المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ وقعة أحد باب: غزوۂ احد کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ : مَنْ رَأَى مَقْتَلَ حَمْزَةَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ أَعْزَلُ : أَنَا رَأَيْتُ مَقْتَلَهُ قَالَ : فَانْطَلِقْ فَأَرِنَاهُ ، فَخَرَجَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى حَمْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَرَآهُ وَقَدْ شُقَّ بَطْنُهُ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مُثِّلَ بِهِ وَاللهِ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ ، وَوَقَفَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْقَتْلَى ، فَقَالَ : أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ ، كَفِّنُوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ فَإِنَّهُ لَيْسَ جُرْحٌ يُجْرَحُ فِي اللهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدْمِي ، لَوْنُهُ لَوْنُ الدَّمِ ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ ، قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَاجْعَلُوهُ فِي اللَّحْدِ .سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہِ احد کے دن دریافت فرمایا: ”کون ہے جس نے حمزہ کے مقتل (شہید ہونے کی جگہ) کو دیکھا ہو؟“ ایک نہتے شخص نے عرض کی: ”میں نے ان کے مقتل کو دیکھا ہے۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر چلو اور ہمیں بھی دکھاؤ۔“ چنانچہ وہ شخص روانہ ہوا یہاں تک کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کے پاس جا کھڑا ہوا، اس نے دیکھا کہ ان کا پیٹ چاک کیا جا چکا تھا اور ان کے اعضاء کاٹ کر مثلہ کر دیا گیا تھا۔ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، ان کا تو مثلہ کر دیا گیا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے (شدتِ حزن و ملال کی بنا پر) ان کی طرف دیکھنا ناپسند فرمایا اور شہداء کے مابین کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا: ”میں ان سب پر (بارگاہِ الٰہی میں) گواہ ہوں۔ انہیں ان کے خون سمیت ہی کفن دے دو، کیونکہ اللہ کی راہ میں لگنے والا کوئی بھی زخم ایسا نہیں ہے جو قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس سے خون رس رہا ہو، جس کا رنگ تو خون جیسا ہوگا مگر اس کی خوشبو مشک کی مہک جیسی ہوگی۔ نیز جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو، انہیں (قبر میں) آگے کرو اور انہی کو پہلے لحد میں اتارو۔“
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے شواہد صحیح بخاری و صحیح مسلم میں موجود ہیں، جس کی بنا پر یہ روایت صحیح ہے۔