❮
❯
حدیث نمبر: 4267
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَمَّا انْجَلَى النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ نَظَرْتُ إِلَى الْقَتْلَى ، فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ ، فَقُلْتُ : وَاللهِ مَا كَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَفِرَّ ، وَمَا أَرَاهُ فِي الْقَتْلَى ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ غَضِبَ عَلَيْنَا بِمَا صَنَعْنَا فَرَفَعَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا لِي خَيْرٌ مِنْ أَنْ أُقَاتِلَ حَتَّى أُقْتَلَ ، فَكَسَرْتُ جَفْنَ سَيْفِي ، ثُمَّ حَمَلْتُ عَلَى الْقَوْمِ فَأُخْرِجُوا لِي ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ .
ترجمہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عکرمہ بیان کرتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”جب غزوہِ احد کے دن لوگ رسول اللہ ﷺ کے گرد سے منتشر ہو کر پیچھے ہٹ گئے، تو میں نے مقتولین میں آپ کو تلاش کیا مگر رسول اللہ ﷺ کو ان میں نہ پایا، تو میں نے (اپنے دل میں) کہا: ”اللہ کی قسم! اللہ کے رسول ﷺ ہرگز میدان چھوڑ کر جانے والے نہیں تھے، اور میں آپ ﷺ کو شہداء میں بھی نہیں دیکھ رہا، بلکہ میرا گمان یہ ہے کہ ہم نے جو (حکمِ نبوی کی نافرمانی کی) حرکت کی ہے اس کی وجہ سے اللہ عزوجل ہم پر ناراض ہو گیا ہے اور اس نے اپنے نبی ﷺ کو (آسمان پر) اٹھا لیا ہے، لہٰذا اب میرے لیے اس سے بہتر کوئی راہ نہیں کہ میں دشمن سے قتال کروں یہاں تک کہ قتل کر دیا جاؤں۔“ چنانچہ میں نے اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور کفار کے لشکر پر زوردار حملہ کیا تو انہوں نے میرے سامنے سے راستہ خالی کر دیا، کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان (محیط شرپسندوں کے نرغے میں سلامت) موجود ہیں۔“
مسند ابی یعلی: 4267، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کیا ہے کہ اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے محمد بن مروان العقیلی کے اور انہیں بھی ابوداؤد اور صلح بن محمد نے ثقہ قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4267
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 10074، 10075، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 675، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4571، 6645»