❮
❯
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ غَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ لِسَانًا ذَاكِرًا ، أَوْ قَلْبًا شَاكِرًا ، أَوْ زَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ ، أَوْ تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى إِيمَانِهِ " .
أَوْرَدْتُهُ لِلشَّكِّ فِيهِ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَابْنُ مَاجَهْ ، مِنْ طَرِيقِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَحْدَهُ ، وَسِيَاقُهُمَا أَتَمُّ .
ترجمہ
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ یا نبی کریم ﷺ کے کسی اور صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ ذکر کرنے والی زبان، شکر گزار رہنے والا دل اور ایسی باایمان بیوی اختیار کرے جو اس کے دین و ایمان کے معاملات میں اس کی معاون و مددگار ثابت ہو۔“
(مصنف کہتے ہیں کہ) میں نے اس روایت کو اس میں موجود شک کی وجہ سے ذکر کیا ہے، حالانکہ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اسے سالم بن ابی الجعد کے طریق سے صرف سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے روایت کیا ہے اور ان دونوں کا بیان کردہ سیاقِ حدیث زیادہ کامل و مکمل ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإسناد رجاله ثقات، إلّا أنه منقطع، سالم لم يسمع من ثوبان رضي الله عنه. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 3094، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1856، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2295، 2391، 6696، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 854»
وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنَا عَبْدُ اللهِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ( ح ) قَالَ : وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ قَالَ : إِنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَلِدُونَ لِلْمَوْتِ وَتَعْمُرُونَ لِلْخَرَابِ ، وَتَحْرِصُونَ عَلَى مَا يَفْنَى ، وَتَذَرُونَ مَا يَبْقَى ، أَلَا حَبَّذَا إِلَيْكُمْ مِنْ هَذِهِ الثَّلَاثِ : الْمَوْتُ ، وَالْمَرَضُ ، وَالْفَقْرُ .
قُلْتُ : وَأَخْرَجَهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْحِلْيَةِ ، مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَذَكَرَهُ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : أَلَا حَبَّذَا الْمَكْرُوهَانِ ; الْمَوْتُ وَالْفَقْرُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَيْنَ عُبَيْدِ اللهِ وَأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَحَدًا .
ترجمہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم موت کی خاطر اولاد پیدا کرتے ہو اور ویرانی کے لیے آبادیاں تعمیر کرتے ہو، تم ان چیزوں کی حرص و ہوس میں مبتلا ہو جو فنا ہو جانے والی ہیں اور ان کو فراموش کر دیتے ہو جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں؛ آگاہ رہو! تمہارے حق میں یہ تین چیزیں کس قدر بھلی اور پسندیدہ ہیں: موت، بیماری اور فقر و محتاجی۔“
میں کہتا ہوں: اسے ابو نعیم نے ”حلیۃ الاولیاء“ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے حالاتِ زندگی میں عبداللہ بن وہب کے واسطے سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، انہوں نے عبیداللہ بن زحر سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، پھر انہوں نے مکمل روایت ذکر کی لیکن اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کیے: ”خبردار! وہ دو ناپسندیدہ چیزیں یعنی موت اور فقر کس قدر بہترین ہیں“، اور انہوں نے اس سند میں عبیداللہ اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی واسطے کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3123
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الأثر مداره على يحيى بن أيوب، بإسناده ضعيف؛ لوجود عُبيد الله بن زَحْر، وهو ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا دُوَيْدٌ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ : قَالَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : " يَا بَنِي آدَمَ ، لِدُوا لِلْمَوْتِ وَابْنُوا لِلْخَرَابِ ، تَفْنَى أَرْوَاحُكُمْ ، وَتَبْقَى دِيَارُكُمْ " .
ترجمہ
عبدالواحد سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا: ”اے بنی آدم! موت کی خاطر (اولاد) پیدا کرو اور ویرانی و بربادی کے لیے (عمارتیں) تعمیر کرو؛ تمہاری روحیں تو فنا ہو جائیں گی لیکن تمہارے گھر و دیار (تمہارے پیچھے) باقی رہ جائیں گے۔“
تخریج: یہ اثر امام احمد بن حنبل کی کتاب الزہد میں موجود ہے (رقم: 3138)۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3124
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد أتوقف في الحكم عليه؛ لوجود دويد. ولم أميزه. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِيَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ : إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كَلَامُ اللهِ ، وَأَوْثَقَ الْعُرَى كَلِمَةُ التَّقْوَى ، وَخَيْرَ الْمِلَلِ مِلَّةُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَأَحْسَنَ الْقَصَصِ هَذَا الْقُرْآنُ ، وَأَحْسَنَ السُّنَنِ سُنَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْرَفَ الْحَدِيثِ ذِكْرُ اللهِ تَعَالَى ، وَخَيْرَ الْأُمُورِ عَزَائِمُهَا ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، وَأَشْرَفَ الْمَوْتِ قَتْلُ الشُّهَدَاءِ ، وَأَغْيَرَ الضَّلَالَةِ الضَّلَالَةُ بَعْدَ الْهُدَى ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ أَوِ الْعِلْمِ - شَكَّ بِشْرٌ - مَا نَفَعَ ، وَخَيْرَ الْهُدَى مَا اتُّبِعَ ، وَشَرَّ الْعَمَى عَمَى الْقَلْبِ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَمَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى ، وَنَفْسٌ تُنْجِيهَا خَيْرٌ مِنْ إِمَارَةٍ لَا تُحْصِيهَا ، وَشَرُّ الْغِيلَةِ الْغِيلَةُ عِنْدَ حَضْرَةِ الْمَوْتِ ، وَشَرُّ النَّدَامَةِ نَدَامَةُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ لَا يَأْتِي الْجُمُعَةَ أَوِ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا ، وَلَا يَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى إِلَّا هُجْرًا ، وَأَعْظَمُ الْخَطَايَا اللِّسَانُ الْكَذُوبُ ، وَخَيْرُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَخَيْرُ الزَّادِ التَّقْوَى ، وَرَأْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللهِ تَعَالَى ، وَخَيْرُ مَا أُلْقِيَ فِي الْقَلْبِ الْيَقِينُ ، وَالرَّيْبُ مِنَ الْكُفْرِ ، وَالنَّوْحُ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَالْغُلُولُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ ، وَالْكَنْزُ كَيٌّ مِنَ النَّارِ ، وَالشِّعْرُ مَزَامِيرُ إِبْلِيسَ ، وَالْخَمْرُ جِمَاعُ الْإِثْمِ ، وَالنِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّيْطَانِ ، وَالشَّبَابُ شُعْبَةٌ مِنَ الْجُنُونِ ، وَشَرُّ الْمَكَاسِبِ مَكَاسِبُ الرِّبَا ، وَشَرُّ الْمَآكِلِ مَأْكَلُ مَالِ الْيَتَامَى ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ ، وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَإِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ مَا قَنَعَتْ بِهِ نَفْسُهُ ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ إِلَى مَوْضِعِ أَرْبَعَةِ أَذْرُعٍ ، وَخَيْرُ الْأَمْرِ نَاجِزُهُ ، وَأَمْلَكُ الْعَمَلِ خَوَاتِمُهُ ، وَشَرُّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ ، وَسِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ، وَأَكْلُ لَحْمِهِ مِنْ مَعَاصِي اللهِ تَعَالَى ، وَلَحُرْمَةُ مَالِهِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ ، وَمَنْ يَتَأَلَّ عَلَى اللهِ تَعَالَى يُكَذِّبْهُ ، وَمَنْ يَغْفِرْ يَغْفِرُ اللهُ لَهُ ، وَمَنْ يَعْفُ يَعْفُ اللهُ عَنْهُ ، وَمَنْ يَكْظِمِ الْغَيْظَ يَأْجُرْهُ اللهُ تَعَالَى ، وَمَنْ يَصْبِرْ عَلَى الرَّزَايَا يُعِنْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ يَعْرِفِ الْبَلَاءَ يَصْبِرْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ لَا يَعْرِفْهُ يُنْكِرْهُ ، وَمَنْ يُنْكِرْهُ يُضَيِّعْهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَمَنْ يَتَّبِعِ السُّمْعَةَ يُسَمِّعِ اللهُ بِهِ ، وَمَنْ يَنْوِ الدُّنْيَا تُعْجِزْهُ ، وَمَنْ يُطِعِ الشَّيْطَانَ يَعْصِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ يَعْصِ اللهَ تَعَالَى يُعَذِّبْهُ .
3125 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ - هُوَ الْأَعْوَرُ اسْمُهُ مَيْمُونٌ - عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ كُلَّ عَشِيَّةِ خَمِيسٍ بِهَذِهِ الْخُطْبَةِ ، قَالَ : وَكُنَّا نَرَى أَنَّهَا خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ تَعَالَى ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَوْقُوفُونَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، يَنْفُذُكُمُ الْبَصَرُ ، وَيُسْمِعُكُمُ الْمُنَادِي ، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَإِنَّ السَّعِيدَ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے: ”بے شک سب سے سچی بات اللہ کا کلام ہے، اور سب سے مضبوط سہارا تقویٰ کی بات ہے، اور بہترین ملت، ملتِ ابراہیم علیہ السلام ہے، اور بہترین قصص یہ قرآن ہے، اور بہترین طریقے محمد ﷺ کے طریقے ہیں، اور سب سے اشرف کلام اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے، اور تمام امور میں سے بہتر وہ ہیں جو پختہ عزم والے (ثابت شدہ) ہوں، اور بدترین امور وہ ہیں جو دین میں خود سے نکالے گئے ہوں، اور بہترین رہنمائی انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی ہے، اور سب سے معزز موت شہداء کی موت ہے، اور بدترین گمراہی ہدایت پانے کے بعد بھٹک جانا ہے، اور بہترین علم وہ ہے جو نفع بخش ہو، اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی پیروی کی جائے، اور بدترین اندھا پن دل کا اندھا پن ہے، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور وہ تھوڑی چیز جو کفایت کر جائے اس بہت زیادہ سے بہتر ہے جو غافل کر دے، اور وہ جان جسے تو نجات دلا دے اس حکمرانی سے بہتر ہے جس کی تو مکمل حفاظت اور ذمہ داری نہ نبھا سکے، اور بدترین فریب موت کے وقت کا فریب ہے، اور بدترین ندامت قیامت کے دن کی ندامت ہے، اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو جمعہ یا نماز کے لیے محض آخری وقت میں آتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی لغو اور بے ہودہ کلام کے ساتھ کرتے ہیں، اور سب سے بڑی خطا جھوٹ بولنے والی زبان ہے، اور بہترین غنا نفس کی مالداری ہے، اور بہترین توشہ تقویٰ ہے، اور حکمت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے، اور دل میں ڈالی جانے والی بہترین چیز یقین ہے، اور شک کفر کا حصہ ہے، اور نوحہ کرنا جاہلیت کے کاموں میں سے ہے، اور مالِ غنیمت میں خیانت جہنم کے انگاروں میں سے ہے، اور زکوٰۃ نہ دیا گیا خزانہ آگ سے داغے جانے کا سبب ہے، اور شعر ابلیس کے باجے ہیں، اور شراب تمام گناہوں کا مجموعہ ہے، اور عورتیں شیطان کے جال ہیں، اور جوانی جنون کا ایک شعبہ ہے، اور بدترین کمائی سود کی کمائی ہے، اور بدترین کھانا یتیم کا مال کھانا ہے، اور خوش بخت وہ ہے جو دوسروں کے حالات سے نصیحت حاصل کرے، اور بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بد بخت لکھ دیا گیا، اور تم میں سے ہر ایک کے لیے وہی کافی ہے جس پر اس کا نفس قناعت کر لے، اور ہر انسان کا انجام چار ہاتھ کی جگہ (قبر) ہے، اور بہترین معاملہ وہ ہے جو فوری انجام پا جائے، اور اعمال کا دارومدار ان کے خاتمے پر ہے، اور بدترین روایتیں جھوٹی روایتیں ہیں، اور ہر آنے والی چیز قریب ہے، اور مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے، اور اس کا گوشت کھانا (غیبت کرنا) اللہ کی نافرمانی ہے، اور اس کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے، اور جو اللہ پر جھوٹی قسمیں کھاتا ہے اللہ اسے جھوٹا ثابت کرتا ہے، اور جو معاف کرتا ہے اللہ اسے معاف کرتا ہے، اور جو درگزر کرے اللہ اسے معاف فرماتا ہے، اور جو غصے کو پی جائے اللہ اسے اجر دیتا ہے، اور جو مصائب پر صبر کرے اللہ اس کی مدد فرماتا ہے، اور جو آزمائش کو پہچان لے وہ اس پر صبر کرتا ہے، اور جو اسے نہیں پہچانتا وہ اس کا انکار (بے صبری) کرتا ہے، اور جو اس کا انکار کرتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ضائع کر دیتا ہے، اور جو شہرت کا پیچھا کرتا ہے اللہ اسے (رسوائی کے ساتھ) مشہور کر دیتا ہے، اور جو دنیا کی نیت کرے وہ اسے عاجز کر دیتی ہے، اور جو شیطان کی پیروی کرے وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتا ہے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرے وہ اسے عذاب دے گا۔“
امام احمد بن منیع کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کی شام یہ خطبہ دیا کرتے تھے اور ہم سمجھتے تھے کہ یہ نبی کریم ﷺ ہی کا خطبہ ہے: ”اے لوگو! بے شک سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور بہترین رہنمائی محمد ﷺ کی رہنمائی ہے، اور بدترین امور نئی نکالی گئی باتیں ہیں، اور ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، آگاہ رہو! تم سب ایک ہی میدان میں جمع کیے جاؤ گے، جہاں نگاہیں تم سب کو دیکھ سکیں گی اور پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی، اور بے شک بد بخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی بد بخت رہا اور خوش بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :3125/1: هذا إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات.
