❮
❯
حدیث نمبر: 3154
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَاتَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَتَيْتُ أَهْلِي ، فَقُلْتُ : هَلْ عِنْدَكُمْ عَشَاءٌ ؟ قَالُوا : لَا ، وَاللهِ مَا عِنْدَنَا عَشَاءٌ ، فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ مِنَ الْجُوعِ ، فَقُلْتُ : لَوْ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ ، وَتَعَلَّلْتُ حَتَّى أُصْبِحَ ، فَخَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّيْتُ مَا شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ تَسَانَدْتُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ كَذَلِكَ ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ : مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : وَاللهِ مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكَ ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْكَرَنَا ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " فَبَادَرَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ " فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : خَرَجْتُ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ سَوَادَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَبُو بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ فَذَكَرَ الَّذِي كَانَ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا وَاللهِ مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا وَاللهِ مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا ، فَانْطَلِقُوا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ فَلَعَلَّنَا نَجِدُ عِنْدَهُ شَيْئًا يُطْعِمُنَا " فَخَرَجْنَا نَمْشِي ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْحَائِطِ فِي الْقَمَرِ ، فَقَرَعْنَا الْبَابَ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَفَتَحَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ زَوْجُكِ ؟ " قَالَتْ : ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ مِنْ حَشِّ بَنِي حَارِثَةَ ، الْآنَ يَأْتِيكُمْ ، قَالَ : فَجَاءَ يَحْمِلُ قِرْبَةً حَتَّى أَتَى بِهَا نَخْلَةً ، وَعَلَّقَهَا عَلَى كُرْنَافَةٍ مِنْ كَرَانِيفِهَا ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا ، مَا زَارَ نَاسًا أَحَدٌ قَطُّ مِثْلُ مَنْ زَارَنِي ، ثُمَّ قَطَعَ لَنَا عِذْقًا فَأَتَانَا بِهِ ، فَجَعَلْنَا نُنَقِّي مِنْهُ فِي الْقَمَرِ ، وَنَأْكُلُ ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَجَالَ فِي الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ " أَوْ قَالَ : " إِيَّاكَ وَذَاتَ الدَّرِّ " . فَأَخَذَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَاةً فَذَبَحَهَا وَسَلَخَهَا ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : قُومِي ، فَطَحَنَتْ وَخَبَزَتْ وَجَعَلَتْ تَقْطَعُ فِي الْقِدْرِ مِنَ اللَّحْمِ ، وَتُوقِدُ تَحْتَهَا حَتَّى فَرَغَ الْخُبْزُ وَاللَّحْمُ ، فَثَرَدَ ، وَغَرَفَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَرَقِ وَاللَّحْمِ ، ثُمَّ أَتَانَا بِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ أَيْدِينَا فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ وَقَدْ صَفَقَتْهَا الرِّيحُ ، فَبَرَدَ ، فَصَبَّ فِي الْإِنَاءِ ، ثُمَّ نَاوَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَرِبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَمْدُ لِلهِ ، الَّذِي خَرَّجَنَا لَمْ يُخْرِجْنَا إِلَّا الْجُوعُ ، ثُمَّ رَجَعْنَا وَقَدْ أَصَبْنَا هَذَا ، لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، هَذَا مِنَ النَّعِيمِ " ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَاقِفِيِّ : " مَا لَكَ خَادِمٌ يَسْقِيكَ الْمَاءَ ؟ " قَالَ : لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا حَتَّى نَأْمُرَ لَكَ بِخَادِمٍ " . فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَتَاهُ سَبْيٌ ، فَأَتَاهُ الْوَاقِفِيُّ فَقَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ وَعْدُكَ الَّذِي وَعَدْتَنِي ، قَالَ : " هَذَا سَبْيٌ فَقُمْ فَاخْتَرْ مِنْهُ " . فَقَالَ : كُنْ أَنْتَ تَخْتَارُ لِي ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذْ هَذَا الْغُلَامَ وَأَحْسِنْ إِلَيْهِ " . قَالَ : فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَقَالَتْ : مَا هَذَا ؟ فَقَصَّ عَلَيْهَا الْقِصَّةَ قَالَتْ : فَأَيُّ شَيْءٍ قُلْتَ لَهُ ؟ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَخْتَارُ لِي ، قَالَتْ : قَدْ أَحْسَنْتَ ، قَالَ لَكَ : أَحْسِنْ إِلَيْهِ ، فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ ، قَالَ : مَا الْإِحْسَانُ إِلَيْهِ ؟ قَالَتْ : أَنْ تُعْتِقَهُ ، قَالَ : فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ تَعَالَى .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک رات میرا رات کا کھانا فوت ہو گیا، میں گھر آیا اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس رات کا کھانا ہے؟“ گھر والوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! ہمارے پاس رات کا کھانا موجود نہیں ہے۔“ میں اپنے بستر پر لیٹ گیا لیکن بھوک کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تھی، چنانچہ میں نے سوچا کہ اگر میں مسجد چلا جاؤں، وہاں نماز پڑھوں اور صبح ہونے تک وقت گزار لوں تو بہتر ہوگا، پس میں مسجد کی طرف نکل گیا اور جتنی اللہ نے چاہی نماز پڑھی، پھر میں مسجد کے ایک گوشے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، اسی اثنا میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نمودار ہوئے اور پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: ”ابوبکر“، انہوں نے پوچھا: ”آپ کو اس وقت کس چیز نے باہر نکالا ہے؟