المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ عيش السلف باب: سلف کی طرزِ زندگی کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةِ نَخْلَةَ وَمَعَنَا عَمْرُو بْنُ سُرَاقَةَ ، وَكَانَ رَجُلًا لَطِيفَ الْبَطْنِ ، طَوِيلًا فَجَاعَ فَانْثَنَى صُلْبُهُ ، فَكَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْشِيَ ، فَسَقَطَ عَلَيْنَا ، فَأَخَذْنَا صَفِيحَةً مِنْ حِجَارَةٍ فَرَبَطْنَاهَا عَلَى بَطْنِهِ ، ثُمَّ شَدَدْنَاهَا إِلَى صُلْبِهِ ، فَمَشَى مَعَنَا ، فَجِئْنَا حَيًّا مِنَ الْعَرَبِ فَضَيَّفُونَا فَمَشَى مَعَنَا ، ثُمَّ قَالَ : كُنْتُ أَحْسَبُ : الرِّجْلَيْنِ يَحْمِلَانِ الْبَطْنَ ، فَإِذَا الْبَطْنُ يَحْمِلُ الرِّجْلَيْنِ .سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مقامِ نخلہ کی طرف ایک لشکری مہم (سریہ) میں روانہ فرمایا، ہمارے ہمراہ سیدنا عمرو بن سراقہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ ایک دبلی پتلی کمر والے دراز قد شخص تھے، (سفر کے دوران) انہیں ایسی شدید بھوک لگی کہ (نقاہت کی وجہ سے) ان کی کمر مڑ گئی اور وہ چلنے کی سکت کھو کر ہمارے پاس گر پڑے، تو ہم نے ایک ہموار پتھر کا ٹکڑا لے کر ان کے پیٹ پر رکھا اور اسے ان کی کمر کے گرد مضبوطی سے باندھ دیا، جس کے بعد وہ ہمارے ساتھ چلنے کے قابل ہو گئے، پھر ہم عرب کے ایک قبیلے کے پاس پہنچے جنہوں نے ہماری میزبانی کی (اور کھانا کھلایا)، اس کے بعد وہ ہمارے ساتھ (بآسانی) چلنے لگے اور کہنے لگے: ”میں تو یہ سمجھتا تھا کہ پاؤں پیٹ کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مگر حقیقت یہ کھلی کہ پیٹ ہی پاؤں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔“
یہ روایت مسند الحارث کی ہے، جس کی سند میں یعقوب بن محمد الزہری پر اگرچہ کلام ہے، تاہم امام بوسیری نے زوائد میں دیگر رواۃ کو ثقہ قرار دیا ہے۔