3125/2: هذا الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، فيه يوسف بن عطية وهو متروك. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8522، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7867، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 6318، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 4207»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنِ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا ، مَدْخَلَهُمُ الشَّامَ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ تُعْرَفُوا بِهِ ، وَاعْمَلُوا بِهِ تَكُونُوا مِنْ أَهْلِهِ ، وَإِنَّهُ لَنْ يُبَلِّغَ مَنْزِلَةَ ذِي حَقٍّ أَنْ يُطَاعَ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ تَعَالَى ، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَا يُقَرِّبُ مِنْ أَجَلٍ وَلَا يُبْعِدُ مِنْ رِزْقٍ قَوْلٌ بِحَقٍّ وَتَذْكِيرٌ عَظِيمٌ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ رِزْقِهِ حِجَابٌ ، قَالَ : فَيَتَرَأَّى لَهُ رِزْقُهُ ، وَإِنِ اقْتَحَمَ هُتِكَ الْحِجَابُ ، وَلَمْ يُدْرِكْ فَوْقَ رِزْقِهِ ، وَأَدِّبُوا الْخَيْلَ ، وَانْتَضِلُوا ، وَانْتَعِلُوا وَتَسَوَّكُوا ، وَتَمَعْدَدُوا ، وَإِيَّاكُمْ وَأَخْلَاقَ الْعَجَمِ ، وَمُجَاوَرَةَ الْجَبَّارِينَ ، وَأَنْ يُرَى بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ صَلِيبٌ ، وَأَنْ تَجْلِسُوا عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ ، وَتَدْخُلُوا الْحَمَّامَ بِغَيْرِ إِزَارٍ ، وَتَدَعُوا نِسَاءَكُمْ يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ ، وَإِيَّاكُمْ أَنْ تَكْسِبُوا مِنْ عِنْدِ الْأَعَاجِمِ بَعْدَ نُزُولِكُمْ فِي بِلَادِهِمْ مَا يَحْبِسُكُمْ فِي أَرْضِهِمْ ، فَإِنَّكُمْ يُوشِكُ أَنْ تَرْجِعُوا إِلَى بِلَادِكُمْ ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّفَارَ أَنْ تَجْعَلُوهُ فِي رِقَابِكُمْ ، وَعَلَيْكُمْ بِأَمْوَالِ الْعَرَبِ : الْمَاشِيَةِ تَزُولُونَ بِهَا حَيْثُ زُلْتُمْ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَشْرِبَةَ تُصْنَعُ مِنَ الزَّبِيبِ وَالْعَسَلِ وَالتَّمْرِ ، فَمَا عُتِّقَ مِنْهُ ، فَهُوَ خَمْرٌ لَا يَحِلُّ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ تَعَالَى لَا يُزَكِّي ثَلَاثَةَ نَفَرٍ ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ ، وَلَا يُقَرِّبُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ أَعْطَى إِمَامَهُ صَفْقَةً يُرِيدُ بِهَا الدُّنْيَا ، فَإِنْ أَصَابَهَا وَفَى لَهُ ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهَا لَمْ يَفِ لَهُ ، وَرَجُلٌ خَرَجَ بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَحَلَفَ لَقَدْ أَعْطَى بِهَا كَذَا وَكَذَا فَاشْتُرِيَتْ لِقَوْلِهِ ، وَسِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ، وَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَهْجُرَ أَخَاكَ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، وَمَنْ أَتَى سَاحِرًا أَوْ كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
سیدنا الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شام کے علاقے جابیہ میں داخلے کے وقت لوگوں میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”تم قرآن کریم کا علم حاصل کرو تاکہ تم اس کے حوالے سے پہچانے جاؤ، اور اس پر عمل پیرا ہو تاکہ تم اس کے حقیقی اہل قرار پاؤ۔ اور یقیناً کسی بھی حق دار کا مرتبہ و مقام اس بات کو ہرگز جائز نہیں بناتا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اس کی اطاعت کی جائے۔ اور یہ جان لو کہ حق بات کہنا اور کسی بڑی نصیحت کی یاد دہانی کروانا نہ تو موت کے وقت کو قریب لاتا ہے اور نہ ہی رزق کو دور کرتا ہے۔ اور خوب سمجھ لو کہ بندے اور اس کے رزق کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، اگر وہ (بے صبری دکھاتے ہوئے) اس پر جھپٹے تو وہ پردہ چاک ہو جاتا ہے، مگر اس صورت میں بھی وہ اپنے مقدر کے رزق سے ذرہ برابر بھی زیادہ حاصل نہیں کر سکتا۔ تم گھوڑوں کو سدھاؤ اور انہیں تربیت دو، تیر اندازی کی مشق کرو، جوتے پہنا کرو، مسواک کا اہتمام کرو، اور اپنے آبا و اجداد معد بن عدنان کی طرح جفاکش زندگی گزارو۔ اپنے آپ کو عجمیوں کے طور طریقوں اور جابروں کی ہمنشینی سے بچاؤ۔ تمہارے درمیان صلیب نظر نہیں آنی چاہیے، اور تم ہرگز ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھو جس پر شراب پی جا رہی ہو، اور تہبند کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو، اور اپنی عورتوں کو حماموں میں جانے کی اجازت نہ دو کیونکہ یہ ان کے لیے حلال نہیں ہے۔ اور خبردار! عجمیوں کے شہروں میں قیام کے دوران ان سے ایسے کسبِ معاش سے بچو جو تمہیں ان کی زمینوں میں محبوس کر دے، کیونکہ عنقریب تم اپنے ملکوں کی طرف لوٹ جاؤ گے۔ اور اپنے گلے میں گھنٹیاں (یا پیتل کے ہار) لٹکانے سے پرہیز کرو۔ تم عربوں کے مال یعنی مویشیوں کو لازم پکڑو کیونکہ تم جہاں بھی کوچ کرو گے وہ تمہارے ساتھ منتقل ہو سکیں گے۔ اور یہ جان لو کہ مشروبات کشمش، شہد اور کھجور سے تیار کیے جاتے ہیں، پس ان میں سے جو بھی نشہ آور ہو جائے وہ شراب ہے جو حلال نہیں ہے۔ اور یہ بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ تین قسم کے افراد کو (گناہوں سے) پاک کرے گا، نہ ان کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ ہی قیامت کے دن انہیں اپنے قریب کرے گا: ایک وہ شخص جس نے اپنے امام (حکمران) کی بیعت محض دنیاوی مفاد کے لیے کی، اگر اسے وہ مفاد مل گیا تو بیعت پوری کی اور اگر نہ ملا تو بیوفائی کی۔ دوسرا وہ شخص جو عصر کے بعد اپنا سودا فروخت کرنے نکلا اور قسم کھائی کہ اسے اس کی اتنی اتنی قیمت دی جا رہی تھی، چنانچہ اس کی بات پر یقین کر کے وہ مال خرید لیا گیا۔ اور مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ اور تمہارے لیے یہ حلال نہیں کہ تم اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرو۔ اور جو شخص کسی جادوگر، کاہن یا غیب کی خبریں بتانے والے کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی، تو اس نے اس وحی کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے“۔
ابن لہیعہ کی وجہ سے سند میں ضعف ہے، تاہم حدیث کے کثیر حصے دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الأثر بهذا الإِسناد ضعيف؛ لوجود ابن لَهيعة. وهو ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 30635»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، فَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا عَلَّمَنِي أَنْ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، أَحْكِمْ وُضُوءَكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ : وَلَا تَبِيتَنَّ وَلَا تُصْبِحَنَّ يَوْمًا وَفِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَإِنَّ هَذَا مِنْ سُنَّتِي ، وَمَنْ أَخَذَ بِسُنَّتِي ، فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي فَهُوَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ، يَا بُنَيَّ ، فَإِذَا عَمِلْتَ بِهَذَا وَحَفِظْتَ وَصِيَّتِي ، فَلَا يَكُونَنَّ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ ، فَإِنَّ فِيهِ رَاحَتَكَ " .
