المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ وقعة أحد باب: غزوۂ احد کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، حَتَّى إِذَا خَلَّفَ ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ نَظَرَ وَرَاءَهُ ، فَإِذَا كَتِيبَةٌ خَشْنَاءُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيِّ ابْنِ سَلُولَ فِي مَوَالِيهِ مِنَ الْيَهُودِ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ ، وَهُمْ رَهْطُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ ، فَقَالَ : أَوَقَدْ أَسْلَمُوا ؟ قَالَ : إِنَّهُمْ عَلَى دِينِهِمْ ، قَالَ : قُلْ لَهُمْ : فَلْيَرْجِعُوا ، فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوۂ احد کے دن (مدینہ منورہ سے) روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ ثنیۃ الوداع نامی مقام سے آگے بڑھے تو آپ ﷺ نے اپنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک پُر شوکت اور ہتھیار بند فوجی دستہ نظر آیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ ”یہ عبداللہ بن ابی بن سلول ہے جو بنو قینقاع کے اپنے یہودی حلیفوں کے ساتھ موجود ہے، اور یہ عبداللہ بن سلام کی قوم کے لوگ ہیں“، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ لوگ اسلام لا چکے ہیں؟“ عرض کیا گیا: ”نہیں، بلکہ یہ اپنے ہی دین پر قائم ہیں“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں کہہ دو کہ وہ واپس لوٹ جائیں، کیونکہ ہم مشرکین کے مقابلے میں (دوسرے) مشرکین سے ہرگز مدد حاصل نہیں کرتے“۔
یہ سند حسن ہے۔