کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: سلف کی طرزِ زندگی کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ ؟ " فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ يَا رَسُولَ اللهِ . وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَخْرَجَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا يَا رَسُولَ اللهِ ، فَقَعَدَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ بِكُمَا قُوَّةٌ تَنْطَلِقَانِ إِلَى هَذَا النَّخْلِ ، فَتُصِيبَانِ طَعَامًا وَشَرَابًا وَظِلًّا " قَالَ : قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " مُرُّوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الْأَنْصَارِيِّ " فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأُمُّ الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرَاءَ الْبَابِ تَسْمَعُ الْكَلَامَ وَتُرِيدُ أَنْ يَزِيدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَرَادَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْصَرِفَ خَرَجَتْ أُمُّ الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خَلْفَهُمْ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَمِعْتُ وَاللهِ تَسْلِيمَكَ ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَزِيدَنَا مِنْ سَلَامِكَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا ، وَقَالَ : " أَيْنَ أَبُو الْهَيْثَمِ ؟ مَا أَرَاهُ " قَالَتْ : هُوَ قَرِيبٌ ، ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ ، ادْخُلُوا ، فَإِنَّهُ يَأْتِي السَّاعَةَ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى ، فَبَسَطَتْ لَهُمْ بِسَاطًا تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَجَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ وَفَرِحَ بِهِمْ ، وَقَرَّتْ عَيْنُهُ بِهِمْ ، وَصَعِدَ عَلَى نَخْلَةٍ فَصَرَمَ عِذْقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَسْبُكَ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، تَأْكُلُونَ مِنْ رُطَبِهِ وَمِنْ بُسْرِهِ وَمِنْ تَذْنُوبِهِ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بِمَاءٍ فَشَرِبُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ " . وَقَامَتْ أُمُّ الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَعْجِنُ لَهُمْ وَتَخْبِزُ ، وَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رُؤُوسَهُمْ لِلْقَائِلَةِ ، فَانْتَبَهُوا وَقَدْ أَدْرَكَ طَعَامُهُمْ ، فَوُضِعَ الطَّعَامُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا ، وَحَمِدُوا اللهَ تَعَالَى ، وَرَدَّتْ عَلَيْهِمْ أُمُّ الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَقِيَّةَ الْعِذْقِ ، فَأَكَلُوا مِنْ رُطَبِهِ وَمِنْ تَذْنُوبِهِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُمْ .
3153 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ثَنَا أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى ، فَذَكَرَهُ بِتَمَامِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حَتَّى أَتَيْنَا مَنْزِلَ مَالِكِ بْنِ التَّيِّهَانِ أَبِي الْهَيْثَمِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ : ثُمَّ دَعَا لَهُمْ بِخَيْرٍ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ : إِذَا بَلَغَكَ أَنْ قَدْ أَتَانَا رَقِيقٌ فَأْتِنَا ، قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَقِيقٍ ، أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَعْطَانِي رَأْسًا فَكَاتَبْتُهُ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ، فَمَا رَأَيْتُ رَأْسًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ .
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى : فَحَدَّثْتُ بِهِ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُسْلِمٍ الْمَكِّيَّ ، فَحَدَّثَنِي بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ فِيهِ : قَالَتْ لَهُ أُمُّ الْهَيْثَمِ : لَوْ دَعَوْتَ لَنَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسجد میں پایا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں اس وقت کس چیز نے (گھر سے) نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے (یعنی شدید بھوک)۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے خطاب کے بیٹے! تمہیں کس چیز نے نکالا ہے؟“ انہوں نے بھی یہی عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اسی ضرورت نے نکالا ہے جس نے آپ دونوں کو نکالا ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور رسول اللہ ﷺ ان دونوں سے گفتگو فرمانے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں اتنی سکت ہے کہ اس نخلستان کی طرف چلو تاکہ کچھ کھانے، پینے اور سائے کا انتظام ہو سکے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر چلو“۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ہمارے آگے آگے چلے، وہاں پہنچ کر آپ ﷺ نے تین مرتبہ سلام کیا اور اجازت طلب کی، جبکہ ام الہیثم رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے کلام سن رہی تھیں مگر وہ خاموش رہیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ مزید سلام (دعا) فرمائیں، جب آپ ﷺ واپس مڑنے لگے تو ام الہیثم رضی اللہ عنہا ان کے پیچھے نکل آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں نے آپ کا سلام سن لیا تھا لیکن میری خواہش تھی کہ آپ ہمیں اپنے سلام کی برکتوں میں مزید اضافہ عطا فرمائیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں کلماتِ خیر فرمائے اور پوچھا: ”ابوالہیثم کہاں ہیں؟ میں انہیں دیکھ نہیں رہا“۔ انہوں نے عرض کیا: وہ قریب ہی ہیں، ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں، آپ اندر تشریف لائیں وہ ابھی ان شاء اللہ پہنچتے ہیں، پھر انہوں نے ایک درخت کے نیچے بچھونا بچھا دیا، اتنے میں ابوالہیثم رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، وہ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے اور ایک خوشہ توڑ لائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوالہیثم! تمہارے لیے یہی کافی تھا“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (میری خواہش ہے کہ) آپ اس کی تازہ، گدرائی ہوئی اور پکی ہوئی ہر قسم کی کھجوریں تناول فرمائیں، پھر وہ پانی لائے اور سب نے پیا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تم سے (قیامت کے دن) سوال کیا جائے گا“۔ ام الہیثم رضی اللہ عنہا اٹھیں، آٹا گوندھا اور ان کے لیے روٹیاں پکائیں، رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے قیلولہ فرمایا، جب بیدار ہوئے تو کھانا تیار ہو چکا تھا، کھانا سامنے رکھا گیا تو سب نے سیر ہو کر کھایا اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی، پھر ام الہیثم رضی اللہ عنہا نے باقی بچا ہوا خوشہ بھی پیش کر دیا جس سے سب نے مختلف اقسام کی کھجوریں کھائیں، آخر میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں سلام کیا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔
امام بزار نے بھی اس کی تخریج کی ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے ابوالہیثم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب تمہیں معلوم ہو کہ ہمارے پاس قیدی (غلام) آئے ہیں تو ہمارے پاس آنا“، ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قیدی آئے ہیں تو میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، آپ ﷺ نے مجھے ایک غلام عطا فرمایا جسے میں نے چالیس ہزار درہم کے عوض مکاتب بنا دیا (آزادی کا معاہدہ کر لیا)، میں نے اس سے زیادہ بابرکت کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔
عبداللہ بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اسماعیل بن مسلم مکی کو سنائی تو انہوں نے بھی اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ ام الہیثم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) کاش آپ ہمارے لیے دعا فرما دیتے؟ تو آپ ﷺ نے یہ دعا دی: «أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» ”تمہارے پاس روزہ دار افطار کریں، تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں اور فرشتے تمہارے لیے دعائے رحمت و مغفرت کریں“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3153
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث منكر. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 179، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 5288، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 250، وأخرجه مسند البزار برقم: 205، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3153 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 568»
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَاتَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَتَيْتُ أَهْلِي ، فَقُلْتُ : هَلْ عِنْدَكُمْ عَشَاءٌ ؟ قَالُوا : لَا ، وَاللهِ مَا عِنْدَنَا عَشَاءٌ ، فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ مِنَ الْجُوعِ ، فَقُلْتُ : لَوْ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ ، وَتَعَلَّلْتُ حَتَّى أُصْبِحَ ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّيْتُ مَا شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ تَسَانَدْتُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ كَذَلِكَ ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : وَاللهِ مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكَ ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْكَرَنَا ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " فَبَادَرَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : خَرَجْتُ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ سَوَادَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَذَكَرَ الَّذِي كَانَ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا وَاللهِ مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا وَاللهِ مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا ، فَانْطَلِقُوا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ فَلَعَلَّنَا نَجِدُ عِنْدَهُ شَيْئًا يُطْعِمُنَا " فَخَرَجْنَا نَمْشِي ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْحَائِطِ فِي الْقَمَرِ ، فَقَرَعْنَا الْبَابَ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَفَتَحَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ زَوْجُكِ ؟ " قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ مِنْ حَشِّ بَنِي حَارِثَةَ ، الْآنَ يَأْتِيكُمْ ، قَالَ : فَجَاءَ يَحْمِلُ قِرْبَةً حَتَّى أَتَى بِهَا نَخْلَةً ، وَعَلَّقَهَا عَلَى كُرْنَافَةٍ مِنْ كَرَانِيفِهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا ، مَا زَارَ نَاسًا أَحَدٌ قَطُّ مِثْلُ مَنْ زَارَنِي ، ثُمَّ قَطَعَ لَنَا عِذْقًا فَأَتَانَا بِهِ ، فَجَعَلْنَا نُنَقِّي مِنْهُ فِي الْقَمَرِ ، وَنَأْكُلُ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَالَ فِي الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ " أَوْ قَالَ : " إِيَّاكَ وَذَاتَ الدَّرِّ " . فَأَخَذَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَاةً فَذَبَحَهَا وَسَلَخَهَا ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : قُومِي ، فَطَحَنَتْ وَخَبَزَتْ وَجَعَلَتْ تَقْطَعُ فِي الْقِدْرِ مِنَ اللَّحْمِ ، وَتُوقِدُ تَحْتَهَا حَتَّى فَرَغَ الْخُبْزُ وَاللَّحْمُ ، فَثَرَدَ ، وَغَرَفَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَرَقِ وَاللَّحْمِ ، ثُمَّ أَتَانَا بِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ أَيْدِينَا فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ وَقَدْ صَفَقَتْهَا الرِّيحُ ، فَبَرَدَ ، فَصَبَّ فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ نَاوَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَرِبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْدُ لِلهِ ، الَّذِي خَرَّجَنَا لَمْ يُخْرِجْنَا إِلَّا الْجُوعُ ، ثُمَّ رَجَعْنَا وَقَدْ أَصَبْنَا هَذَا ، لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، هَذَا مِنَ النَّعِيمِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَاقِفِيِّ : " مَا لَكَ خَادِمٌ يَسْقِيكَ الْمَاءَ ؟ " قَالَ : لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا حَتَّى نَأْمُرَ لَكَ بِخَادِمٍ " . فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَتَاهُ سَبْيٌ ، فَأَتَاهُ الْوَاقِفِيُّ فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ وَعْدُكَ الَّذِي وَعَدْتَنِي ، قَالَ : " هَذَا سَبْيٌ فَقُمْ فَاخْتَرْ مِنْهُ " . فَقَالَ : كُنْ أَنْتَ تَخْتَارُ لِي ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ هَذَا الْغُلَامَ وَأَحْسِنْ إِلَيْهِ " . قَالَ : فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ فَقَصَّ عَلَيْهَا الْقِصَّةَ قَالَتْ : فَأَيُّ شَيْءٍ قُلْتَ لَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَخْتَارُ لِي ، قَالَتْ : قَدْ أَحْسَنْتَ ، قَالَ لَكَ : أَحْسِنْ إِلَيْهِ ، فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ ، قَالَ : مَا الْإِحْسَانُ إِلَيْهِ ؟ قَالَتْ : أَنْ تُعْتِقَهُ ، قَالَ : فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک رات میرا رات کا کھانا فوت ہو گیا، میں گھر آیا اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس رات کا کھانا ہے؟“ گھر والوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہمارے پاس رات کا کھانا موجود نہیں ہے۔“ میں اپنے بستر پر لیٹ گیا لیکن بھوک کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تھی، چنانچہ میں نے سوچا کہ اگر میں مسجد چلا جاؤں، وہاں نماز پڑھوں اور صبح ہونے تک وقت گزار لوں تو بہتر ہوگا، پس میں مسجد کی طرف نکل گیا اور جتنی اللہ نے چاہی نماز پڑھی، پھر میں مسجد کے ایک گوشے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، اسی اثنا میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: ”ابوبکر“، انہوں نے پوچھا: ”آپ کو اس وقت کس چیز نے باہر نکالا ہے؟“ میں نے انہیں سارا قصہ سنا دیا، تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے۔