“ میں نے انہیں سارا قصہ سنا دیا، تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے۔“ پھر وہ میرے پہلو میں بیٹھ گئے، ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں (اس وقت وہاں دیکھ کر) اجنبی محسوس کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہیں؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پہلے جواب دیتے ہوئے کہا: ”یہ ابوبکر اور عمر ہیں۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم دونوں کو اس وقت کس چیز نے باہر نکالا ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”میں نکلا اور مسجد میں داخل ہوا تو مجھے ابوبکر کا ہیولا نظر آیا، میں نے پوچھا: کون ہے؟ انہوں نے بتایا: ابوبکر، میں نے پوچھا: آپ کو اس وقت کس چیز نے نکالا؟ تو انہوں نے سارا معاملہ ذکر کیا، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے بھی اسی سبب نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا۔“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا ہے جس نے تم دونوں کو نکالا ہے، چلو ہمارے ساتھ ابو الہیثم بن تیہان واقفی کے پاس چلو، شاید ہمیں ان کے پاس کھانے کو کچھ مل جائے۔“ پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ چاندنی رات میں ان کے باغ پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا، ان کی اہلیہ نے پوچھا: ”کون ہے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ اللہ کے رسول ﷺ، ابوبکر اور عمر ہیں۔“ انہوں نے ہمارے لیے دروازہ کھولا اور ہم داخل ہو گئے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا شوہر کہاں ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”وہ بنی حارثہ کے ایک باغ سے ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، وہ ابھی آ جائیں گے۔“ اتنے میں وہ ایک مشکیزہ اٹھائے ہوئے آگئے، انہوں نے اسے کھجور کے ایک درخت کی ٹہنی سے لٹکایا اور ہماری طرف متوجہ ہو کر کہا: ”خوش آمدید، مبارک آمد، کسی کے پاس بھی اس سے بہتر مہمان کبھی نہیں آئے جتنے بہتر مہمان میرے پاس آئے ہیں۔“ پھر انہوں نے ہمارے لیے کھجوروں کا ایک خوشہ توڑا اور ہمارے سامنے لے آئے، ہم چاندنی میں اس سے کھجوریں چن چن کر کھانے لگے، پھر انہوں نے چھری پکڑی اور بکریوں کی طرف چلے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دودھ دینے والی بکری سے بچنا۔“ انہوں نے ایک بکری پکڑی، اسے ذبح کیا اور اس کی کھال اتاری، پھر اپنی بیوی سے کہا: ”اٹھو (اور کھانا تیار کرو)“، چنانچہ انہوں نے آٹا پیسا اور روٹیاں پکائیں، اور ہانڈی میں گوشت کے ٹکڑے کر کے ڈالے اور اس کے نیچے آگ جلائی یہاں تک کہ گوشت اور روٹی تیار ہو گئی، پھر انہوں نے ثرید بنایا اور اس پر شوربہ اور گوشت ڈالا، پھر وہ اسے ہمارے پاس لائے اور اسے ہمارے سامنے رکھ دیا، ہم نے اسے سیر ہو کر کھایا، پھر وہ مشکیزے کی طرف بڑھے جسے ہوا نے ٹھنڈا کر دیا تھا، اس سے برتن میں پانی انڈیلا اور رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا، آپ ﷺ نے اسے نوش فرمایا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا اور انہوں نے پیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو دیا اور انہوں نے پیا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، جس نے ہمیں نکالا حالانکہ ہمیں صرف بھوک نے ہی (گھروں سے) نکالا تھا، پھر ہم واپس لوٹ رہے ہیں تو ہمیں یہ (نعمتیں) مل گئی ہیں، تم سے قیامت کے دن ان کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا، یہ بھی ان نعمتوں میں سے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے ابو الہیثم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں جو تمہیں پانی پلائے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ نہیں ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو ہمارے پاس آنا، تاکہ ہم تمہارے لیے ایک خادم کا حکم دے دیں۔“ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ آپ ﷺ کے پاس قیدی لائے گئے، ابو الہیثم رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیسے آنا ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا وہ وعدہ جو آپ نے مجھ سے کیا تھا“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قیدی موجود ہیں، اٹھو اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”آپ ہی میرے لیے انتخاب فرما دیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس لڑکے کو لے لو اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔“ وہ اسے لے کر اپنی اہلیہ کے پاس آئے، انہوں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے سارا قصہ بیان کیا، اہلیہ نے پوچھا: ”آپ نے آپ ﷺ سے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے بتایا: ”میں نے عرض کیا تھا کہ آپ ہی میرے لیے انتخاب فرما دیں“، اہلیہ نے کہا: ”آپ نے بہت اچھا کیا، آپ ﷺ نے اس کے ساتھ بھلائی کی وصیت فرمائی ہے، لہٰذا اس کے ساتھ نیک سلوک کریں“، شوہر نے پوچھا: ”اس کے ساتھ بہترین سلوک کیا ہو سکتا ہے؟“ بیوی نے جواب دیا: ”یہ کہ آپ اسے آزاد کر دیں“، انہوں نے کہا: ”پس یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔“
اس روایت کی سند میں یحییٰ بن عبید اللہ التیمی نامی راوی ضعیف ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح مسلم [حدیث نمبر: 5328] سمیت دیگر کتبِ حدیث میں مختلف شواہد و اسانید کے ساتھ مروی ہے، جس سے اس واقعے کی حقیقت ثابت ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3154
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، فيه يحيى بن عُبيد الله التيمي وهو متروك، وفيه أبو هشام الرفاعي، وهو ضعيف. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18262، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7357/2»