❮
❯
حدیث نمبر: 3153
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " مَا أَخْرَجَكَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ ؟ " فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ يَا رَسُولَ اللهِ . وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَخْرَجَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا يَا رَسُولَ اللهِ ، فَقَعَدَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُهُمَا ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ بِكُمَا قُوَّةٌ تَنْطَلِقَانِ إِلَى هَذَا النَّخْلِ ، فَتُصِيبَانِ طَعَامًا وَشَرَابًا وَظِلًّا " قَالَ : قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " مُرُّوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الْأَنْصَارِيِّ " فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأُمُّ الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَرَاءَ الْبَابِ تَسْمَعُ الْكَلَامَ وَتُرِيدُ أَنْ يَزِيدَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَرَادَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْصَرِفَ خَرَجَتْ أُمُّ الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا خَلْفَهُمْ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ سَمِعْتُ وَاللهِ تَسْلِيمَكَ ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَزِيدَنَا مِنْ سَلَامِكَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرًا ، وَقَالَ : " أَيْنَ أَبُو الْهَيْثَمِ ؟ مَا أَرَاهُ " قَالَتْ : هُوَ قَرِيبٌ ، ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ ، ادْخُلُوا ، فَإِنَّهُ يَأْتِي السَّاعَةَ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى ، فَبَسَطَتْ لَهُمْ بِسَاطًا تَحْتَ شَجَرَةٍ ، فَجَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ وَفَرِحَ بِهِمْ ، وَقَرَّتْ عَيْنُهُ بِهِمْ ، وَصَعِدَ عَلَى نَخْلَةٍ فَصَرَمَ عِذْقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَسْبُكَ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، تَأْكُلُونَ مِنْ رُطَبِهِ وَمِنْ بُسْرِهِ وَمِنْ تَذْنُوبِهِ ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بِمَاءٍ فَشَرِبُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ " . وَقَامَتْ أُمُّ الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَعْجِنُ لَهُمْ وَتَخْبِزُ ، وَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رُؤُوسَهُمْ لِلْقَائِلَةِ ، فَانْتَبَهُوا وَقَدْ أَدْرَكَ طَعَامُهُمْ ، فَوُضِعَ الطَّعَامُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا ، وَحَمِدُوا اللهَ تَعَالَى ، وَرَدَّتْ عَلَيْهِمْ أُمُّ الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بَقِيَّةَ الْعِذْقِ ، فَأَكَلُوا مِنْ رُطَبِهِ وَمِنْ تَذْنُوبِهِ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُمْ .
3153 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ثَنَا أَبُو خَلَفٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى ، فَذَكَرَهُ بِتَمَامِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حَتَّى أَتَيْنَا مَنْزِلَ مَالِكِ بْنِ التَّيِّهَانِ أَبِي الْهَيْثَمِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ : ثُمَّ دَعَا لَهُمْ بِخَيْرٍ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ : إِذَا بَلَغَكَ أَنْ قَدْ أَتَانَا رَقِيقٌ فَأْتِنَا ، قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَقِيقٍ ، أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَعْطَانِي رَأْسًا فَكَاتَبْتُهُ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ ، فَمَا رَأَيْتُ رَأْسًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ .
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عِيسَى : فَحَدَّثْتُ بِهِ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُسْلِمٍ الْمَكِّيَّ ، فَحَدَّثَنِي بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ فِيهِ : قَالَتْ لَهُ أُمُّ الْهَيْثَمِ : لَوْ دَعَوْتَ لَنَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت باہر تشریف لائے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسجد میں پایا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہیں اس وقت کس چیز نے (گھر سے) نکالا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اسی چیز نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے (یعنی شدید بھوک)۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے خطاب کے بیٹے! تمہیں کس چیز نے نکالا ہے؟“ انہوں نے بھی یہی عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اسی ضرورت نے نکالا ہے جس نے آپ دونوں کو نکالا ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور رسول اللہ ﷺ ان دونوں سے گفتگو فرمانے لگے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں اتنی سکت ہے کہ اس نخلستان کی طرف چلو تاکہ کچھ کھانے، پینے اور سائے کا انتظام ہو سکے؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر چلو“۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ہمارے آگے آگے چلے، وہاں پہنچ کر آپ ﷺ نے تین مرتبہ سلام کیا اور اجازت طلب کی، جبکہ ام الہیثم رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے کلام سن رہی تھیں مگر وہ خاموش رہیں کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ مزید سلام (دعا) فرمائیں، جب آپ ﷺ واپس مڑنے لگے تو ام الہیثم رضی اللہ عنہا ان کے پیچھے نکل آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں نے آپ کا سلام سن لیا تھا لیکن میری خواہش تھی کہ آپ ہمیں اپنے سلام کی برکتوں میں مزید اضافہ عطا فرمائیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں کلماتِ خیر فرمائے اور پوچھا: ”ابوالہیثم کہاں ہیں؟ میں انہیں دیکھ نہیں رہا“۔ انہوں نے عرض کیا: وہ قریب ہی ہیں، ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں، آپ اندر تشریف لائیں وہ ابھی ان شاء اللہ پہنچتے ہیں، پھر انہوں نے ایک درخت کے نیچے بچھونا بچھا دیا، اتنے میں ابوالہیثم رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں، وہ کھجور کے ایک درخت پر چڑھے اور ایک خوشہ توڑ لائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوالہیثم! تمہارے لیے یہی کافی تھا“، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (میری خواہش ہے کہ) آپ اس کی تازہ، گدرائی ہوئی اور پکی ہوئی ہر قسم کی کھجوریں تناول فرمائیں، پھر وہ پانی لائے اور سب نے پیا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تم سے (قیامت کے دن) سوال کیا جائے گا“۔ ام الہیثم رضی اللہ عنہا اٹھیں، آٹا گوندھا اور ان کے لیے روٹیاں پکائیں، رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے قیلولہ فرمایا، جب بیدار ہوئے تو کھانا تیار ہو چکا تھا، کھانا سامنے رکھا گیا تو سب نے سیر ہو کر کھایا اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی، پھر ام الہیثم رضی اللہ عنہا نے باقی بچا ہوا خوشہ بھی پیش کر دیا جس سے سب نے مختلف اقسام کی کھجوریں کھائیں، آخر میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں سلام کیا اور ان کے لیے دعا فرمائی۔
امام بزار نے بھی اس کی تخریج کی ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے ابوالہیثم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب تمہیں معلوم ہو کہ ہمارے پاس قیدی (غلام) آئے ہیں تو ہمارے پاس آنا“، ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قیدی آئے ہیں تو میں مدینہ منورہ حاضر ہوا، آپ ﷺ نے مجھے ایک غلام عطا فرمایا جسے میں نے چالیس ہزار درہم کے عوض مکاتب بنا دیا (آزادی کا معاہدہ کر لیا)، میں نے اس سے زیادہ بابرکت کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔
عبداللہ بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اسماعیل بن مسلم مکی کو سنائی تو انہوں نے بھی اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ ام الہیثم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) کاش آپ ہمارے لیے دعا فرما دیتے؟ تو آپ ﷺ نے یہ دعا دی: «أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ» ”تمہارے پاس روزہ دار افطار کریں، تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں اور فرشتے تمہارے لیے دعائے رحمت و مغفرت کریں“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3153
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث منكر. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 179، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 5288، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 250، وأخرجه مسند البزار برقم: 205، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3153 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 568»