حدیث نمبر: 4371
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ عِيسَى الْكُوفِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَانْطَلَقَ أُنَاسٌ فِي سَرَعَانِ النَّاسِ، فَذَبَحُوا وَنَصَبُوا قُدُورَهُمْ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَرَأَى الْقُدُورَ قَدْ نُصِبَتْ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ ذَبَحُوا وطَبَخُوا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ، فَكُفِئَتْ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغَنَائِمِ، فَقُسِمَتْ، فَجَعَلَ مَكَانَ كُلِّ بَعِيرٍ عَشْرَ شِيَاهٍ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ نَدَّ بَعِيرٌ مِنْهَا، فَطَلَبَهُ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا» ، ثُمَّ قَالَ جَدِّي: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْمُشْرِكِينَ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، إِلَّا سِنًّا أَوْ ظُفُرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ "
ترجمہ

…چنانچہ کچھ لوگ جلدی کرنے والوں میں شامل ہو کر آگے بڑھے اور تقسیم سے پہلے ہی جانور ذبح کر کے اپنی دیگیں چڑھا دیں۔ رسول اللہ ﷺ جو لوگوں کے پیچھے تھے، وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ دیگیں چڑھی ہوئی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! انہوں نے ذبح اور پکا لیا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دیگوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں الٹ دیا گیا، پھر آپ ﷺ نے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم دیا، تو اسے تقسیم کیا گیا اور ہر اونٹ کے بدلے دس بکریاں مقرر کیں۔ راوی کہتے ہیں: ہم اسی حال میں تھے کہ ان میں سے ایک اونٹ بھاگ نکلا، ایک شخص نے اس کا پیچھا کیا تو دوسرے شخص نے اسے تیر مار کر روک لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان اونٹوں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جو تم پر قابو نہ آئے اس کے ساتھ یہی کرو۔“ پھر میرے دادا (سیدنا رافع رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں خدشہ ہے کہ ہم کل مشرکین سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوگی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لو، سوائے دانت یا ناخن کے، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4371
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 271، حدیث 4386