المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج، عن جده رافع باب: عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج کی اپنے دادا سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَأُصِيبَ إِبِلٌ وَغَنَمٌ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ، فَعَجِلُوا وَذَبَحُوا فَصَنَعُوا الْقُدُورَ، فَدَفَعَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ جَمَلٌ يَسْتَنُّ فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ الْبَهَائِمَ لَهَا أَوَابِدُ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا» ، قَالَ جَدِّي: إِنَّا لَنَرْجُو أَوْ نَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ فَقَالَ: " مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ "…پھر آپ ﷺ نے تقسیم فرمائی اور دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر شمار کیا، لوگوں میں ایک اونٹ بدکنے لگا، لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر تھک گئے، تو ایک شخص نے اس پر تیر پھینکا اور اسے روک لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان جانوروں میں بھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے کی عادت ہوتی ہے، پس جو تم سے بدک جائے اس کے ساتھ یہی کرو۔“ میرے دادا (سیدنا رافع رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: ہمیں امید ہے، یا خدشہ ہے، کہ ہم کل دشمن سے مقابلہ کریں گے اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوگی، تو کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز بھی خون بہا دے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے تو اسے کھا لو، سوائے دانت اور ناخن کے، اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“