المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج، عن جده رافع باب: عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج کی اپنے دادا سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4392
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَاتَ أَبِي وَتَرَكَ أَرْضًا، وَتَرَكَ جَارِيَةً وَغُلَامًا حَجَّامًا، وَنَاضِحًا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ: «ازْرَعُوهَا أَوِ امْنَحُوهَا» وَنَهَاهُمْ عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ وَقَالَ: «أَعْلِفُوا كَسْبَ الْحَجَّامِ النَّاضِحَ»ترجمہ
عبایہ بن رفاعہ رحمہ اللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میرے والد (رفاعہ) کی وفات ہوئی اور انہوں نے زمین، ایک لونڈی، ایک پچھنا لگانے والا غلام اور ایک پانی ڈھونے والا اونٹ چھوڑا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس بارے میں آئے، آپ ﷺ نے انہیں زمین کے بارے میں فرمایا: ”اسے کاشت کرو یا کسی کو عطیہ دے دو“، اور انہیں لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا اور فرمایا: ”پچھنا لگانے والے کی کمائی پانی ڈھونے والے اونٹ کو کھلاؤ۔“