❮
❯
حدیث نمبر: 3158
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا أَبُو الْعَطُوفِ الْجَرَّاحُ بْنُ مِنْهَالٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا فِي بَعْضِ حِيطَانِ الْأَنْصَارِ ، فَجَعَلْنَا نَلْتَقِطُ مِنَ التَّمْرِ وَنَأْكُلُ ، فَقَالَ لِي : " يَا ابْنَ عُمَرَ مَا لَكَ لَا تَأْكُلُ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ لَا أَشْتَهِيهِ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَكِنِّي أَشْتَهِيهِ وَهَذِهِ صُبْحُ رَابِعَةٍ مُنْذُ لَمْ أَذُقْ طَعَامًا وَلَمْ أَجِدْهُ ، وَلَوْ شِئْتُ دَعَوْتُ رَبِّي فَأَعْطَانِي مِثْلَ مُلْكِ كِسْرَى وَقَيْصَرَ ، فَكَيْفَ بِكَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُخَبِّئُونَ رِزْقَ سَنَةٍ وَيَضْعُفُ الْيَقِينُ ؟ " فَوَاللهِ مَا بَرِحْنَا وَلَا ذَهَبْنَا حَتَّى نَزَلَتْ : وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَأْمُرْنِي بِكَنْزِ الدُّنْيَا وَلَا اتِّبَاعِ الشَّهَوَاتِ ، فَمَنْ كَنَزَهَا يُرِيدُ بِهَا حَيَاةً بَاقِيَةً ، فَإِنَّ الْحَيَاةَ بِيَدِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَلَا وَإِنِّي لَا أَكْنِزُ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا أُخَبِّئُ رِزْقًا لِغَدٍ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلا یہاں تک کہ ہم انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے، پس ہم وہاں سے کھجوریں چننے اور کھانے لگے، تو آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: "اے ابن عمر! تمہیں کیا ہوا کہ تم نہیں کھا رہے؟" میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان کی رغبت نہیں ہو رہی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "لیکن مجھے ان کی اشتہا ہو رہی ہے اور یہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے کھانے کا ایک لقمہ تک نہیں چکھا اور نہ ہی مجھے کچھ میسر آیا ہے، اگر میں چاہتا تو اپنے رب سے دعا کرتا اور وہ مجھے کسریٰ و قیصر کی بادشاہت جیسا مال و متاع عطا فرما دیتا، اے ابن عمر! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو ایک ایک سال کا رزق جمع کر کے چھپائیں گے اور ان کا اللہ پر یقین و توکل کمزور ہو جائے گا؟" ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی ہم اپنی جگہ سے ہٹے نہیں تھے اور نہ ہی کہیں گئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَكَأَيِّنْ مِنْ دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾ [سورة العنكبوت: 60]، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بے شک اللہ عزوجل نے مجھے دنیا کا مال جمع کرنے اور خواہشات کی پیروی کا حکم نہیں دیا، پس جو شخص دنیا کا مال اس نیت سے جمع کرتا ہے کہ اسے ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی تو وہ جان لے کہ زندگی تو اللہ عزوجل ہی کے ہاتھ میں ہے، خبردار! میں نہ تو کوئی دینار جمع کرتا ہوں اور نہ ہی درہم، اور نہ ہی کل کے لیے کوئی رزق چھپا کر رکھتا ہوں۔"
اس حدیث کی سند میں ابو العطوف جراح بن منہال متروک الحدیث اور ضعیف راوی ہے، اس روایت کی تخریج امام بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3158
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، فيه الجَرَّاح بن مِنْهال، وهو متروك، وفيه الزُّهري وهو مقبول، وفيه انقطاع، عطاء لم يسمع من ابن عمر رضي الله عنهما. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 816، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 4856»