❮
❯
حدیث نمبر: 4262
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ صَاحَ يَوْمَ أُحُدٍ : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ عَرَفَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَأَيْتُ عَيْنَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْمِغْفَرِ ، فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي : هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ : أَنِ اسْكُتْ ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ الْآيَةَ .
رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَكِنَّهُ مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ .
ترجمہ

امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: شیطان نے غزوۂ احد کے دن بلند آواز سے یہ پکارا: ”بے شک محمد (ﷺ) شہید کر دیے گئے ہیں۔“ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (اس کڑے وقت میں) میں وہ پہلا شخص تھا جس نے رسول اللہ ﷺ کو پہچانا، میں نے خود (لوہے کی ٹوپی) کے نیچے سے آپ ﷺ کی مبارک آنکھیں دیکھیں، تو میں نے اپنی نہایت بلند آواز سے پکارا: ”لوگو! یہ رہے اللہ کے رسول ﷺ (یعنی آپ ﷺ زندہ سلامت ہیں)۔“ تو آپ ﷺ نے میری طرف اشارہ فرمایا کہ: ”خاموش ہو جاؤ۔“ پس اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ﴾ [سورة آل عمران: 144] ”اور محمد (ﷺ) تو محض ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں، تو کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا وہ شہید کر دیے جائیں تو تم اپنی ایڑیوں کے بل (دوبارہ کفر کی طرف) پلٹ جاؤ گے؟“۔
اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت مرسل یا معضل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4262
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، معضل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَكِنَّهُ مُرْسَلٌ أَوْ مُعْضَلٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»