“ پھر وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے، ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں (اس وقت وہاں دیکھ کر) اجنبی محسوس کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پہلے جواب دیتے ہوئے کہا: ”یہ ابوبکر اور عمر ہیں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم دونوں کو اس وقت کس چیز نے باہر نکالا ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں نکلا اور مسجد میں داخل ہوا تو مجھے ابوبکر کا ہیولا نظر آیا، میں نے پوچھا: کون ہے؟ انہوں نے بتایا: ابوبکر، میں نے پوچھا: آپ کو اس وقت کس چیز نے نکالا؟ تو انہوں نے سارا معاملہ ذکر کیا، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے بھی اسی سبب نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا۔“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تم دونوں کو نکالا ہے، چلو ہمارے ساتھ ابو الہیثم بن تیہان واقفی کے پاس چلو، شاید ہمیں ان کے پاس کھانے کو کچھ مل جائے۔“ پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ چاندنی رات میں ان کے باغ پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا، ان کی اہلیہ نے پوچھا: ”کون ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ اللہ کے رسول ﷺ، ابوبکر اور عمر ہیں۔“ انہوں نے ہمارے لیے دروازہ کھولا اور ہم داخل ہو گئے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا شوہر کہاں ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”وہ بنی حارثہ کے ایک باغ سے ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، وہ ابھی آ جائیں گے۔“ اتنے میں وہ ایک مشکیزہ اٹھائے ہوئے آگئے، انہوں نے اسے کھجور کے ایک درخت کی ٹہنی سے لٹکایا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا: ”خوش آمدید، مبارک آمد، کسی کے پاس بھی اس سے بہتر مہمان کبھی نہیں آئے جتنے بہتر مہمان میرے پاس آئے ہیں۔“ پھر انہوں نے ہمارے لیے کھجوروں کا ایک خوشہ توڑا اور ہمارے سامنے لے آئے، ہم چاندنی میں اس سے کھجوریں چن چن کر کھانے لگے، پھر انہوں نے چھری پکڑی اور بکریوں کی طرف چلے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دودھ دینے والی بکری سے بچنا۔“ انہوں نے ایک بکری پکڑی، اسے ذبح کیا اور اس کی کھال اتاری، پھر اپنی بیوی سے کہا: ”اٹھو (اور کھانا تیار کرو)“، چنانچہ انہوں نے آٹا پیسا اور روٹیاں پکائیں، اور ہانڈی میں گوشت کے ٹکڑے کر کے ڈالے اور اس کے نیچے آگ جلائی یہاں تک کہ گوشت اور روٹی تیار ہو گئی، پھر انہوں نے ثرید بنایا اور اس پر شوربہ اور گوشت ڈالا، پھر وہ اسے ہمارے پاس لائے اور اسے ہمارے سامنے رکھ دیا، ہم نے اسے سیر ہو کر کھایا، پھر وہ مشکیزے کی طرف بڑھے جسے ہوا نے ٹھنڈا کر دیا تھا، اس سے برتن میں پانی انڈیلا اور رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا، آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا اور انہوں نے پیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو دیا اور انہوں نے پیا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، جس نے ہمیں نکالا حالانکہ ہمیں صرف بھوک نے ہی (گھروں سے) نکالا تھا، پھر ہم واپس لوٹ رہے ہیں تو ہمیں یہ (نعمتیں) مل گئی ہیں، تم سے قیامت کے دن ان کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، یہ بھی ان نعمتوں میں سے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ابو الہیثم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں جو تمہیں پانی پلائے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ نہیں ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو ہمارے پاس آنا، تاکہ ہم تمہارے لیے ایک خادم کا حکم دے دیں۔“ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ آپ ﷺ کے پاس قیدی لائے گئے، ابو الہیثم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیسے آنا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا وہ وعدہ جو آپ نے مجھ سے کیا تھا“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قیدی موجود ہیں، اٹھو اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”آپ ہی میرے لیے انتخاب فرما دیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لڑکے کو لے لو اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔“ وہ اسے لے کر اپنی اہلیہ کے پاس آئے، انہوں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے سارا قصہ بیان کیا، اہلیہ نے پوچھا: ”آپ نے آپ ﷺ سے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے بتایا: ”میں نے عرض کیا تھا کہ آپ ہی میرے لیے انتخاب فرما دیں“، اہلیہ نے کہا: ”آپ نے بہت اچھا کیا، آپ ﷺ نے اس کے ساتھ بھلائی کی وصیت فرمائی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ نیک سلوک کریں“، شوہر نے پوچھا: ”اس کے ساتھ بہترین سلوک کیا ہو سکتا ہے؟“ بیوی نے جواب دیا: ”یہ کہ آپ اسے آزاد کر دیں“، انہوں نے کہا: ”پس یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔“
اس روایت کی سند میں یحییٰ بن عبید اللہ التیمی نامی راوی ضعیف ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح مسلم [حدیث نمبر: 5328] سمیت دیگر کتبِ حدیث میں مختلف شواہد و اسانید کے ساتھ مروی ہے، جس سے اس واقعے کی حقیقت ثابت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3154
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، فيه يحيى بن عُبيد الله التيمي وهو متروك، وفيه أبو هشام الرفاعي، وهو ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18262، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7357/2»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ سُرَيْجٍ ، عَنْ نُفَيْعِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " لَمْ يُنْخَلْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَقِيقٌ قَطُّ " .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ کے لیے (آپ ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ میں) کبھی بھی آٹا چھلنی سے نہیں چھانا گیا۔“
اس روایت کو امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں نفیع بن الحارث موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3155
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف جدًا؛ لوجود نُفيع بن الحارث وهو متروك، وبَشير بن سُريج وهو ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18236، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7337»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَالَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : لَوْ أَنَّكَ لَبِسْتَ ثِيَابًا أَلْيَنَ مِنْ ثِيَابِكَ ، وَأَكَلْتَ طَعَامًا أَلْيَنَ مِنْ طَعَامِكَ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا أُخَاصِمُكِ إِلَى نَفْسِكِ ، أَلَمْ تَعْلَمِي مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ؟ حَتَّى بَكَتْ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَدْ قُلْتُ لَكِ ، وَلَكِنِّي أُشَارِكُهُمَا فِي عَيْشِهِمَا الشَّدِيدِ لَعَلِّي أُشَارِكُهُمَا فِي عَيْشِهِمَا الرَّضِيِّ " ؟ فَأَقَرَّ بِهِ ، وَقَالَ : نَعَمْ .
3156 \ 2 - رَوَاهُ ( النَّسَائِيُّ ) فِي السُّنَنِ الْكُبْرَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَخِيهِ النُّعْمَانِ .
فَإِنْ كَانَ مُصْعَبٌ سَمِعَهُ مِنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهُوَ صَحِيحٌ ، وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .
ترجمہ
مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کی: ”کاش کہ آپ اپنے ان موجودہ کپڑوں سے زیادہ نرم و عمدہ لباس زیبِ تن فرماتے اور اپنے اس کھانے سے زیادہ بہتر اور نرم غذا تناول فرماتے!“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ان کی اس ہمدردانہ تجویز کے جواب میں) ارشاد فرمایا: ”میں (اس فیصلے کے لیے) تمہیں خود تمہارے اپنے نفس کے سامنے ہی پیش کرتا ہوں (کہ تم خود ہی انصاف کرو)؛ کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی (زہد و مشقت والی) زندگی کے احوال اس اس طرح معلوم نہیں ہیں؟“ (آپ رضی اللہ عنہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی سادہ زندگی کی تفصیلات یاد دلاتے رہے) یہاں تک کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے تم سے (اپنا مطمحِ نظر) بیان کر دیا ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ میں (دنیا میں) ان دونوں کی اس سخت اور پُرمشقت زندگی میں ان کا شریکِ حال رہنا چاہتا ہوں تاکہ (آخرت کی) اس پرلطف اور خوشگوار زندگی میں بھی ان کی رفاقت پا سکوں۔“
اسے امام نسائی نے السنن الکبریٰ میں سوید بن نصر، ابن مبارک، اسماعیل اور ان کے بھائی نعمان کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
پس اگر مصعب بن سعد نے یہ روایت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے براہِ راست سنی ہے تو یہ حدیث صحیح ہے، بصورتِ دیگر یہ مرسل ہے مگر اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3156
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: فَإِنْ كَانَ مُصْعَبٌ سَمِعَهُ مِنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهُوَ صَحِيحٌ ، وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 111، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 423، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 11806، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 25، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 35475»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، ثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ هُوَ الْقُرَظِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يُحَدِّثُ قَالَ : خَرَجْتُ فِي غَدَاةٍ شَاتِيَةٍ مِنْ بَيْتِي جَائِعًا حَرِضًا قَدْ أَذْلَقَنِي الْبَرْدُ ، فَأَخَذْتُ إِهَابًا مَعْطُوبًا ، قَدْ كَانَ عِنْدَنَا فَجُبْتُهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُهُ فِي عُنُقِي ، ثُمَّ حَزَمْتُهُ عَلَى صَدْرِي أَسْتَدْفِئُ بِهِ ، وَاللهِ مَا فِي بَيْتِي شَيْءٌ آكُلُ مِنْهُ ، وَلَوْ كَانَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَلَغَنِي ، فَخَرَجْتُ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ ، فَاطَّلَعْتُ إِلَى يَهُودِيٍّ فِي حَائِطٍ مِنْ ثُغْرَةِ جِدَارِهِ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا أَعْرَابِيُّ ؟ هَلْ لَكَ فِي كُلِّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَافْتَحِ الْحَائِطَ ، فَفَتَحَ لِي ، فَدَخَلْتُ فَجَعَلْتُ أَنْزِعُ دَلْوًا وَيُعْطِينِي تَمْرَةً حَتَّى إِذَا مَلَأْتُ كَفِّي ، قُلْتُ : حَسْبِي مِنْكَ الْآنَ فَأَكَلْتُهُنَّ ، ثُمَّ كَرَعْتُ فِي الْمَاءِ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِصَابَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بُرْدَةٍ لَهُ مَرْقُوعَةٍ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ مَا كَانَ فِيهِ مِنَ النَّعِيمِ ، وَرَأَى حَالَهُ الَّتِي هُوَ عَلَيْهَا ، فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَى ، ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا غَدَا أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي أُخْرَى ، وَسُتِرَتْ بُيُوتُكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ ؟ " قُلْنَا : نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ ، نُكْفَى الْمُؤْنَةَ ، وَنَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ " .
3157 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نَحْوَهُ .
قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِهِ مُخْتَصَرًا .
3157 \ 3 - وَرَوَى أَحْمَدُ ، مِنْ حَدِيثِ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْضَ قِصَّةِ التَّمْرِ .
3157 \ 4 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا أَبُو رَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، يُحَدِّثُ بِأَنَّ أَهْلَ الْعِرَاقِ ، أَصَابَتْهُمْ أَزْمَةٌ ، فَقَامَ بَيْنَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ أَبْشِرُوا فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيْكُمْ إِلَّا يَسِيرٌ حَتَّى تَرَوْا مَا يَسُرُّكُمْ مِنَ الرَّخَاءِ وَالْيُسْرِ ، قَدْ رَأَيْتُنِي بَكَيْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الدَّهْرِ ، مَا أَجِدُ شَيْئًا آكُلُهُ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلَنِي الْجُوعُ ، فَأَرْسَلْتُ فَاطِمَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَطْعِمُهُ لِي ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بُنَيَّةُ وَاللهِ مَا فِي الْبَيْتِ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا تَرَيْ - لِشَيْءٍ قَلِيلٍ بَيْنَ يَدَيْهِ - وَلَكِنِ ارْجِعِي فَسَيَرْزُقُكُمُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " فَلَمَّا جَاءَتْنِي فَأَخْبَرَتْنِي ، انْقَلَبْتُ وَذَهَبْتُ حَتَّى آتِيَ بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَإِذَا يَهُودِيٌّ عَلَى شَفِيرِ بِئْرٍ ، فَقَالَ : يَا عَلِيُّ هَلْ لَكَ أَنْ تَسْقِيَ نَخْلًا لِي وَأُطْعِمَكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَبَايَعْتُهُ عَلَى أَنْ أَنْزِعَ كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ ، فَجَعَلْتُ أَنْزِعُ ، فَكُلَّمَا نَزَعْتُ دَلْوًا أَعْطَانِي تَمْرَةً حَتَّى امْتَلَأَتْ يَدَايَ مِنَ التَّمْرِ ، فَقَعَدْتُ فَأَكَلْتُ ، ثُمَّ شَرِبْتُ مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا لَكَ بَطِنًا ، لَقَدْ لَقِيتُ الْيَوْمَ خَيْرًا ، ثُمَّ نَزَعْتُ كَذَلِكَ لِابْنَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَضَعْتُ ، فَانْقَلَبْتُ رَاجِعًا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ إِذَا أَنَا بِدِينَارٍ مُلْقًى ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَقَفْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَأُؤَامِرُ نَفْسِي لِآخُذَهُ أَمْ أَذَرَهُ ، فَأَبَيْتُ إِلَّا أَخْذَهُ ، وَقُلْتُ : أَسْتَشِيرُ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُهُ ، فَلَمَّا جِئْتُهَا أَخْبَرْتُهَا الْخَبَرَ ، فَقَالَتْ : هَذَا رِزْقٌ مِنَ اللهِ تَعَالَى ، فَانْطَلِقْ فَاشْتَرِ لَنَا دَقِيقًا ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى جِئْتُ السُّوقَ ، فَإِذَا أَنَا بِيَهُودِيٍّ مِنْ يَهُودِ فَدَكَ يَبِيعُ دَقِيقًا مِنْ دَقِيقِ الشَّعِيرِ ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ ، فَلَمَّا اكْتَلْتُ قَالَ : مَا أَنْتَ لِأَبِي الْقَاسِمِ ؟ قُلْتُ : ابْنُ عَمِّي وَابْنَتُهُ امْرَأَتِي ، فَأَعْطَانِي الدِّينَارَ فَجِئْتُهَا فَأَخْبَرْتُهَا الْخَبَرَ ، فَقَالَتْ : هَذَا رِزْقٌ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَاذْهَبْ بِهِ فَارْهَنْهُ بِثَمَانِيَةِ قَرَارِيطَ ، ذَهَبٌ فِي لَحْمٍ فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ جِئْتُهَا بِهِ فَقَطَّعْتُهُ لَهَا ، وَنَصَبَتْ ثُمَّ عَجَنَتْ وَخَبَزَتْ ثُمَّ صَنَعْنَا طَعَامًا ، وَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ ، فَجَاءَنَا ، فَلَمَّا رَأَى الطَّعَامَ قَالَ : " مَا هَذَا ؟ أَلَمْ تَأْتِنِي آنِفًا تَسْأَلُنِي ؟ " فَقُلْنَا : بَلَى ، اجْلِسْ يَا رَسُولَ اللهِ نُخْبِرْكَ الْخَبَرَ ، فَإِنْ رَأَيْتَهُ طَيِّبًا أَكَلْتَ وَأَكَلْنَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ ، فَقَالَ : " هُوَ طَيِّبٌ ، فَكُلُوا بِاسْمِ اللهِ " ، ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ ، فَإِذَا هُوَ بِأَعْرَابِيَّةٍ تَشْتَدُّ كَأَنَّهُ نُزِعَ فُؤَادُهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَبِي أَبْضَعَ مَعِي بِدِينَارٍ فَسَقَطَ مِنِّي ، وَاللهِ مَا أَدْرِي أَيْنَ سَقَطَ ، فَانْظُرْ بِأَبِي وَأُمِّي أَنْ يُذْكَرَ لَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْعِي لِي عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ " فَجِئْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكَ : إِنَّ قَرَارِيطَكَ عَلَيَّ ، فَأَرْسِلْ بِالدِّينَارِ " فَأَرْسَلَ بِهِ ، فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّةَ فَذَهَبَتْ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں سردی کی ایک صبح اپنے گھر سے نہایت بھوک کی حالت میں نکلا جبکہ سردی نے مجھے بے حال کر رکھا تھا، میرے پاس ایک پرانا سا چمڑا تھا جسے میں نے درمیان سے پھاڑ کر اپنے گلے میں ڈال لیا اور اپنے سینے پر اسے کس کر باندھ لیا تاکہ کچھ حرارت حاصل کر سکوں، اللہ کی قسم! اس وقت میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا، اور اگر نبی کریم ﷺ کے گھر میں بھی کوئی چیز ہوتی تو مجھ تک ضرور پہنچ جاتی، میں مدینہ کے ایک مضافاتی علاقے کی طرف نکل کھڑا ہوا، وہاں میں نے دیوار کے ایک شگاف سے ایک یہودی کے باغ میں جھانکا تو اس نے پوچھا: "اے دیہاتی! تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا تم ہر ڈول نکالنے کے بدلے ایک کھجور لینا پسند کرو گے؟" میں نے کہا: "ہاں، تم باغ کا دروازہ کھولو"، اس نے میرے لیے دروازہ کھولا تو میں اندر داخل ہو گیا، میں کنویں سے ڈول نکالتا رہا اور وہ مجھے ایک ایک کھجور دیتا رہا یہاں تک کہ جب میری مٹھی بھر گئی تو میں نے کہا: "میرے لیے اب اتنی ہی کافی ہیں"، پھر میں نے وہ کھجوریں کھائیں اور چلو بھر کر پانی پیا، اس کے بعد میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مسجد میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا جبکہ آپ ﷺ صحابہ کرام کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، اسی دوران سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ایک پیوند لگی چادر اوڑھے ہوئے نمودار ہوئے، جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھا تو آپ ﷺ کو ان کی وہ پہلی زندگی اور خوشحالی یاد آگئی جس میں وہ (اسلام لانے سے قبل) رہا کرتے تھے، پھر ان کی موجودہ حالت دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ ﷺ رونے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم میں سے کوئی صبح ایک خوبصورت جوڑے میں نکلے گا اور شام کو دوسرے میں، اور تمہارے گھروں پر پردے ویسے ہی لٹکائے جائیں گے جیسے کعبہ پر لٹکائے جاتے ہیں؟" ہم نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اس دن تو ہم آج کے مقابلے میں بہت بہتر حالت میں ہوں گے کیونکہ ہماری ضروریات پوری ہوں گی اور ہم صرف عبادت کے لیے فارغ ہوں گے"، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "نہیں، بلکہ تم لوگ آج کے دن ان دنوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہو"۔
امام اسحاق نے یہ روایت وہب بن جریر کے واسطے سے نقل کی ہے۔
میں کہتا ہوں: امام ترمذی نے اسے ابن اسحاق کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔
امام احمد نے مجاہد کے طریق سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کھجور والے قصے کا کچھ حصہ روایت کیا ہے۔
ابن ابی عمر نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا کہ ایک مرتبہ اہل عراق قحط کا شکار ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: "اے لوگو! خوش ہو جاؤ، اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ تھوڑا ہی عرصہ گزرے گا کہ تم وہ خوشحالی اور آسانی دیکھو گے جو تمہیں خوش کر دے گی، میں نے اپنی زندگی کا وہ دور بھی دیکھا ہے جب میں تین دن تک بھوکا رہا اور میرے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ بھوک مجھے ہلاک کر دے گی، میں نے سیدہ فاطمہ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا کہ وہ میرے لیے کچھ طعام مانگ لائیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اے میری بیٹی! اللہ کی قسم، گھر میں کسی جاندار کے کھانے کے لیے کچھ نہیں سوائے اس تھوڑی سی چیز کے جو تم میرے سامنے دیکھ رہی ہو، لیکن تم واپس چلی جاؤ، عنقریب اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں رزق عطا فرمائے گا"، جب وہ واپس آئیں اور مجھے خبر دی تو میں باہر نکلا اور بنو قریظہ پہنچا، وہاں ایک یہودی کنویں کے کنارے پر تھا، اس نے کہا: "اے علی! کیا تم میرے نخلستان کو پانی پلانے کے عوض کھانا پسند کرو گے؟" میں نے کہا: "ہاں"، چنانچہ میرا اس سے یہ معاہدہ ہوا کہ ہر ڈول نکالنے پر وہ مجھے ایک کھجور دے گا، میں ڈول نکالتا رہا اور وہ مجھے کھجوریں دیتا رہا یہاں تک کہ میرے دونوں ہاتھ کھجوروں سے بھر گئے، میں بیٹھ گیا اور انہیں کھایا، پھر پانی پیا اور اپنے نفس سے کہا: "تمہارا بھلا ہو، تم نے آج بڑی خیر پالی ہے"، پھر میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی کے لیے بھی محنت کر کے کھجوریں حاصل کیں، پھر میں واپس پلٹا، ابھی میں راستے ہی میں تھا کہ مجھے ایک گرا ہوا دینار ملا، میں نے ٹھہر کر اسے دیکھا اور اپنے دل میں مشورہ کیا کہ اسے اٹھاؤں یا رہنے دوں، پھر میں نے اسے اٹھا ہی لیا اور سوچا کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سے مشورہ کروں گا، جب میں نے انہیں آ کر بتایا تو انہوں نے کہا: "یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ رزق ہے، آپ جائیں اور ہمارے لیے آٹا خرید لائیں"، میں بازار گیا تو وہاں فدک کا ایک یہودی جَو کا آٹا بیچ رہا تھا، میں نے اس سے آٹا خریدا، جب تول مکمل ہو گیا تو اس نے پوچھا: "تمہارا ابوالقاسم ﷺ سے کیا رشتہ ہے؟" میں نے بتایا کہ میں ان کا چچیرا بھائی ہوں اور ان کی صاحبزادی میری زوجہ ہیں، تو اس نے وہ دینار مجھے واپس کر دیا، میں نے آ کر سیدہ فاطمہ کو بتایا تو انہوں نے کہا: "یہ اللہ عزوجل کی طرف سے رزق ہے، اسے لے جائیں اور آٹھ قیراط سونے کے عوض گوشت لے آئیں"، میں نے ایسا ہی کیا، پھر میں گوشت لایا اور اسے کاٹ کر دیا، انہوں نے ہانڈی چولہے پر رکھی، آٹا گوندھا اور روٹیاں پکائیں، جب کھانا تیار ہو گیا تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو بلاوا بھیجا، آپ ﷺ تشریف لائے اور کھانا دیکھ کر پوچھا: "یہ سب کیا ہے؟ کیا تم ابھی میرے پاس بھوک کی شکایت لے کر نہیں آئے تھے؟" ہم نے عرض کیا: "جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ تشریف رکھیں ہم آپ کو پورا واقعہ سناتے ہیں، اگر آپ اسے حلال و طیب پائیں تو آپ بھی کھائیں اور ہم بھی کھائیں گے"، جب ہم نے آپ ﷺ کو سارا ماجرا سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ طیب و حلال ہے، تم اللہ کا نام لے کر کھاؤ"، پھر رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ایک دیہاتی عورت سخت پریشانی میں دوڑی چلی آ رہی ہے گویا اس کا دل چھین لیا گیا ہو، اس نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! میرے والد نے مجھے ایک دینار دے کر بھیجا تھا جو مجھ سے گر گیا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہاں گرا، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ دیکھیں کیا اس کا کوئی ذکر آپ تک پہنچا ہے؟" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "علی بن ابی طالب کو بلاؤ"، جب میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "اس قصائی کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ تمہارے قیراط میرے ذمے ہیں، تم وہ دینار واپس بھیج دو"، اس نے وہ دینار بھیج دیا اور آپ ﷺ نے وہ اس دیہاتی خاتون کے حوالے کر دیا"۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3157
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف؛ لإبهام الرجل الذي يَروي عنه محمَّد بن كعب. 3157/2:الحديث بهذا الإسناد ضعيف؛ لعنعنة أبي إسحاق، ولجهالة الشيخ الذي روى عنه يزيد بن رُومان. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 2473، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7338»
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا أَبُو الْعَطُوفِ الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَالٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْأَنْصَارِ ، فَجَعَلْنَا نَلْتَقِطُ مِنَ التَّمْرِ وَنَأْكُلُ ، فَقَالَ لِي : " يَا ابْنَ عُمَرَ مَا لَكَ لَا تَأْكُلُ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ لَا أَشْتَهِيهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكِنِّي أَشْتَهِيهِ وَهَذِهِ صُبْحُ رَابِعَةٍ مُنْذُ لَمْ أَذُقْ طَعَامًا وَلَمْ أَجِدْهُ ، وَلَوْ شِئْتُ دَعَوْتُ رَبِّي فَأَعْطَانِي مِثْلَ مُلْكِ كِسْرَى وَقَيْصَرَ ، فَكَيْفَ بِكَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُخَبِّئُونَ رِزْقَ سَنَةٍ وَيَضْعُفُ الْيَقِينُ ؟ " فَوَاللهِ مَا بَرِحْنَا وَلَا ذَهَبْنَا حَتَّى نَزَلَتْ : وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَأْمُرْنِي بِكَنْزِ الدُّنْيَا وَلَا اتِّبَاعِ الشَّهَوَاتِ ، فَمَنْ كَنَزَهَا يُرِيدُ بِهَا حَيَاةً بَاقِيَةً ، فَإِنَّ الْحَيَاةَ بِيَدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَكْنِزُ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا أُخَبِّئُ رِزْقًا لِغَدٍ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلا یہاں تک کہ ہم انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے، پس ہم وہاں سے کھجوریں چننے اور کھانے لگے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: "اے ابن عمر! تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں کھا رہے؟" میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان کی رغبت نہیں ہو رہی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "لیکن مجھے ان کی اشتہا ہو رہی ہے اور یہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے کھانے کا ایک لقمہ تک نہیں چکھا اور نہ ہی مجھے کچھ میسر آیا ہے، اگر میں چاہتا تو اپنے رب سے دعا کرتا اور وہ مجھے کسریٰ و قیصر کی بادشاہت جیسا مال و متاع عطا فرما دیتا، اے ابن عمر! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو ایک ایک سال کا رزق جمع کر کے چھپائیں گے اور ان کا اللہ پر یقین و توکل کمزور ہو جائے گا؟" ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی ہم اپنی جگہ سے ہٹے نہیں تھے اور نہ ہی کہیں گئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة العنكبوت: 60]، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کا مال جمع کرنے اور خواہشات کی پیروی کا حکم نہیں دیا، پس جو شخص دنیا کا مال اس نیت سے جمع کرتا ہے کہ اسے ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی تو وہ جان لے کہ زندگی تو اللہ عزوجل ہی کے ہاتھ میں ہے، خبردار! میں نہ تو کوئی دینار جمع کرتا ہوں اور نہ ہی درہم، اور نہ ہی کل کے لیے کوئی رزق چھپا کر رکھتا ہوں۔"
اس حدیث کی سند میں ابو العطوف جراح بن منہال متروک الحدیث اور ضعیف راوی ہے، اس روایت کی تخریج امام بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3158
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، فيه الجَرَّاح بن مِنْهال، وهو متروك، وفيه الزُّهري وهو مقبول، وفيه انقطاع، عطاء لم يسمع من ابن عمر رضي الله عنهما. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 816، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 4856»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : جَعَلَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا طَعَامًا فَجَعَلَ يَرْفَعُ قَصْعَةً وَيَضَعُ قَصْعَةً . قَالَ : فَحَوَّلَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ تَبْكِي ، فَقَالَ لَهَا عُرْوَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَدَّرْتِ عَلَيْنَا ، فَقَالَتْ : " وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ ، مَا رَأَى الْمَنَاخِلَ مُنْذُ بَعَثَهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى قُبِضَ " .
