المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ وقعة أحد باب: غزوۂ احد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4270
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ .
4270 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ عَلِيٌّ بِسَيْفِهِ إِلَى فَاطِمَةَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ : اغْسِلِي سَيْفِي هَذَا ، فَقَدْ أَحْسَنْتُ الضِّرَابَ الْيَوْمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَئِنْ كُنْتَ أَحْسَنْتَ الْقِتَالَ فَقَدْ أَحْسَنَهُ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ .ترجمہ
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ احد کے دن اپنی تلوار لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا: ”میری اس تلوار کو دھو ڈالو، کیونکہ آج میں نے (میدانِ کارزار میں) بڑی عمدہ ضربیں لگائی ہیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے (سیدنا علی کی یہ بات سن کر) ارشاد فرمایا: ”اگر تم نے عمدہ طریقے سے قتال کیا ہے تو یقیناً عاصم بن ثابت، سہل بن حنیف اور حارث بن صمہ (رضی اللہ عنہم) نے بھی بہترین قتال کیا ہے“۔
امام احمد بن منیع اور امام ابو یعلیٰ نے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