المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج، عن جده رافع باب: عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج کی اپنے دادا سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4366
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّا نَرْجُو أَنْ نَلْقَى عَدُوَّنَا، فَعَسَى أَنْ لَا يَكُونَ مَعَنَا بَعْضُ الْعِدَّةِ مِمَّا يُصْلِحُنَا، أَفَنَأْكُلُ كُلَّ ذَبِيحَةِ الْقَصَبَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ كُلُّ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ ذَكَاةٌ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ»ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں امید ہے کہ ہم اپنے دشمن سے مقابلہ کریں گے، اور ممکن ہے ہمارے پاس ہماری ضرورت کا کچھ سامان نہ ہو، تو کیا ہم بانس سے ذبح کیا ہوا (جانور) کھا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جو چیز بھی خون بہا دے وہ ذبح ہی شمار ہوگی، سوائے دانت اور ناخن کے۔“