المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ عيش السلف باب: سلف کی طرزِ زندگی کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : نَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشٍ حَشْوُهُ لِيفٌ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَقَامَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثَّرَ بِجِلْدِهِ ، فَبَكَيْتُ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، مَا يُبْكِيكِ ؟ " فَقُلْتُ : مَا أَرَى مِنْ أَثَرِ هَذَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبْكِي ، فَوَاللهِ لَوْ أَرَدْتُ أَنْ تَسِيرَ مَعِي الْجِبَالُ لَسَارَتْ " .
( 121 ) وَحَدِيثُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْجَفْنَةِ فِي بَيْتِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي مَنَاقِبِهَا .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے بستر پر آرام فرما ہوئے جس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کا تکیہ بھی کھجور کے ریشوں سے بھرا ہوا تھا۔ پھر جب نبی کریم ﷺ بیدار ہو کر اٹھے تو اس بستر کے نشانات آپ کے جسمِ مبارک پر پڑ گئے تھے۔ یہ دیکھ کر میں رو پڑی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ام سلمہ! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟“ میں نے عرض کی: میں آپ کے جسمِ مبارک پر اس بستر کے نشانات دیکھ رہی ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم مت روؤ، اللہ کی قسم! اگر میں چاہتا کہ پہاڑ میرے ساتھ چلیں تو وہ ضرور میرے ساتھ چلنے لگتے۔“
(121) اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث، جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں لگن (بڑے برتن) کے قصے سے متعلق ہے، ان کے مناقب کے بیان میں موجود ہے۔