المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ عيش السلف باب: سلف کی طرزِ زندگی کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَالَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : لَوْ أَنَّكَ لَبِسْتَ ثِيَابًا أَلْيَنَ مِنْ ثِيَابِكَ ، وَأَكَلْتَ طَعَامًا أَلْيَنَ مِنْ طَعَامِكَ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا أُخَاصِمُكِ إِلَى نَفْسِكِ ، أَلَمْ تَعْلَمِي مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ كَذَا وَكَذَا ؟ حَتَّى بَكَتْ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَدْ قُلْتُ لَكِ ، وَلَكِنِّي أُشَارِكُهُمَا فِي عَيْشِهِمَا الشَّدِيدِ لَعَلِّي أُشَارِكُهُمَا فِي عَيْشِهِمَا الرَّضِيِّ " ؟ فَأَقَرَّ بِهِ ، وَقَالَ : نَعَمْ .
3156 \ 2 - رَوَاهُ ( النَّسَائِيُّ ) فِي السُّنَنِ الْكُبْرَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَخِيهِ النُّعْمَانِ .
فَإِنْ كَانَ مُصْعَبٌ سَمِعَهُ مِنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهُوَ صَحِيحٌ ، وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کی: ”کاش کہ آپ اپنے ان موجودہ کپڑوں سے زیادہ نرم و عمدہ لباس زیبِ تن فرماتے اور اپنے اس کھانے سے زیادہ بہتر اور نرم غذا تناول فرماتے!“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (ان کی اس ہمدردانہ تجویز کے جواب میں) ارشاد فرمایا: ”میں (اس فیصلے کے لیے) تمہیں خود تمہارے اپنے نفس کے سامنے ہی پیش کرتا ہوں (کہ تم خود ہی انصاف کرو)؛ کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی (زہد و مشقت والی) زندگی کے احوال اس اس طرح معلوم نہیں ہیں؟“ (آپ رضی اللہ عنہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی سادہ زندگی کی تفصیلات یاد دلاتے رہے) یہاں تک کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے تم سے (اپنا مطمحِ نظر) بیان کر دیا ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ میں (دنیا میں) ان دونوں کی اس سخت اور پُرمشقت زندگی میں ان کا شریکِ حال رہنا چاہتا ہوں تاکہ (آخرت کی) اس پرلطف اور خوشگوار زندگی میں بھی ان کی رفاقت پا سکوں۔“
اسے امام نسائی نے السنن الکبریٰ میں سوید بن نصر، ابن مبارک، اسماعیل اور ان کے بھائی نعمان کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
پس اگر مصعب بن سعد نے یہ روایت سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے براہِ راست سنی ہے تو یہ حدیث صحیح ہے، بصورتِ دیگر یہ مرسل ہے مگر اس کی سند صحیح ہے۔