المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج، عن جده رافع باب: عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج کی اپنے دادا سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4373
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَبِيبُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا غَزَاةً مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُصَبِّحُ الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ وَالْمَرْوَةِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، اذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ وَكُلْ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ، فَأَمَّا السِّنُّ: فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ: فَمُدَى الْحَبَشَةِ "ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کل صبح ہم دشمن پر حملہ کرنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں، تو کیا ہم بانس یا چقماق پتھر سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس پر اللہ کا نام لو اور کھاؤ، سوائے دانت اور ناخن کے، دانت تو ہڈی ہے، اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔“