❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : وَاللهِ ، إِنِّي لَأَنْظُرُ يَوْمَئِذٍ إِلَى خَدَمِ النِّسَاءِ مُشَمِّرَاتٍ يَسْعَيْنَ حِينَ انْهَزَمَ الْقَوْمُ ، وَمَا أَرَى دُونَ أَخْذِهِنَّ شَيْئًا ، وَإِنَّا لَنَحْسِبُهُمْ قَتْلَى مَا يَرْجِعُ إِلَيْنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ ، وَلَقَدْ أُصِيبَ أَصْحَابُ اللِّوَاءِ ، وَصَبَرُوا عِنْدَهُ حَتَّى صَارَ إِلَى عَبْدٍ لَهُ حَبَشِيٍّ يُقَالُ لَهُ : صَوَابٌ ، ثُمَّ قُتِلَ صَوَابٌ فَطَرَحَ اللِّوَاءَ ، فَمَا يَقْرَبُهُ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللهِ تَعَالَى حَتَّى وَثَبَتْ إِلَيْهِ عَمْرَةُ بِنْتُ عَلْقَمَةَ الْحَارِثِيَّةُ ، فَرَفَعَتْهُ لَهُمْ ، وَثَابَ إِلَيْهِ النَّاسُ .
قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَوَاللهِ ، إِنَّا لَكَذَلِكَ قَدْ عَلَوْنَاهُمْ وَظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ ، إِذْ خَالَفَتِ الرُّمَاةُ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَقْبَلُوا إِلَى الْعَسْكَرِ حِينَ رَأَوْهُ مُخْتَلًّا قَدْ أَجْهَضْنَاهُمْ عَنْهُ ، فَرَغِبُوا إِلَى الْغَنَائِمِ وَتَرَكُوا عَهْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَ الْأَمْتِعَةَ ، فَأَتَتْنَا الْخَيْلُ مِنْ خَلْفِنَا فَحَطَّمَتْنَا ، وَكَرَّ النَّاسُ مُنْهَزِمِينَ ، فَصَرَخَ صَارِخٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ الشَّيْطَانُ : أَلَا إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ، وَرَكِبَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، فَصَارُوا أَثْلَاثًا : ثُلُثًا جَرِيحًا ، وَثُلُثًا مَقْتُولًا ، وَثُلُثًا مُنْهَزِمًا ، قَدْ بَلَغَتِ الْحَرْبُ ، وَقَدْ كَانَتِ الرُّمَاةُ اخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ رَأَوُا النَّاسَ وَقَعُوا فِي الْغَنَائِمِ : وَقَدْ هَزَمَ اللهُ تَعَالَى الْمُشْرِكِينَ ، وَأَخَذَ الْمُسْلِمُونَ الْغَنَائِمَ ، فَمَاذَا تَنْتَظِرُونَ ؟ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ : قَدْ تَقَدَّمَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَنَهَاكُمْ أَنْ تُفَارِقُوا مَكَانَكُمْ ، إِنْ كَانَتْ عَلَيْهِ أَوْ لَهُ ، فَتَنَازَعُوا فِي ذَلِكَ ، ثُمَّ إِنَّ الطَّائِفَةَ الْأُولَى مِنَ الرُّمَاةِ أَبَتْ إِلَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالْعَسْكَرِ ، فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ ، وَتَرَكُوا مَكَانَهُمْ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ حَمَلَتْ خَيْلُ الْمُشْرِكِينَ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
4260 \ 2 - وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : وَاللهِ إِنَّ النُّعَاسَ لَيَغْشَانِي إِذْ سَمِعْتُ ابْنَ قُشَيْرٍ يَقُولُهَا ، وَمَا أَسْمَعُهَا مِنْهُ إِلَّا كَالْحُلْمِ ، ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ .
قَالَ : وَالَّذِينَ تَوَلَّوْا عِنْدَ جَوْلَةِ النَّاسِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الزُّرَقِيُّ ، وَأَخُوهُ عُقْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَتَّى بَلَغُوا جَبَلًا بِنَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ يُقَالُ لَهُ : الْحَاجِبُ بِبَطْنِ الْأَعْوَصِ ، فَأَقَامُوا بِهِ ثَلَاثًا ، فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ لَمَّا رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَقَدْ ذَهَبْتُمْ فِيهَا عَرِيضَةً .
ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا يَعْنِي : الْمُنَافِقِينَ ، وَقَالُوا لإِخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الأَرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ الْآيَةَ ، قَالَ : ابْتِغَاءً وَتَحَسُّرًا ، وَذَلِكَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا .
ثُمَّ كَانَتِ الْقِصَّةُ فِيمَا يَأْمُرُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْهَدُ إِلَيْهِ ، حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ : أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا يَعْنِي : يَوْمَ بَدْرٍ ، فِيمَنْ قُتِلُوا وَأُسِرُوا ، قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ الَّتِي كَانَتْ مِنَ الرُّمَاةِ ، قَالَ : فَقَالَ : وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ : عَلَانِيَةَ أَمْرِهِمْ وَيَظْهَرَ أَمْرُهُمْ ، وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا فَيَكُونُ أَمْرُهُمْ عَلَانِيَةً ، وَيَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ أُبَيٍّ وَمَنْ مَعَهُ مِمَّنْ رَجَعَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَارَ إِلَى عَدُوِّهِ ، وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَوِ ادْفَعُوا قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالا لاتَّبَعْنَاكُمْ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِمْ حِينَ قَالَ لَهُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ سَائِرُونَ إِلَى أُحُدٍ حِينَ انْصَرَفُوا عَنْهُمْ : أَتَخْذُلُونَنَا وَتُسْلِمُونَنَا لِعَدُوِّنَا ، فَقَالُوا : مَا نَرَى أَنْ يَكُونَ قِتَالًا ، لَوْ نَرَى أَنْ يَكُونَ قِتَالًا لَاتَّبَعْنَاكُمْ ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَانِ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ الَّذِينَ قَالُوا لإِخْوَانِهِمْ مِنْ ذَوِي أَرْحَامِهِمْ ، وَلَمْ يَعْنِ تَعَالَى إِخْوَانَهُمْ فِي الدِّينِ لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : قُلْ فَادْرَؤُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ .
قَالَ إِسْحَاقُ : هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ وَهْبٌ ، وَأَظُنُّ بَعْضَ التَّفْسِيرِ مِنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَعْنِي قَوْلَهُ كَذَا يَعْنِي كَذَا .
قُلْتُ : بَلِ انْتَهَى حَدِيثُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : غَفُورٌ حَلِيمٌ ، وَمِنْ قَوْلِهِ : قَالَ : وَالَّذِينَ تَوَلَّوْا إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِغَيْرِ إِسْنَادٍ .
4260 \ 3 - أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ حِينَ اشْتَدَّ عَلَيْنَا الْخَوْفُ وَأُرْسِلَ عَلَيْنَا النَّوْمُ ، فَمَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا وَذَقَنُهُ - أَوْ قَالَ : ذَقَنُهُ - فِي صَدْرِهِ ، فَوَاللهِ ، إِنِّي لَأَسْمَعُ كَالْحُلْمِ قَوْلَ مُعَتِّبِ بْنِ قُشَيْرٍ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَاهُنَا ، فَحَفِظْتُهَا ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ : ثُمَّ أَنْـزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا إِلَى قَوْلِهِ : مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا لِقَوْلِ مُعَتِّبِ بْنِ قُشَيْرٍ ، قَالَ : لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ حَتَّى بَلَغَ : وَاللهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ .
4260 \ 4 - أَخْبَرَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعِدِينَ فِي أُحُدٍ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَأْتِي الْمِهْرَاسَ ، فَأَتَاهُ بِمَاءٍ فِي دَرَقَتِهِ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْرَبَ مِنْهُ ، فَوَجَدَ لَهُ رِيحًا فَعَافَهُ ، فَغَسَلَ بِهِ وَجْهَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدِّمَاءِ الَّتِي أَصَابَتْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى مَنْ أَدْمَى وَجْهَ رَسُولِ اللهِ ، وَكَانَ الَّذِي أَدْمَاهُ يَوْمَئِذٍ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ .
ترجمہ
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں اس دن (احد کے موقع پر) مشرک عورتوں کو دیکھ رہا تھا کہ وہ اپنی قمیصیں سمیٹے بھاگ رہی تھیں اور ان کی پازیبیں (اور پنڈلیاں) ظاہر ہو رہی تھیں جب ان کی قوم کو شکست ہوئی، مجھے ان کو پکڑنے میں کوئی چیز رکاوٹ نظر نہیں آ رہی تھی، اور ہم کفار کو مقتول ہی سمجھ رہے تھے کہ اب ان میں سے کوئی ہماری طرف واپس نہیں آئے گا؛ اس دوران کفار کے علمبردار بھی زخمی ہو کر گر گئے تھے اور وہ اپنے پرچم کے پاس اس وقت تک ڈٹے رہے جب تک کہ وہ ان کے ایک 'صواب' نامی حبشی غلام کے پاس نہ پہنچ گیا، پھر صواب بھی قتل ہو گیا اور اس نے پرچم گرا دیا، پھر اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس پرچم کے قریب نہیں آ رہا تھا یہاں تک کہ عمرہ بنت علقمہ حارثیہ جھپٹ کر اس کی طرف بڑھی اور اس نے ان کے لیے پرچم بلند کر دیا، جس پر کفار کے لوگ دوبارہ اس کے گرد اکٹھے ہو گئے۔“ زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! ہم اسی حالت میں تھے کہ ہم ان پر غالب آ چکے تھے اور فتح حاصل کر لی تھی، تبھی تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی مخالفت کی اور وہ لشکر گاہ کی طرف لپک پڑے جب انہوں نے دیکھا کہ دشمن کا لشکر بکھر چکا ہے اور ہم نے انہیں وہاں سے بھگا دیا ہے، وہ مالِ غنیمت کے حریص ہو گئے اور رسول اللہ ﷺ کے عہد و پیمان کو پسِ پشت ڈال دیا اور سامان سمیٹنے لگے، تبھی دشمن کے سواروں نے ہم پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور ہمیں تہس نہس کر دیا، اور لوگ شکست کھا کر پیچھے مڑے، پھر ایک پکارنے والے نے آواز لگائی جس کے بارے میں لوگوں کا گمان تھا کہ وہ شیطان ہے کہ: ”آگاہ رہو! محمد (ﷺ) شہید کر دیے گئے ہیں“، اس پر لوگوں پر سخت گھبراہٹ طاری ہوئی اور وہ بدحواسی میں ایک دوسرے پر چڑھنے لگے، پھر وہ تین حصوں میں بٹ گئے: ایک تہائی زخمی، ایک تہائی مقتول اور ایک تہائی شکست خوردہ۔ اس طرح جنگ اپنے عروج کو پہنچ گئی، اور تیر اندازوں میں باہمی اختلاف ہو گیا تھا۔ ایک گروہ نے جب لوگوں کو مالِ غنیمت سمیٹتے دیکھا تو کہنے لگا: ”اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دے دی ہے اور مسلمانوں نے مالِ غنیمت پر قبضہ کر لیا ہے، اب تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟“ جبکہ دوسرے گروہ نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے تمہیں پہلے ہی تاکید فرمائی تھی اور اپنی جگہ نہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا، چاہے فتح ہو یا شکست“، پس ان میں اس بارے میں جھگڑا ہوا، پھر تیر اندازوں کے پہلے گروہ نے لشکر کے ساتھ جا ملنے پر اصرار کیا، چنانچہ وہ لوگ منتشر ہو گئے اور اپنی جگہ چھوڑ دی، اسی لمحے مشرکین کے سواروں نے بھرپور حملہ کر دیا۔“
یہ اسناد صحیح ہے، اور اس کا شاہد صحیح بخاری میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے موجود ہے۔
اسی سند کے ساتھ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھ پر اس قدر اونگھ طاری ہو رہی تھی کہ جب میں نے ابنِ قشیر کو یہ بات کہتے سنا تو میں اسے کسی خواب کی طرح سن رہا تھا،“ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَدَقَدْ عَفَا اللهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 155]۔ راوی نے کہا کہ جو لوگ اس دن بھاگ کھڑے ہوئے تھے ان میں عثمان بن عفان، سعید بن عثمان زرقی اور ان کے بھائی عقبہ بن عثمان شامل تھے، یہاں تک کہ وہ مدینہ کی ایک جانب 'الحاجب' نامی پہاڑ پر پہنچ گئے جو بطنِ اعوص میں واقع ہے، اور وہاں تین دن مقیم رہے، لوگوں کا گمان ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم تو بھاگتے ہوئے بہت دور نکل گئے تھے“۔ پھر اللہ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا﴾ یعنی منافقین، ﴿وَقَالُوا لإِخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الأَرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللهُ ذَلِکَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ﴾ [سورة آل عمران: 156]۔ راوی نے کہا کہ یہ بات انہوں نے طلبِ دنیا اور حسرت کے طور پر کہی تھی، اور یہ چیز انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ پھر یہ قصہ ان احکامات تک پہنچا جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو دے رہا تھا، یہاں تک کہ اس قول پر ختم ہوا: ﴿أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا﴾ یعنی جنگِ بدر کے دن جتنے لوگ قتل ہوئے اور قیدی بنائے گئے (تم نے ان کا دوگنا کفار کو نقصان پہنچایا تھا)، ﴿قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 165] یعنی تمہارے ان تیر اندازوں کی وجہ سے پیش آیا جنہوں نے حکم کی خلاف ورزی کی۔ پھر فرمایا: ﴿وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة آل عمران: 166] یعنی ان کا ایمانی معاملہ ظاہر ہو جائے، ﴿وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا﴾ [سورة آل عمران: 167] تاکہ منافقین کا نفاق بھی کھل کر سامنے آ جائے، اور اس سے مراد عبداللہ بن ابی اور اس کے وہ ساتھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دشمن کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے راستے سے لوٹ آئے تھے، ﴿وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ أَوِ ادْفَعُوا قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالا لاتَّبَعْنَاكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 167]۔ یہ ان کی اس بات کی طرف اشارہ ہے جب رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے احد کی طرف جاتے ہوئے ان کے واپس لوٹنے پر کہا تھا کہ: ”کیا تم ہمیں دشمن کے سامنے بے یار و مددگار چھوڑ کر جا رہے ہو؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے خیال میں کوئی لڑائی نہیں ہوگی، اگر ہمیں یقین ہوتا کہ لڑائی ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے“۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإِيمَانِ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 167]۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں کہا تھا، اور اس سے مراد دینی بھائی نہیں ہیں، کہ ﴿لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا﴾ یعنی اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ ہوتے، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: ﴿قُلْ فَادْرَؤُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ [سورة آل عمران: 168]۔
اسحاق نے کہا کہ وہب نے ہمیں اسی طرح بیان کیا، اور میرا خیال ہے کہ بعض تفسیری جملے ابن اسحاق کی طرف سے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے۔ میں (امام اسحاق) کہتا ہوں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی حدیث تو اللہ کے فرمان ﴿غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ پر ختم ہو گئی تھی، اور اس کے بعد ﴿قَالَ: وَالَّذِينَ تَوَلَّوْا﴾ سے لے کر آخر تک ابن اسحاق کی بغیر اسناد کے روایت ہے۔
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے خود کو احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دیکھا، جب ہم پر خوف کی شدت طاری تھی اور ہم پر اونگھ طاری کر دی گئی تھی، ہم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کی ٹھوڑی اس کے سینے پر نہ جھکی ہو، پس اللہ کی قسم! میں معتب بن قشیر کی یہ بات کسی خواب کی طرح سن رہا تھا کہ: ”اگر اس معاملے (اختیار) میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے“، پس میں نے اس بات کو یاد رکھا، تو اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿ثُمَّ أَنْـزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا﴾ یہاں تک کہ معتب بن قشیر کے قول کے رد میں فرمایا: ﴿مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا﴾، پھر فرمایا: ﴿لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ﴾ یہاں تک کہ ﴿وَاللهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ﴾ [سورة آل عمران: 154] تک۔“
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احد پہاڑ پر چڑھتے ہوئے نکلے... پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ راوی نے کہا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ 'مہراس' (پہاڑی گڑھے) سے پانی لائیں، چنانچہ وہ اپنی ڈھال میں پانی بھر کر لائے اور اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پینا چاہا مگر اس میں بو محسوس ہوئی تو اسے پینا ناپسند فرمایا، پھر آپ ﷺ نے اس پانی سے اپنے چہرے مبارک سے وہ خون دھویا جو آپ کو زخم لگنے کی صورت میں بہا تھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: «اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى مَنْ أَدْمَى وَجْهَ رَسُولِ اللهِ» ”اللہ کا غضب اس شخص پر سخت ہو گیا جس نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو خون آلود کیا“، اور جس نے اس دن آپ ﷺ کو زخمی کیا تھا وہ عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4260
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
أَخْبَرَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، يَعْنِي : ابْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ فَخُمِشَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكُسِرَتْ ثَنِيَّتُهُ ، فَجَاءَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ ، فَجَعَلَ يَبْكِي ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ائْتِنِي بِمَاءٍ فَأَتَاهُ بِمَاءٍ فِي جَحْفَةٍ مِنَ الْمِهْرَاسِ ، فَلَمَّا أَدْنَاهُ مِنْهُ عَافَهُ ، فَجَعَلَ يَغْسِلُ عَنْهُ الدَّمَ وَيَقُولُ : اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ كَلَمُوا وَجْهَ نَبِيِّهِ ثُمَّ قَالَ : انْظُرُوا مَا صَنَعَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ رُمْحًا شَرْعَى فِيهِ ، فَأَتَاهُ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنْظُرَ مَا صَنَعْتَ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ بِأَنِّي بِآخِرِ رَمَقٍ ، وَاقْرَأْ عَلَى قَوْمِكَ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُمْ : إِنْ هَلَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْكُمْ شُفْرٌ تَطْرِفُ ، فَإِنَّهُ لَا عُذْرَ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى .
ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ ؟ قَالَ : فَهَذَا الْحَدِيثُ يُحَدِّثُهُ الزُّبَيْرُ عَنْ نَفْسِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنَا ، فَأَعْرَضَ عَنِّي مَرَّةً ، فَقُلْتُ : مَا أَعْرَضَ عَنِّي إِلَّا مِنْ شَرٍّ هُوَ فِيَّ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا ، فَأَعْرَضَ عَنِّي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا آخُذُهُ ، فَأَضْرِبُ بِهِ حَتَّى يَنْثَنِيَ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا ، فَأَعْطَاهُ السَّيْفَ ، قَالَ الزُّبَيْرُ : فَاتَّبَعْتُهُ لِأَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ ؟ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِلَّا قَتَلَهُ ، فَأَتَى رَجُلًا كَانَ عَاطِبًا فِي الْقِتَالِ فَقَتَلَهُ ، وَأَتَى عَلَى امْرَأَةٍ وَهِيَ تَقُولُ :
إِنْ تُقْبِلُوا نُعَانِقْ وَنَفْرِشُ النَّمَارِقْ أَوْ تُدْبِرُوا نُفَارِقْ
فِرَاقَ غَيْرِ وَامِقْ فَشَهَرَ عَلَيْهَا السَّيْفَ ، ثُمَّ كَفَّ يَدَهُ عَنْهَا ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا دُجَانَةَ ، فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ، حَتَّى أَتَيْتَ الْمَرْأَةَ فَشَهَرْتَ عَلَيْهَا السَّيْفَ ثُمَّ كَفَفْتَ يَدَكَ عَنْهَا ؟ قَالَ : أَكْرَمْتُ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا .
ترجمہ
سیدنا عمرو بن یحییٰ المازنی سے روایت ہے کہ جب احد کی جنگ کا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ کا چہرہِ انور زخمی ہو گیا اور آپ ﷺ کا سامنے والا دانت مبارک بھی شہید ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ پر جھکے اور (کمالِ محبت و غم سے) رونے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میرے پاس پانی لاؤ“، چنانچہ وہ مہراس (پہاڑ کی ایک چٹان یا گڑھا جہاں پانی جمع ہوتا ہے) سے ایک ڈھال میں بھر کر پانی لے آئے، لیکن جب وہ پانی آپ ﷺ کے قریب لائے تو آپ ﷺ نے (اس کی بو یا حالت کی بنا پر) اسے استعمال کرنا ناپسند فرمایا، پھر آپ ﷺ اس پانی سے اپنے چہرے کا خون دھونے لگے اور فرمانے لگے: «اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ كَلَمُوا وَجْهَ نَبِيِّهِ» ”اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر انتہائی شدید ہو گیا ہے جنہوں نے اس کے نبی کے چہرہِ مبارک کو زخمی کیا“۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”سعد بن ربیع کا حال دیکھو کہ ان کا کیا ہوا، کیونکہ میں نے ان کی جانب بارہ نیزے تنے ہوئے (یا ان کے جسم میں پیوست) دیکھے ہیں“۔ رسول اللہ ﷺ کا قاصد ان کے پاس پہنچا اور کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے تاکہ میں دیکھوں کہ تمہارا کیا حال ہے؟ انہوں نے (زخموں سے چور ہونے کی حالت میں) کہا: رسول اللہ ﷺ کو میرا سلام پہنچا دینا اور انہیں بتانا کہ میں زندگی کی آخری رمق (آخری سانسوں) پر ہوں، نیز اپنی قوم کو بھی میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ: ”اگر رسول اللہ ﷺ شہید کر دیے گئے اور تم میں سے ایک آنکھ بھی جھپکنے والی (یعنی کوئی ایک شخص بھی زندہ) باقی رہی، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے پاس (اپنی جان بچانے کا) کوئی عذر نہ ہو گا“۔
پھر رسول اللہ ﷺ نے (ایک تلوار بلند کر کے) فرمایا: «مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟» ”کون ہے جو اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ تھامے گا؟“۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ یہ واقعہ اپنے حوالے سے بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اسے لوں گا، مگر آپ ﷺ نے مجھ سے اعراض فرمایا۔ میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ آپ ﷺ نے محض میری کسی برائی کی وجہ سے مجھ سے رخ پھیرا ہے۔ آپ ﷺ نے دوبارہ وہی سوال کیا تو میں نے پھر عرض کیا کہ میں لوں گا، مگر آپ ﷺ نے دو یا تین بار مجھ سے اعراض فرمایا۔ تب سیدنا ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اسے لیتا ہوں اور اس کا حق یہ ہے کہ میں اس سے (دشمن پر ایسی ضربیں) لگاؤں گا کہ یہ مڑ جائے، یا اسی طرح کا کوئی جملہ کہا، تو آپ ﷺ نے وہ تلوار انہیں عطا فرما دی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان کے پیچھے ہولیا تاکہ دیکھوں کہ وہ اس تلوار کا کیا حق ادا کرتے ہیں؟ وہ جس مشرک کے پاس سے بھی گزرتے اسے قتل کر ڈالتے، یہاں تک کہ وہ ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو جنگ میں بہت ہلاکت خیز ثابت ہو رہا تھا، انہوں نے اسے بھی ڈھیر کر دیا۔ پھر وہ ایک عورت (ہند بنت عتبہ) کے پاس پہنچے جو یہ اشعار پڑھ رہی تھی: «إِنْ تُقْبِلُوا نُعَانِقْ وَنَفْرِشُ النَّمَارِقْ أَوْ تُدْبِرُوا نُفَارِقْ فِرَاقَ غَيْرِ وَامِقْ» ”اگر تم (میدان میں) آگے بڑھو گے تو ہم تم سے گلے ملیں گی اور گاؤ تکیے بچھائیں گی، اور اگر تم پیٹھ پھیرو گے تو ہم تم سے جدا ہو جائیں گی، ایسی جدائی جس میں کوئی الفت و محبت نہ ہو گی“۔ انہوں نے اس عورت پر تلوار سونت لی لیکن پھر اپنا ہاتھ روک لیا۔ میں نے (بعد میں) کہا: اے ابو دجانہ! آپ نے ایسا اور ایسا کیا، یہاں تک کہ جب اس عورت کے پاس پہنچے تو تلوار سونتنے کے بعد ہاتھ کیوں روک لیا؟ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کی تلوار کی اس بات سے تکریم و تعظیم کی کہ اسے ایک عورت (جیسے کمزور وجود) پر چلاؤں“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4261
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ صَاحَ يَوْمَ أُحُدٍ : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ عَرَفَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَيْتُ عَيْنَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْمِغْفَرِ ، فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي : هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ : أَنِ اسْكُتْ ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ الْآيَةَ .
رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَكِنَّهُ مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ .
ترجمہ
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: شیطان نے غزوۂ احد کے دن بلند آواز سے یہ پکارا: ”بے شک محمد (ﷺ) شہید کر دیے گئے ہیں۔“ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (اس کڑے وقت میں) میں وہ پہلا شخص تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کو پہچانا، میں نے خود (لوہے کی ٹوپی) کے نیچے سے آپ ﷺ کی مبارک آنکھیں دیکھیں، تو میں نے اپنی نہایت بلند آواز سے پکارا: ”لوگو! یہ رہے اللہ کے رسول ﷺ (یعنی آپ ﷺ زندہ سلامت ہیں)۔“ تو آپ ﷺ نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ: ”خاموش ہو جاؤ۔“ پس اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 144] ”اور محمد (ﷺ) تو محض ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں، تو کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا وہ شہید کر دیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل (دوبارہ کفر کی طرف) پلٹ جاؤ گے؟“۔
اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت مرسل یا معضل ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، معضل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَكِنَّهُ مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، حَتَّى إِذَا خَلَّفَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ نَظَرَ وَرَاءَهُ ، فَإِذَا كَتِيبَةٌ خَشْنَاءُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ فِي مَوَالِيهِ مِنَ الْيَهُودِ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ ، فَقَالَ : أَوَقَدْ أَسْلَمُوا ؟ قَالَ : إِنَّهُمْ عَلَى دِينِهِمْ ، قَالَ : قُلْ لَهُمْ : فَلْيَرْجِعُوا ، فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .
ترجمہ
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوۂ احد کے دن (مدینہ منورہ سے) روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ ثنیۃ الوداع نامی مقام سے آگے بڑھے تو آپ ﷺ نے اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک پُر شوکت اور ہتھیار بند فوجی دستہ نظر آیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ ”یہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے جو بنو قینقاع کے اپنے یہودی حلیفوں کے ساتھ موجود ہے، اور یہ عبداللہ بن سلام کی قوم کے لوگ ہیں“، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ لوگ اسلام لا چکے ہیں؟“ عرض کیا گیا: ”نہیں، بلکہ یہ اپنے ہی دین پر قائم ہیں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں کہہ دو کہ وہ واپس لوٹ جائیں، کیونکہ ہم مشرکین کے مقابلے میں (دوسرے) مشرکین سے ہرگز مدد حاصل نہیں کرتے“۔
یہ سند حسن ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4263
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ . »
«أخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 2578، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 6165، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 17832، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4566»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَعَلَيْهِ دِرْعَانِ ، وَقَالَ : لَيْتَ أَنِّي غُودِرْتُ مَعَ أَصْحَابِي بِنُحْصِ الْجَبَلِ يَعْنِي : شُهَدَاءَ أُحُدٍ .
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو غزوۂ احد کے دن دیکھا کہ آپ ﷺ نے دو زرہیں زیبِ تن فرمائی ہوئی تھیں، اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے کاش! مجھے بھی پہاڑ کے دامن میں اپنے ان ساتھیوں کے ہمراہ چھوڑ دیا جاتا (یعنی میں بھی شہید ہو جاتا)“، آپ ﷺ کی مراد شہدائے احد تھے۔“
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن عمر الواقدی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، البتہ احد کے دن دو زرہیں پہننے کا ذکر دیگر مستند روایات میں بھی موجود ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4264
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ : مُعَاذٌ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ .
4265 \ 2 - وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، لَكِنْ قَالَ : عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ طَلْحَةَ .
ترجمہ
بنو تمیم کے ایک صاحب جن کا نام معاذ ہے (اور دوسری سند کے مطابق سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ احد کے دن دوہری زرہ پہنی تھی (یعنی ایک زرہ کے اوپر دوسری زرہ زیبِ تن فرمائی تھی)۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے دو طرق سے روایت کیا ہے؛ پہلے طریق میں بنو تمیم کے ایک شخص معاذ کا ذکر ہے، جبکہ دوسرے طریق میں سفیان بن عیینہ نے اسے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4265
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإِسناد ضعيف »
«أخرجه سنن أبي داود برقم: 2590، وأخرجه مسند البزار برقم: 1103، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6669، وأخرجه شرح السنة برقم: 2659، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4569/2، 4573»
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرِ حَمْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمُدَّتِ النَّمِرَةُ عَلَى رَأْسِهِ فَانْكَشَفَتْ رِجْلَاهُ ، فَمُدَّتْ عَلَى رِجْلَيْهِ فَانْكَشَفَ رَأْسُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُدُّوهَا عَلَى رَأْسِهِ ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنْ شَجَرِ الْحَرْمَلِ .
ترجمہ
سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر (ان کی تدفین کے وقت) موجود تھا، پس جب ان کے جسدِ اطہر پر ایک دھاری دار اونی کملی ڈالی گئی تو ان کے پاؤں مبارک کھل گئے، اور جب اسے پاؤں کی طرف کھینچا گیا تو سر مبارک کھل گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس کملی کو ان کے سر کی جانب کر دو اور ان کے پاؤں پر حرمل (نامی خود رو پودے) کی شاخیں ڈال کر ڈھانپ دو۔“
اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4266
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 15، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2940، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 5184، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1881، 4577»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَمَّا انْجَلَى النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ نَظَرْتُ إِلَى الْقَتْلَى ، فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ ، فَقُلْتُ : وَاللهِ مَا كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَفِرَّ ، وَمَا أَرَاهُ فِي الْقَتْلَى ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَضِبَ عَلَيْنَا بِمَا صَنَعْنَا فَرَفَعَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا لِي خَيْرٌ مِنْ أَنْ أُقَاتِلَ حَتَّى أُقْتَلَ ، فَكَسَرْتُ جَفْنَ سَيْفِي ، ثُمَّ حَمَلْتُ عَلَى الْقَوْمِ فَأُخْرِجُوا لِي ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکرمہ بیان کرتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”جب غزوہِ احد کے دن لوگ رسول اللہ ﷺ کے گرد سے منتشر ہو کر پیچھے ہٹ گئے، تو میں نے مقتولین میں آپ کو تلاش کیا مگر رسول اللہ ﷺ کو ان میں نہ پایا، تو میں نے (اپنے دل میں) کہا: ”اللہ کی قسم! اللہ کے رسول ﷺ ہرگز میدان چھوڑ کر جانے والے نہیں تھے، اور میں آپ ﷺ کو شہداء میں بھی نہیں دیکھ رہا، بلکہ میرا گمان یہ ہے کہ ہم نے جو (حکمِ نبوی کی نافرمانی کی) حرکت کی ہے اس کی وجہ سے اللہ عزوجل ہم پر ناراض ہو گیا ہے اور اس نے اپنے نبی ﷺ کو (آسمان پر) اٹھا لیا ہے، لہٰذا اب میرے لیے اس سے بہتر کوئی راہ نہیں کہ میں دشمن سے قتال کروں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں۔“ چنانچہ میں نے اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور کفار کے لشکر پر زوردار حملہ کیا تو انہوں نے میرے سامنے سے راستہ خالی کر دیا، کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان (محیط شرپسندوں کے نرغے میں سلامت) موجود ہیں۔“
مسند ابی یعلی: 4267، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کیا ہے کہ اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے محمد بن مروان العقیلی کے اور انہیں بھی ابوداؤد اور صلح بن محمد نے ثقہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4267
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10074، 10075، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 675، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4571، 6645»
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عُقْبَةَ مَوْلَى جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ أُحُدًا مَعَ مَوَالِيَّ ، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَلَمَّا قَتَلْتُهُ قُلْتُ : خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الرَّجُلُ الْفَارِسِيُّ ، فَبَلَغَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلَا قُلْتَ : خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الرَّجُلُ الْأَنْصَارِيُّ ؟ فَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ .
4268 \ 2 - وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا فَذَكَرَهُ .
4268 \ 3 - وَقَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بِهِ .
فَلَزِمَ مِنْ هَذَا أَنْ تَرْجَمَ أَبُو نُعَيْمٍ وَسَلَمَةُ بْنُ نَافِعٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ فِي الصَّحَابَةِ ، وَلَا أَصْلَ لَهُ ، وَاللهُ أَعْلَمُ .
ترجمہ
جبر بن عتیک کے آزاد کردہ غلام سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں اپنے آقاؤں کے ہمراہ غزوہِ احد میں شریک تھا، (دورانِ جنگ) میں نے مشرکین کے ایک آدمی پر بھرپور وار کیا اور جب میں اسے قتل کر چکا تو (بڑے فخر سے) کہا: «خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الرَّجُلُ الْفَارِسِيُّ» ”یہ لو میری طرف سے وار اور میں ایک فارسی نوجوان ہوں“۔ جب یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے (اس پر تنبیہ فرماتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم نے یوں کیوں نہ کہا: «خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الرَّجُلُ الْأَنْصَارِيُّ» ”یہ لو میری طرف سے وار اور میں ایک انصاری نوجوان ہوں“؟ کیونکہ کسی قوم کا آزاد کردہ غلام (حلیف اور وابستہ ہونے کی وجہ سے) انہی میں سے شمار ہوتا ہے“۔
امام حسن بن سفیان نے شیبان بن ابی شیبہ سے، انہوں نے یحییٰ بن علا سے، انہوں نے داؤد بن حصین سے، انہوں نے عقبہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے اپنے والد (عقبہ) رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہِ احد میں حاضر تھا، پھر انہوں نے سابقہ حدیث ذکر کی۔
امام ابو نعیم نے ابو عمرو بن حمدان سے اور انہوں نے حسن کے حوالے سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔
اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ ابو نعیم اور سلمہ بن نافع نے عبدالرحمن بن عقبہ کو صحابہ کے زمرے میں شمار کیا ہے، حالانکہ اس بات کی کوئی اصل (مستند حقیقت) نہیں ہے، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4268
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: فَلَزِمَ مِنْ هَذَا أَنْ تَرْجَمَ أَبُو نُعَيْمٍ وَسَلَمَةُ بْنُ نَافِعٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ فِي الصَّحَابَةِ ، وَلَا أَصْلَ لَهُ ، وَاللهُ أَعْلَمُ . »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 22009، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10088، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4575»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ : مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ أَعْزَلُ : أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ قَالَ : فَانْطَلِقْ فَأَرِنَاهُ ، فَخَرَجَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَرَآهُ وَقَدْ شُقَّ بَطْنُهُ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مُثِّلَ بِهِ وَاللهِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ ، وَوَقَفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى ، فَقَالَ : أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ ، كَفِّنُوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ جُرْحٌ يُجْرَحُ فِي اللهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمِي ، لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ ، قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ .
ترجمہ
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہِ احد کے دن دریافت فرمایا: ”کون ہے جس نے حمزہ کے مقتل (شہید ہونے کی جگہ) کو دیکھا ہو؟“ ایک نہتے شخص نے عرض کی: ”میں نے ان کے مقتل کو دیکھا ہے۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر چلو اور ہمیں بھی دکھاؤ۔“ چنانچہ وہ شخص روانہ ہوا یہاں تک کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کے پاس جا کھڑا ہوا، اس نے دیکھا کہ ان کا پیٹ چاک کیا جا چکا تھا اور ان کے اعضاء کاٹ کر مثلہ کر دیا گیا تھا۔ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، ان کا تو مثلہ کر دیا گیا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے (شدتِ حزن و ملال کی بنا پر) ان کی طرف دیکھنا ناپسند فرمایا اور شہداء کے مابین کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: ”میں ان سب پر (بارگاہِ الٰہی میں) گواہ ہوں۔ انہیں ان کے خون سمیت ہی کفن دے دو، کیونکہ اللہ کی راہ میں لگنے والا کوئی بھی زخم ایسا نہیں ہے جو قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس سے خون رس رہا ہو، جس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا مگر اس کی خوشبو مشک کی مہک جیسی ہوگی۔ نیز جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو، انہیں (قبر میں) آگے کرو اور انہی کو پہلے لحد میں اتارو۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے شواہد صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہیں، جس کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4269
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 46، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 6667، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4576»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ .
4270 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ عَلِيٌّ بِسَيْفِهِ إِلَى فَاطِمَةَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ : اغْسِلِي سَيْفِي هَذَا ، فَقَدْ أَحْسَنْتُ الضِّرَابَ الْيَوْمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ فَقَدْ أَحْسَنَهُ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ .
ترجمہ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ احد کے دن اپنی تلوار لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”میری اس تلوار کو دھو ڈالو، کیونکہ آج میں نے (میدانِ کارزار میں) بڑی عمدہ ضربیں لگائی ہیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے (سیدنا علی کی یہ بات سن کر) ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے عمدہ طریقے سے قتال کیا ہے تو یقیناً عاصم بن ثابت، سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ (رضی اللہ عنہم) نے بھی بہترین قتال کیا ہے“۔
امام احمد بن منیع اور امام ابو یعلیٰ نے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4270
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده ضعيف. »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 5793، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 5564، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10116، 10117، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6665»
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا ذَكَرَ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ : ذَلِكَ يَوْمٌ كَانَ كُلُّهُ يَوْمَ طَلْحَةَ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَهُ - قَالَ : أُرَاهُ يَحْمِيهِ - قَالَ : فَقُلْتُ : كُنْ طَلْحَةَ حَيْثُ فَاتَنِي مَا فَاتَنِي ، فَقُلْتُ : يَكُونُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي أَحَبُّ إِلَيَّ ، وَبَيْنِي وَبَيْنَ الْمَشْرِقِ رَجُلٌ لَا أَعْرِفُهُ ، وَأَنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَبُ مِنْهُ ، وَهُوَ يَخْطِفُ الْمَشْيَ خَطْفًا لَا أَخْطِفُهُ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ ، وَشُجَّ فِي وَجْهِهِ ، وَقَدْ دَخَلَ فِي وَجْنَتَيْهِ حَلْقَتَانِ مِنْ حِلَقِ الْمِغْفَرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَيْكُمَا صَاحِبُكُمَا - يُرِيدُ طَلْحَةَ وَقَدْ نَزَفَ ، فَلَمْ نَلْتَفِتْ إِلَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَهَبْتُ لِأَنْزِعَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي لَمَا تَرَكْتَنِي ، فَتَرَكَهُ فَكَرِهَ أَنْ يَتَنَاوَلَهَا بِيَدِهِ فَيُؤْذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَزَمَ عَلَيْهِ بِفِيهِ فَاسْتَخْرَجَ إِحْدَى الْحَلْقَتَيْنِ ، وَوَقَعَتْ ثَنِيَّتُهُ مَعَ الْحَلْقَةِ ، وَذَهَبْتُ لِأَصْنَعَ مَا صَنَعَ ، فَقَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي لَمَا تَرَكْتَنِي ، فَفَعَلَ كَمَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتُهُ الْأُخْرَى مَعَ الْحَلْقَةِ ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ هَتْمًا ، فَأَصْلَحْنَا مِنْ شَأْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَتَيْنَا طَلْحَةَ فِي بَعْضِ الْجِفَارِ فَإِذَا بِهِ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ أَقَلُّ أَوْ أَكْثَرُ مِنْ طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ وَرَمْيَةٍ ، وَإِذَا قَدْ قُطِعَ أُصْبُعُهُ ، فَأَصْلَحْنَا مِنْ شَأْنِهِ .
4271 \ 2 - أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ مِنْ طَرِيقِ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى ، بِهِ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب بھی غزوہ احد کا تذکرہ فرماتے تو ارشاد کرتے: ”وہ تو مکمل طور پر طلحہ (رضی اللہ عنہ) کا دن تھا“، پھر وہ تفصیل بتانا شروع کرتے اور کہتے: ”غزوہ احد کے روز میں وہ پہلا شخص تھا جو (میدانِ جنگ میں منتشر ہونے کے بعد) رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹا، تو میں نے ایک شخص کو دیکھا جو رسول اللہ ﷺ کے سامنے سینہ سپر ہو کر آپ کا دفاع کرتے ہوئے دشمن سے قتال کر رہا تھا، میرا گمان یہی تھا کہ وہ آپ ﷺ کی حفاظت کر رہا ہے، پس میں نے (دل میں) کہا کہ کاش یہ طلحہ ہی ہوں کیونکہ میں تو اس سعادت سے محروم رہا جو مجھے ملنی چاہیے تھی، پھر میں نے سوچا کہ اگر یہ میری قوم (قبیلہ) کا کوئی فرد ہوا تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہوگا، اسی اثنا میں میرے اور مشرق کی سمت کے درمیان ایک اور شخص تھا جسے میں پہچان نہ پا رہا تھا، اگرچہ میں اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے زیادہ قریب تھا مگر وہ اس قدر تیزی سے جھپٹ کر چل رہا تھا کہ میں اس کی برابری نہ کر سکا، جب قریب ہوا تو دیکھا کہ وہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ کا سامنے والا دانت (رباعیہ) ٹوٹ چکا تھا، رخسار مبارک زخمی تھا اور خود (لوہے کی ٹوپی) کے دو حلقے آپ کے رخساروں میں پیوست ہو چکے تھے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم دونوں اپنے ساتھی کی فکر کرو“ آپ ﷺ کی مراد سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے جن کا خون کثرت سے بہہ چکا تھا، لیکن ہم نے آپ ﷺ کے اس ارشاد کی (اپنے زخموں کے متعلق) کوئی پروا نہ کی اور میں نے ارادہ کیا کہ آپ ﷺ کے چہرہ انور سے وہ حلقہ نکالوں، تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ یہ کام مجھ پر چھوڑ دیں“، چنانچہ سیدنا ابوبکر نے انہیں موقع دے دیا، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اسے ہاتھ سے کھینچنا پسند نہ کیا کہ مبادا نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچے، اس لیے انہوں نے اپنے دانتوں سے حلقے کو مضبوطی سے پکڑا اور اسے باہر نکالا تو ان کا اپنا سامنے والا دانت بھی اس حلقے کے ساتھ ہی باہر آ گیا، پھر میں دوسرا حلقہ نکالنے کے لیے آگے بڑھا تو انہوں نے پھر کہا: ”میں آپ کو اپنے حق کی قسم دیتا ہوں کہ یہ کام مجھے ہی کرنے دیں“، چنانچہ انہوں نے ویسا ہی کیا جیسا پہلی مرتبہ کیا تھا، پس ان کا دوسرا سامنے والا دانت بھی اس دوسرے حلقے کے ساتھ ہی گر گیا، اس طرح ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل ہو گئے جو سامنے کے دانت ٹوٹ جانے کے باوجود بہت پرکشش معلوم ہوتے تھے، پھر ہم نے نبی کریم ﷺ کی حالت سنبھالی اور اس کے بعد ہم ایک نشیبی جگہ میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ انہیں ستر سے زائد یا اس سے کچھ کم و بیش نیزوں کے کچوکے، تلواروں کے وار اور تیروں کے زخم لگے ہوئے تھے اور ان کی ایک انگلی بھی کٹ چکی تھی، چنانچہ ہم نے ان کی مرہم پٹی کی اور حالت درست کی“۔
اسے امام ابن حبان نے شبابہ بن سوار کے طریق سے اسحاق بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4271
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»