ترجمہ
ابو حازم سے روایت ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے کھانا تیار کیا اور وہ (پرتکلف انداز میں) ایک پیالہ لاتے اور دوسرا رکھتے جا رہے تھے، یہ دیکھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا رخِ انور دیوار کی طرف پھیر لیا اور رونے لگیں۔ اس پر سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”آپ نے تو ہم پر (اس خوشی کے موقع کو) مکدر کر دیا ہے“، تو انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! انہوں نے (نبی کریم ﷺ نے) جب سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں مبعوث فرمایا اپنی وفات تک کبھی چھلنی نہیں دیکھی تھی۔“
وضاحت: عرب حدیثی کتب میں اختصار کے پیشِ نظر یا خاندانی شرف کی وجہ سے بسا اوقات ان کے نام کے ساتھ بھی ”رضی اللہ عنہما“ یا ”رضی اللہ عنہ“ لکھ دیا جاتا ہے (جیسے ان کے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کی وجہ سے)، تاہم تمام ائمہ رجال و تاریخ کے نزدیک وہ علمی و طبقاتی لحاظ سے کبارِ تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام رجال ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3159
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسنادہ صحہح »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 25059»
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشٍ حَشْوُهُ لِيفٌ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَقَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثَّرَ بِجِلْدِهِ ، فَبَكَيْتُ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، مَا يُبْكِيكِ ؟ " فَقُلْتُ : مَا أَرَى مِنْ أَثَرِ هَذَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبْكِي ، فَوَاللهِ لَوْ أَرَدْتُ أَنْ تَسِيرَ مَعِي الْجِبَالُ لَسَارَتْ " .
( 121 ) وَحَدِيثُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْجَفْنَةِ فِي بَيْتِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي مَنَاقِبِهَا .
ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے بستر پر آرام فرما ہوئے جس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کا تکیہ بھی کھجور کے ریشوں سے بھرا ہوا تھا۔ پھر جب نبی کریم ﷺ بیدار ہو کر اٹھے تو اس بستر کے نشانات آپ کے جسمِ مبارک پر پڑ گئے تھے۔ یہ دیکھ کر میں رو پڑی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ام سلمہ! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟“ میں نے عرض کی: میں آپ کے جسمِ مبارک پر اس بستر کے نشانات دیکھ رہی ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم مت روؤ، اللہ کی قسم! اگر میں چاہتا کہ پہاڑ میرے ساتھ چلیں تو وہ ضرور میرے ساتھ چلنے لگتے۔“
(121) اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں لگن (بڑے برتن) کے قصے سے متعلق ہے، ان کے مناقب کے بیان میں موجود ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3160
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد موضوع، فيه عبد العزيز بن أبان وهو متروك، وعبد الغفار بن القاسم، وهو وضاع. »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 918، وأخرجه موطأ مالك برقم: 810 / 269، وأخرجه المنتقى لابن الجارود برقم: 766، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 2949، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 2750، وأخرجه سنن النسائي برقم: 3254 / 1، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 5375، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 2122، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 3511، وأخرجه مسند الدارمي برقم: 2256، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1598، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 7225، وأخرجه سنن الدارقطني برقم: 3733، وأخرجه مسند أحمد برقم: 16602، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 1446، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6907، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4116 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 6701، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 17224، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 4275، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 5754، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 497»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، قَالَ : أَمُوتُ عَلَى أَمْرٍ لَمْ يَسُنَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَمَا أَنِّي لَمْ أَدَعْ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا مَا فِي سَيْفِي هَذَا ، فَبِيعُوهُ وَكَفِّنُونِي بِهِ .
ترجمہ
مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا: ”میں ایک ایسی حالت میں وفات پا رہا ہوں جس کا طریقہ نہ تو رسول اللہ ﷺ نے جاری فرمایا اور نہ ہی سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اختیار فرمایا، خبردار رہو! میں نے سونے اور چاندی (مال و متاع) کی صورت میں کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے اس کے جو میری اس تلوار کی قیمت میں ہے، پس تم اسے فروخت کر دینا اور اسی کی رقم سے میرا کفن تیار کرنا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3161
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجال إسناده ثقات، لكنه ضعيف؛ لأنه من رواية هُشيم وهو مدلس، لا يقبل حديثه إلّا إذا صرح فيه بالسماع، وقد عنعنه هنا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ أَبُو بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَانَتِ الْعَرَبُ تَقُولُ : " مَنْ أَكَلَ الْخُبْزَ سَمِنَ " ، فَلَمَّا افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ أَجْهَضْنَاهُمْ عَنْ خُبْزَةٍ لَهُمْ ، فَقَعَدْتُ عَلَيْهَا فَأَكَلْتُ حَتَّى شَبِعْتُ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ فِي عِطْفَيَّ هَلْ سَمِنْتُ ؟ .
ترجمہ
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”اہلِ عرب یہ کہا کرتے تھے کہ: ”جو شخص روٹی کھاتا ہے وہ فربہ (موٹا) ہو جاتا ہے“، چنانچہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو ہم نے اہل خیبر کو ان کی ایک تیار شدہ روٹی سے دور بھگا دیا (یعنی وہ اسے چھوڑ کر بھاگ گئے)، تو میں اس پر بیٹھ گیا اور میں نے اسے اتنا کھایا کہ میں سیر ہو گیا، پھر میں اپنے دونوں پہلوؤں کی طرف دیکھنے لگا کہ کیا میں واقعی موٹا ہو گیا ہوں؟“۔
اس روایت کی سند حسن ہے اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3162
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الإسناد رجاله ثقات، لكنه منقطع بين الحسن وبين أبي برزَة رضي الله عنه، (انظر علل ابن المديني ص 56). »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 2617، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 18073، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 24862»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي فَائِدٌ مَوْلَى عَبَادِلَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : إِنَّ جَدَّتَهُ سَلْمَى أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَقَالُوا : اصْنَعِي لَنَا طَعَامًا مِمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَأْكُلَهُ ، قَالَتْ لِلْحَسَنِ : يَا بُنَيَّ ، إِنَّا لَا نَشْتَهِيهِ الْيَوْمَ ، فَأَخَذَتْ شَعِيرًا فَطَحَنَتْهُ ، وَنَسَفَتْهُ ، وَجَعَلَتْ مِنْهُ خُبْزَةً وَجَعَلَتْ أُدْمَهُ الزَّيْتَ وَنَثَرَتْ عَلَيْهِ فُلْفُلًا ، وَقَرَّبَتْهُ إِلَيْهِمْ وَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ هَذِهِ وَيُحْسِنُ أَكْلَهَا .
أَخْرَجَهُ ( التِّرْمِذِيُّ ) فِي الشَّمَائِلِ .
ترجمہ
سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی، سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے: ”ہمارے لیے وہ کھانا تیار کریں جو رسول اللہ ﷺ کو مرغوب تھا اور جسے آپ ﷺ رغبت سے تناول فرمایا کرتے تھے“، انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے میرے پیارے بیٹے! آج کل ہمیں ایسی (سادہ) غذا کی رغبت نہیں رہی“، پھر انہوں نے تھوڑے سے جو لیے، انہیں پیسا اور چھان کر ان کا بھوسا صاف کیا، پھر ان سے روٹی تیار کی اور سالن کے طور پر زیتون کا تیل استعمال کیا اور اس پر کالی مرچ چھڑک دی، پھر اسے ان کے سامنے پیش کیا اور کہا: ”رسول اللہ ﷺ اس کھانے کو بہت پسند فرماتے تھے اور اسے نہایت خوشدلی و رغبت سے تناول فرمایا کرتے تھے“۔
اسے امام ترمذی نے اپنی کتاب ”الشمائل المحمدیہ“ میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف، لضعف فُضيل بن سليمان، وعُبيد الله بن علي. »
«أخرجه الشمائل للترمذي برقم: 178، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 759»
وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : أَعْرَسَ ابْنُ أُخْتٍ لَنَا فَصَنَعَ طَعَامًا ، فَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْكُثُ أَيَّامًا لَا يَأْكُلُ ، فَإِذَا وَجَدَ جِلْدَةً اجْتَزَأَ بِهَا ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ عَصَبَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا .
ترجمہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے ایک بھانجے کی شادی ہوئی تو انہوں نے کھانے کا اہتمام کیا، اس موقع پر ابن سیرین رحمہ اللہ نے (صحابہ کرام کے زہد و فقر کا تذکرہ کرتے ہوئے) فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام میں سے کوئی شخص کئی کئی دن اس حال میں گزار دیتا کہ وہ کچھ نہیں کھاتا تھا، پھر اگر اسے (سوکھے ہوئے) چمڑے کا کوئی ٹکڑا مل جاتا تو وہ اسی پر گزارہ کر لیتا، اور اگر اسے کچھ بھی میسر نہ آتا تو وہ (بھوک کی شدت سے بچنے کے لیے) اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا۔“
اسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3164
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد صحيح، رجاله ثقات. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 36694»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةِ نَخْلَةَ وَمَعَنَا عَمْرُو بْنُ سُرَاقَةَ ، وَكَانَ رَجُلًا لَطِيفَ الْبَطْنِ ، طَوِيلًا فَجَاعَ فَانْثَنَى صُلْبُهُ ، فَكَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْشِيَ ، فَسَقَطَ عَلَيْنَا ، فَأَخَذْنَا صَفِيحَةً مِنْ حِجَارَةٍ فَرَبَطْنَاهَا عَلَى بَطْنِهِ ، ثُمَّ شَدَدْنَاهَا إِلَى صُلْبِهِ ، فَمَشَى مَعَنَا ، فَجِئْنَا حَيًّا مِنَ الْعَرَبِ فَضَيَّفُونَا فَمَشَى مَعَنَا ، ثُمَّ قَالَ : كُنْتُ أَحْسَبُ : الرِّجْلَيْنِ يَحْمِلَانِ الْبَطْنَ ، فَإِذَا الْبَطْنُ يَحْمِلُ الرِّجْلَيْنِ .
ترجمہ
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مقامِ نخلہ کی طرف ایک لشکری مہم (سریہ) میں روانہ فرمایا، ہمارے ہمراہ سیدنا عمرو بن سراقہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ ایک دبلی پتلی کمر والے دراز قد شخص تھے، (سفر کے دوران) انہیں ایسی شدید بھوک لگی کہ (نقاہت کی وجہ سے) ان کی کمر مڑ گئی اور وہ چلنے کی سکت کھو کر ہمارے پاس گر پڑے، تو ہم نے ایک ہموار پتھر کا ٹکڑا لے کر ان کے پیٹ پر رکھا اور اسے ان کی کمر کے گرد مضبوطی سے باندھ دیا، جس کے بعد وہ ہمارے ساتھ چلنے کے قابل ہو گئے، پھر ہم عرب کے ایک قبیلے کے پاس پہنچے جنہوں نے ہماری میزبانی کی (اور کھانا کھلایا)، اس کے بعد وہ ہمارے ساتھ (بآسانی) چلنے لگے اور کہنے لگے: ”میں تو یہ سمجھتا تھا کہ پاؤں پیٹ کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مگر حقیقت یہ کھلی کہ پیٹ ہی پاؤں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔“
یہ روایت مسند الحارث کی ہے، جس کی سند میں یعقوب بن محمد الزہری پر اگرچہ کلام ہے، تاہم امام بوسیری نے زوائد میں دیگر رواۃ کو ثقہ قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3165
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الأثر بهذا الإسناد ضعيف، فيه علتان:، 1 - يعقوب بن محمَّد الزهري، وهو ضعيف.، 2 - أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ، ولم أر من ترجم له. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»