المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى العمل باب: محنت و عمل کی ترغیب و تشویق کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا الْمُقْرِئُ ، ثَنَا نُوحُ بْنُ جَعْوَنَةَ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : " أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْآخِرَةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ " ثَلَاثًا " وَإِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِشَهْوَةٍ ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنے حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی جس میں یہ (ارشاد) بھی ہے کہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”آگاہ رہو! یقیناً آخرت کا عمل (نفس کی مشقت کے اعتبار سے) ایک کٹھن اور دشوار گزار اونچے ٹیلے کی مانند ہے،“ اور فرمایا: ”بے شک جہنم (میں لے جانے والا) عمل (نفسانی) خواہشات کی وجہ سے نہایت سہل اور آسان ہے، اور حقیقت میں نیک بخت و سعادت مند وہی شخص ہے جسے فتنوں سے محفوظ رکھا گیا۔“
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی نوح بن جعونہ کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، البتہ اس کے بعض جملوں کے شواہد دیگر معتبر احادیث میں موجود ہیں۔