المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ عيش السلف باب: سلف کی طرزِ زندگی کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : جَعَلَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا طَعَامًا فَجَعَلَ يَرْفَعُ قَصْعَةً وَيَضَعُ قَصْعَةً . قَالَ : فَحَوَّلَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ تَبْكِي ، فَقَالَ لَهَا عُرْوَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَدَّرْتِ عَلَيْنَا ، فَقَالَتْ : " وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ ، مَا رَأَى الْمَنَاخِلَ مُنْذُ بَعَثَهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى قُبِضَ " .ابو حازم سے روایت ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے کھانا تیار کیا اور وہ (پرتکلف انداز میں) ایک پیالہ لاتے اور دوسرا رکھتے جا رہے تھے، یہ دیکھ کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا رخِ انور دیوار کی طرف پھیر لیا اور رونے لگیں۔ اس پر سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”آپ نے تو ہم پر (اس خوشی کے موقع کو) مکدر کر دیا ہے“، تو انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس نے انہیں حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! انہوں نے (نبی کریم ﷺ نے) جب سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں مبعوث فرمایا اپنی وفات تک کبھی چھلنی نہیں دیکھی تھی۔“
وضاحت: عرب حدیثی کتب میں اختصار کے پیشِ نظر یا خاندانی شرف کی وجہ سے بسا اوقات ان کے نام کے ساتھ بھی ”رضی اللہ عنہما“ یا ”رضی اللہ عنہ“ لکھ دیا جاتا ہے (جیسے ان کے والد زبیر رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کی وجہ سے)، تاہم تمام ائمہ رجال و تاریخ کے نزدیک وہ علمی و طبقاتی لحاظ سے کبارِ تابعین میں شمار ہوتے ہیں۔
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام رجال ثقہ ہیں۔