاهِرُ بْنُ نُوحٍ، قَالَا: ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنُ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصَبْنَا إِبِلًا فَنَدَّ مِنْهَا بعير فَرَمَيْنَاهُ بِالنَّبْلِ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا نَدَّ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ ذَلِكَ وَكُلُوهُ» .
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں (مالِ غنیمت میں) کچھ اونٹ ملے، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، تو ہم نے اسے تیروں سے مار ڈالا، پھر ہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان اونٹوں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جو ان میں سے بدک جائے اس کے ساتھ یہی کرو اور اسے کھا لو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَعَجِلَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَذَبَحُوا وَنَحَرُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ، فَدَفَعَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُدُورُ تَغْلِي، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ، فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، فَنَدَّ بَعِيرٌ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ فَأَهْوَى لَهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ذوالحلیفہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، لوگوں کو بھوک لگی تو ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں، اور نبی کریم ﷺ لوگوں کے پیچھے تھے، جلدی کرنے والے لوگوں نے جلدی سے ذبح اور نحر کر کے دیگیں چڑھا دیں، جب نبی کریم ﷺ ان تک پہنچے تو دیگیں ابل رہی تھیں، آپ ﷺ نے حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا، پھر آپ ﷺ نے تقسیم فرمائی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر شمار کیا، پھر ایک اونٹ بھاگ نکلا، لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر تھک گئے، تو ایک شخص نے اس پر تیر پھینکا اور اسے روک لیا - پھر راوی نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے - پھر راوی نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَقُلْنَا: إِنَّا نُصَبِّحُ الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ شَيْءٍ أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفُرًا، فَإِنَّ السِّنَّ: عَظْمٌ، وَإِنَّ الظُّفُرَ: مُدَى الْحَبَشَةِ "
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ایک غزوے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم نے عرض کیا: کل صبح ہم دشمن پر حملہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھاؤ، جب تک وہ دانت یا ناخن نہ ہو، کیونکہ دانت ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا لَيْثٌ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ، قَالَ: أَصَبْنَا غَنَمًا فَقَسَمْنَاهَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى فَرَسِهِ فَطَعَنَهُ بِرُمْحٍ أَوْ ضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا نَدَّ مِنْهَا شَيْءٌ فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» ، فَقَالَ رَجُلٌ: كُنَّا نَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعِصِيِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْهِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ أَوْ ظُفُرٌ، فَإِنَّ السِّنَّ: عَظْمٌ، وَإِنَّ الظُّفُرَ: مُدَى الْحَبَشَةِ "
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں بکریاں ملیں جنہیں ہم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر تقسیم کیا، ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، تو ایک شخص نے اپنے گھوڑے پر اس کا پیچھا کیا اور اسے نیزے سے وار کیا یا تلوار سے مارا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان اونٹوں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جب ان میں سے کوئی بدک جائے تو اس کے ساتھ یہی کرو۔“ ایک شخص نے کہا: ہم چقماق پتھر اور لکڑی کی کچی چھڑی سے ذبح کر لیا کرتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز سے چاہو خون بہاؤ، جب تک وہ دانت یا ناخن نہ ہو، کیونکہ دانت ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ الْحَدِيثَ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوسفیان، صفوان بن امیہ، عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس کو (مالِ غنیمت میں سے تالیفِ قلب کے طور پر) عطا فرمایا - اور پوری حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ ثَوْرٍ الْجُذَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بخار جہنم کی تپش میں سے ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بخار جہنم کے جوش میں سے ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا:، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بخار جہنم کی تپش میں سے ہے، اسے ٹھنڈے پانی سے بجھاؤ۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بخار جہنم کی تپش میں سے ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ نُعَيْمَانَ فَجَعَلَ يَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ إِلَهَ النَّاسِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ابنِ نعیمان کے پاس تشریف لائے تو یہ دعا فرمانے لگے: ”تکلیف دور فرما، اے لوگوں کے رب، اے لوگوں کے معبود۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُي، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّدَقَةُ تَسُدُّ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ السُّوءِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ برائی کے ستر دروازے بند کر دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْليُّ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا وَيَدُ الْآخِذِ السُّفْلَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دینے والے کا ہاتھ اوپر ہے اور لینے والے کا ہاتھ نیچے، قیامت تک۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ فِيمَا أُحِلَّ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان اپنی ان شرطوں کے پابند ہیں جو حلال کے دائرے میں ہوں۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبَى سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ تَرَكَ حِينَ مَاتَ جَارِيَةً، وَنَاضِحًا، وَعَبْدًا حَجَّامًا، وَأَرْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَارِيَةِ: «نَهَى عَنْ كَسْبِهَا» ، وَقَالَ فِي الْحَجَّامِ: «مَا أَصَابَ فَاعْلِفْهُ النَّاضِحَ» ، وَقَالَ فِي الْأَرْضِ: «ازْرَعْهَا»
ترجمہ
…عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج رحمہ اللہ اپنے دادا (سیدنا رافع رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ ان کی وفات پر انہوں نے ایک لونڈی، ایک پانی ڈھونے والا اونٹ، ایک پچھنا لگانے والا غلام اور ایک زمین چھوڑی، تو رسول اللہ ﷺ نے لونڈی کے بارے میں فرمایا: ”اس کی کمائی سے منع فرمایا“، اور پچھنا لگانے والے کے بارے میں فرمایا: ”جو کچھ وہ کمائے وہ پانی ڈھونے والے اونٹ کو کھلا دو“، اور زمین کے بارے میں فرمایا: ”اسے کاشت کرو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، قَالَ: مَاتَ رِفَاعَةُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ عَبْدًا حَجَّامًا، وجَمَلًا نَاضِحًا، وَأَرْضًا، فَقَالَ: «أَمَّا الْحَجَّامُ فَلَا تَأْكُلُوا مِنْ كَسْبِهِ وَأَطْعِمُوهُ النَّاضِحَ» قَالُوا: الْأَمَةُ تَكْسِبُ، قَالَ: «لَا تَأْكُلْ مِنْ كَسْبِ الْأَمَةِ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَبْتَغِيَ بِفَرْجِهَا»
