کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ہریر بن عبدالرحمن بن رافع بن خدیج کی اپنے دادا سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَا: ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، ثنا هُرَيْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ: «نَوِّرْ بِالْفَجْرِ قَدْرَ مَا يُبْصِرُ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”فجر کی نماز اتنی روشنی میں پڑھاؤ کہ لوگ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ سکیں۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَوِّرُوا بِالْفَجْرِ قَدْرَ مَا يُبْصِرُ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”فجر کی نماز اتنی روشنی میں پڑھو کہ لوگ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہ دیکھ سکیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ هُرَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ وَهُوَ مُزْدَرِعٌ، فَسَأَلَهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْأَرْضَ لِآلِ أُسَيْدٍ، فَكَارَاهَا مِنْهُمْ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ يَأْخُذَ كِرَاءَهُ مِنْهُمْ وَيُؤَدِّيَ إِلَيْهِمْ إِتَاءَ أَرْضِهِمْ» . «وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ» . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: " وَالْإِتَاءُ: هُوَ الْقِيمَةُ، قِيمَةُ مَا يَخْرُجُ "
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ اس (سیدنا رافع رضی اللہ عنہ) کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کھیتی کر رہے تھے، آپ ﷺ نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ زمین آلِ اسید کی ہے، اور انہوں نے اسے ان سے کرایہ پر لیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان سے اپنا کرایہ وصول کر کے انہیں ان کی زمین کی پیداوار کی قیمت ادا کر دیں۔ - یہ الفاظ احمد بن صالح کے ہیں - احمد بن صالح کہتے ہیں: اِتاء سے مراد قیمت ہے، یعنی جو کچھ پیدا ہو اس کی قیمت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا رِفَاعَةُ بْنُ هُرَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِئْتُ أَنَا وِالْخَطْمِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ بَدْرًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ مَعَكَ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ يَدَهُ وَيَقُولُ: «إِنِّي أَسْتَصْغِرُكَ، وَلَا أَدْرِي مَا تَصْنَعُ إِذَا لَقِيتَ الْقَوْمَ؟» ، فَقُلْتُ: أَتَعْلَمُ أَنْ أَرْمِيَ مَنْ رَمَى؟، فَرَدَّنِي فَلَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور خطمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، جبکہ آپ ﷺ غزوہ بدر کا ارادہ رکھتے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بھی آپ کے ساتھ نکلنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ میرا ہاتھ پکڑ کر فرمانے لگے: ”میں تمہیں چھوٹا سمجھتا ہوں، اور مجھے معلوم نہیں کہ اگر تمہارا دشمن سے سامنا ہو تو تم کیا کرو گے۔“ میں نے عرض کیا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں (تیر) پھینکنے والے کو جواباً تیر مار سکتا ہوں؟ لیکن آپ ﷺ نے مجھے واپس بھیج دیا، تو میں بدر میں شریک نہ ہو سکا۔