المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ عيش السلف باب: سلف کی طرزِ زندگی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3164
وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : أَعْرَسَ ابْنُ أُخْتٍ لَنَا فَصَنَعَ طَعَامًا ، فَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْكُثُ أَيَّامًا لَا يَأْكُلُ ، فَإِذَا وَجَدَ جِلْدَةً اجْتَزَأَ بِهَا ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ عَصَبَ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا .ترجمہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے ایک بھانجے کی شادی ہوئی تو انہوں نے کھانے کا اہتمام کیا، اس موقع پر ابن سیرین رحمہ اللہ نے (صحابہ کرام کے زہد و فقر کا تذکرہ کرتے ہوئے) فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام میں سے کوئی شخص کئی کئی دن اس حال میں گزار دیتا کہ وہ کچھ نہیں کھاتا تھا، پھر اگر اسے (سوکھے ہوئے) چمڑے کا کوئی ٹکڑا مل جاتا تو وہ اسی پر گزارہ کر لیتا، اور اگر اسے کچھ بھی میسر نہ آتا تو وہ (بھوک کی شدت سے بچنے کے لیے) اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا۔“
اسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے۔