ترجمہ
عبایہ بن رفاعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: رفاعہ رضی اللہ عنہ کی وفات نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ہوئی اور انہوں نے ایک پچھنا لگانے والا غلام، ایک پانی ڈھونے والا اونٹ اور ایک زمین چھوڑی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رہا پچھنا لگانے والا، تو اس کی کمائی مت کھاؤ، بلکہ وہ کمائی پانی ڈھونے والے اونٹ کو کھلا دو۔“ لوگوں نے کہا: لونڈی بھی کماتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لونڈی کی کمائی مت کھاؤ، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہ کے ذریعے کمائے گی۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَاتَ أَبِي وَتَرَكَ أَرْضًا، وَتَرَكَ جَارِيَةً وَغُلَامًا حَجَّامًا، وَنَاضِحًا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ: «ازْرَعُوهَا أَوِ امْنَحُوهَا» وَنَهَاهُمْ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ وَقَالَ: «أَعْلِفُوا كَسْبَ الْحَجَّامِ النَّاضِحَ»
ترجمہ
عبایہ بن رفاعہ رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (رفاعہ) کی وفات ہوئی اور انہوں نے زمین، ایک لونڈی، ایک پچھنا لگانے والا غلام اور ایک پانی ڈھونے والا اونٹ چھوڑا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس بارے میں آئے، آپ ﷺ نے انہیں زمین کے بارے میں فرمایا: ”اسے کاشت کرو یا کسی کو عطیہ دے دو“، اور انہیں لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا اور فرمایا: ”پچھنا لگانے والے کی کمائی پانی ڈھونے والے اونٹ کو کھلاؤ۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَاللَّفْظُ لِشُجَاعٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، أَنَا أَبُو بَلْجٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، أَنَّ جَدَّهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ أَمَةً تَغُلُّ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ كَسْبَ الْأَمَةِ وَقَالَ: «لَعَلَّهَا لَا تَجِدُ شَيْئًا فَتَبْتَغِيَ بِنَفْسِهَا» . وَقَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي إِسْنَادِهِ: ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ
ترجمہ
عبایہ بن رفاعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا (سیدنا رافع رضی اللہ عنہ) کی وفات ہوئی اور انہوں نے ایک کمانے والی لونڈی چھوڑی، تو یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی گئی، آپ ﷺ نے لونڈی کی کمائی کو ناپسند فرمایا اور فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ اسے کچھ نہ ملے تو وہ اپنی ذات کے ذریعے کمائے۔“
ابن ابی شیبہ نے اپنی سند میں یوں بیان کیا ہے: ہشیم نے ابوبلج سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع انصاری سے روایت کی۔
ابن ابی شیبہ نے اپنی سند میں یوں بیان کیا ہے: ہشیم نے ابوبلج سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع انصاری سے روایت کی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: «هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ» ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا ثَلَاثًا اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا الشَّهْرِ، وَخَيْرِ الْقَدَرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ» ، ثَلَاثَةَ مَرَّاتٍ
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ جب چاند دیکھتے تو فرماتے: ”یہ خیر و ہدایت کا چاند ہے۔“ پھر فرماتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی مانگتا ہوں“ - تین بار - ”اے اللہ! میں تجھ سے اس مہینے کی بھلائی اور تقدیر کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ یہ دعا تین بار فرماتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ بَقِيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَنَانٍ الْحِمْصِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، قَالُوا: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو مُدْرِكٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تَحَدَّثُوا وَلْيَتَبَوَّأْ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَنَكْتُبُهَا، فَقَالَ: «اكْتُبُوا وَلَا حَرَجَ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”(میری) باتیں بیان کرو، اور جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے کچھ باتیں سنتے ہیں تو انہیں لکھ لیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لکھ لو، کوئی حرج نہیں۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ هُودٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا الْمَسْعُودُ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الْكَسْبِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا: کون سی کمائی سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے ہاتھ سے کیا ہوا کام، اور ہر پاکیزہ تجارت۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، أَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوْ مَلَكٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَيْفَ تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ قَالَ: «هُمْ أَفَاضِلُ النَّاسِ» قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جبریل علیہ السلام - یا کوئی فرشتہ - نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: آپ اہلِ بدر کو اپنے درمیان کیسا شمار کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سب سے افضل لوگ ہیں۔“ جبریل علیہ السلام نے کہا: اسی طرح فرشتوں میں سے جو بدر میں شریک ہوئے وہ بھی افضل ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «لَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَاتَلِ صَاحِبِكُمْ؟» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودٌ وَهُمْ يَجْتَرِؤُونَ عَلَى مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ هَذَا، قَالَ: «فَاخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلِفُوهُمْ» فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدَهُ
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انصار میں سے ایک شخص خیبر میں قتل شدہ پایا گیا، تو اس کے وارث رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور یہ واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے قاتل کی گواہی دے سکیں؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہاں کوئی مسلمان موجود نہ تھا، وہاں صرف یہود تھے، اور وہ اس سے بھی بڑے جرائم کی جرأت رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان میں سے پچاس افراد چن کر ان سے قسم لو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے ان کی دیت ادا فرمائی۔