المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ وقعة أحد باب: غزوۂ احد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4266
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرِ حَمْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمُدَّتِ النَّمِرَةُ عَلَى رَأْسِهِ فَانْكَشَفَتْ رِجْلَاهُ ، فَمُدَّتْ عَلَى رِجْلَيْهِ فَانْكَشَفَ رَأْسُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُدُّوهَا عَلَى رَأْسِهِ ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنْ شَجَرِ الْحَرْمَلِ .ترجمہ
سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر (ان کی تدفین کے وقت) موجود تھا، پس جب ان کے جسدِ اطہر پر ایک دھاری دار اونی کملی ڈالی گئی تو ان کے پاؤں مبارک کھل گئے، اور جب اسے پاؤں کی طرف کھینچا گیا تو سر مبارک کھل گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس کملی کو ان کے سر کی جانب کر دو اور ان کے پاؤں پر حرمل (نامی خود رو پودے) کی شاخیں ڈال کر ڈھانپ دو۔“
اسے امام ابن ابی شیبہ نے المصنف میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