3127 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، ثَنَا عَبَّادٌ الْمِنْقَرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ .
3127 \ 3 - حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ فِيهِ : " وَسَلِّمْ فِي بَيْتِكَ يَزِدِ اللهُ تَعَالَى فِي بَرَكَاتِكَ ، وَوَقِّرْ كَبِيرَ الْمُسْلِمِينَ ، وَارْحَمْ صَغِيرَهُمْ ، أَجِيءُ أَنَا وَأَنْتَ كَهَاتَيْنِ " . وَجَمَعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ .
3127 \ 4 - حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ : " إِنْ نِمْتَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ فَمُتَّ ، مُتَّ شَهِيدًا ، يَا أَنَسُ وَقِّرِ الْكَبِيرَ وَارْحَمِ الصَّغِيرَ " .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی جبکہ میری عمر آٹھ سال تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سب سے پہلے جو تعلیم دی وہ یہ تھی کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! اپنا وضو اچھی طرح اور کامل طریقے سے کیا کرو“، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی جس کے آخر میں ہے: ”اور تم کبھی ایسی حالت میں صبح نہ کرو اور نہ شام کرو کہ تمہارے دل میں کسی بھی مسلمان کے لیے ذرہ برابر بھی کھوٹ، کینہ یا بدخواہی ہو، کیونکہ یہ میرا طریقہ اور میری سنت ہے، اور جس نے میری سنت کو تھام لیا اس نے یقیناً مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا، اے میرے پیارے بیٹے! جب تم اس پر عمل پیرا ہو جاؤ گے اور میری اس نصیحت کی حفاظت کرو گے، تو تمہیں موت سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوگی، کیونکہ اسی میں تمہارے لیے حقیقی راحت و سکون ہے“۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
ایک اور سند میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس میں یہ اضافہ فرمایا: ”جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کیا کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری برکتوں میں اضافہ فرما دے گا، اور مسلمانوں کے بڑوں کی توقیر و عزت کرو اور ان کے چھوٹوں پر رحم و شفقت کرو، (قیامت کے دن) میں اور تم ان دو انگلیوں کی طرح قریب ہوں گے“، اور آپ ﷺ نے اپنی مبارک انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا۔
منصور بن ابی مزاحم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی، جس کے آخر میں ہے: ”اگر تم اس حال میں سوئے کہ تم باوضو اور پاک تھے اور اسی حالت میں تمہیں موت آ گئی، تو تم شہادت کی موت مرو گے، اے انس! بڑوں کی عزت کرو اور چھوٹوں پر رحم کرو“۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3127
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا؛ لحال العلاء بن زَيْدَل. »
«أخرجه جامع الترمذي برقم: 589، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 896، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 3624، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 85 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 713، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5991»
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَنَا هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ هُوَ أَبُو الْمِقْدَامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، قَالَ : عَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَهُوَ عَلَيْنَا عَامِلٌ بِالْمَدِينَةِ ، وَهُوَ شَابٌّ غَلِيظُ الْبَضْعَةِ ، مُمْتَلِئُ الْجِسْمِ ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ وَقَاسَى مِنَ الْعَمَلِ وَالْهَمِّ مَا قَاسَى ، تَغَيَّرَتْ حَالُهُ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ لَا أَكَادُ أَصْرِفُ بَصَرِي عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ كَعْبٍ ، إِنَّكَ تَنْظُرُ إِلَيَّ نَظَرًا مَا كُنْتَ تَنْظُرُهُ إِلَيَّ مِنْ قَبْلُ ، قَالَ : قُلْتُ : تُعْجِبُنِي ، قَالَ : وَمَا عَجَبُكَ ؟ قَالَ : لِمَا حَالَ مِنْ لَوْنِكَ ، وَنُفِيَ مِنْ شَعَرِكَ ، وَنَحَلَ مِنْ جِسْمِكَ ، قَالَ : وَكَيْفَ لَوْ رَأَيْتَنِي بَعْدَ ثَلَاثٍ ، حِينَ تَسِيلُ حَدَقَتَايَ عَلَى وَجْهِي ، وَيَسِيلُ مَنْخِرَايَ وَفَمِي صَدِيدًا وَدُودًا ، أَكُنْتَ لِي أَشَدَّ نَكَرَةً ؟ أَعِدْ عَلَيَّ حَدِيثًا كُنْتَ حَدَّثْتَنِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شَرَفًا ، وَإِنَّ أَشْرَفَ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةُ ، وَإِنَّمَا يُجَالَسُ بِالْأَمَانَةِ ، وَاقْتُلُوا الْحَيَّةَ وَالْعَقْرَبَ وَإِنْ كُنْتُمْ فِي صَلَاتِكُمْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ أَكْرَمَ النَّاسِ ، فَلْيَتَّقِ اللهَ تَعَالَى ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ أَقْوَى النَّاسِ ، فَلْيَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ أَغْنَى النَّاسِ ، فَلْيَكُنْ بِمَا فِي يَدِ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَوْثَقَ مِنْهُ بِمَا فِي يَدِهِ ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ قَالُوا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ نَزَلَ وَحْدَهُ ، وَمَنَعَ رِفْدَهُ ، وَجَلَدَ عَبْدَهُ ، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ هَذَا ؟ قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يُبْغِضُ النَّاسَ وَيُبْغِضُونَهُ ، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ هَذَا ؟ قَالُوا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَمْ يُقِلْ عَثْرَةً ، وَلَمْ يَقْبَلْ مَعْذِرَةً ، وَلَمْ يَغْفِرْ ذَنْبًا ، أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ هَذَا ؟ قَالُوا : بَلَى ، يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ لَمْ يُرْجَ خَيْرُهُ ، وَلَمْ يُؤْمَنْ شَرُّهُ ، إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَامَ فِي قَوْمِهِ ، فَقَالَ : يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ، لَا تَكَلَّمُوا بِالْحِكْمَةِ عِنْدَ الْجَاهِلِ فَتَظْلِمُوهَا ، وَلَا تَمْنَعُوهَا أَهْلَهَا فَتَظْلِمُوهُمْ ، وَلَا تَظْلِمُوا ، وَلَا تُكَافِئُوا ظَالِمًا بِظُلْمٍ فَيَبْطُلَ فَضْلُكُمْ عَنْ رَبِّكُمْ ، يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ ، الْأَمْرُ ثَلَاثَةٌ : أَمْرٌ بَيِّنٌ رُشْدُهُ فَاتَّبِعُوهُ ، وَأَمْرٌ بَيِّنٌ غَيُّهُ فَاجْتَنِبُوهُ ، وَأَمْرٌ اخْتُلِفَ فِيهِ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ 3128 " -
3128 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، ثَنَا أَبُو الْمِقْدَامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : عَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَهُوَ عَلَيْنَا عَامِلٌ بِالْمَدِينَةِ زَمَنَ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ شَابٌّ ، فَذَكَرَهُ ، قُلْتُ : فِي السُّنَنِ شَيْءٌ مِنْ أَوَائِلِهِ .
ترجمہ
محمد بن کعب القرظی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو اس وقت دیکھا جب وہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں مدینہ منورہ میں ہمارے گورنر تھے، وہ اس وقت ایک پُرکشش، تندرست اور بھرپور جسم والے نوجوان تھے، پھر جب وہ منصبِ خلافت پر فائز ہوئے اور انہوں نے حکومت کی ذمہ داریوں اور رعایا کی فکر کا وہ بوجھ اٹھایا جو انہوں نے اٹھایا، تو ان کی حالت بالکل بدل گئی، میں انہیں (تعجب سے) دیکھنے لگا اور اپنی نظریں ان سے ہٹا نہیں پا رہا تھا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”اے ابن کعب! تم مجھے اس طرح (غور سے) دیکھ رہے ہو جس طرح پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا؟“ میں نے عرض کیا: ”مجھے آپ کی حالت پر حیرت ہو رہی ہے“، انہوں نے پوچھا: ”تمہیں کس بات پر حیرت ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”آپ کی رنگت کی تبدیلی، بالوں کے گر جانے اور جسم کے سوکھ کر دبلا ہو جانے پر“، انہوں نے فرمایا: ”تب تمہارا کیا حال ہوگا جب تم مجھے میری موت کے تین دن بعد قبر میں دیکھو گے، جب میری دونوں آنکھیں بہہ کر میرے چہرے پر پڑی ہوں گی، میرے نتھنوں اور منہ سے پیپ اور کیڑے بہہ رہے ہوں گے، کیا تب تم مجھے اس سے بھی زیادہ اجنبی اور ناقابلِ شناخت نہیں پاؤ گے؟ اچھا، اب مجھے وہ حدیث دوبارہ سناؤ جو تم نے مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سنائی تھی“، محمد بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کہا: مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور انہوں نے اس حدیث کو نبی کریم ﷺ تک مرفوعاً پہنچایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ ہر چیز کا ایک شرف (مرتبہ) ہوتا ہے اور مجلسوں میں سب سے بلند مرتبہ وہ مجلس ہے جس میں قبلہ کی طرف رخ کیا جائے، اور مجلس کی باتیں امانت ہوتی ہیں، اور تم (نماز کی حالت میں بھی) سانپ اور بچھو کو مار دیا کرو اگرچہ تم اپنی نماز ہی میں کیوں نہ ہو، اور جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ معزز بن جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے، اور جو شخص یہ چاہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ طاقتور بن جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ عزوجل پر توکل کرے، اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ غنی (بے نیاز) ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اس چیز پر زیادہ بھروسہ رکھے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ (قدرت) میں ہے بہ نسبت اس کے جو خود اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، کیا میں تمہیں تمہارے درمیان سب سے برے لوگوں کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو تنہا پڑاؤ ڈالتا ہے (کسی کو شریک نہیں کرتا)، اپنے عطیے کو روک لیتا ہے، اور اپنے ماتحت کو مارتا پیٹتا ہے، کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے شخص کی خبر نہ دوں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں سے بغض رکھتا ہے اور لوگ اس سے بغض رکھتے ہیں، کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ برے آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو نہ کسی کی لغزش کو معاف کرے، نہ کسی کا عذر قبول کرے اور نہ ہی کسی کا گناہ بخشے، کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ بدتر شخص کی خبر نہ دوں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جس سے کسی خیر کی امید نہ کی جائے اور جس کے شر سے کوئی محفوظ نہ ہو، یقیناً عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اپنی قوم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے بنی اسرائیل! نادان اور جاہل لوگوں کے سامنے حکمت کی باتیں نہ کرو ورنہ تم حکمت پر ظلم کرو گے (کہ اسے ضائع کیا)، اور حکمت کو اس کے حقداروں سے نہ روکو ورنہ تم ان لوگوں پر ظلم کرو گے، اور تم خود کسی پر ظلم نہ کرنا، اور نہ ہی کسی ظالم کے بدلے میں ظلم کرنا ورنہ تمہارے رب کے ہاں تمہارا فضل و کمال باطل ہو جائے گا، اے بنی اسرائیل! معاملات تین طرح کے ہیں: ایک وہ معاملہ جس کی ہدایت اور بھلائی واضح ہو تو اس کی پیروی کرو، دوسرا وہ معاملہ جس کی گمراہی ظاہر ہو تو اس سے بچو، اور تیسرا وہ معاملہ جس میں اختلاف ہو جائے تو اسے اس کے جاننے والے (عالم) کے سپرد کر دو۔“
امام حارث نے بھی اسے سریج بن یونس سے، انہوں نے عبدالعزیز بن عبدالصمد سے، انہوں نے ابو المقدام سے اور انہوں نے محمد بن کعب سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس حدیث کے ابتدائی حصے سنن کی کتب میں بھی موجود ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3128
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا؛ لحال هشام بن زياد، وهو متروك. »
«أخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 14431، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1115، 5509، 7195»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْكَوْثَرِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا قَوْمٌ يَتَحَدَّثُونَ ، أَضْحَكَهُمْ حَدِيثُهُمْ ، فَوَقَفَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اذْكُرُوا هَاذِمَ اللَّذَّاتِ : الْمَوْتَ " . وَخَرَجَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ خَرْجَةً أُخْرَى ، فَإِذَا قَوْمٌ يَتَحَدَّثُونَ وَيَضْحَكُونَ ، فَقَالَ : " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . قَالَ : وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا ، فَإِذَا قَوْمٌ يَتَحَدَّثُونَ وَيَضْحَكُونَ ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قِيلَ لَهُ : وَمَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِينَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ صَلَحُوا " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مسجد کی جانب تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگوں کو باہم گفتگو میں مصروف پایا جنہیں ان کی باتوں نے ہنسا رکھا تھا، پس آپ ﷺ وہاں رکے، انہیں سلام کیا اور ارشاد فرمایا: ”لذتوں کو پاش پاش کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“ اس واقعے کے بعد ایک اور مرتبہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو پھر کچھ لوگوں کو باتیں کرتے اور ہنستے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”خبردار! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم وہ حقائق جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار پھر باہر تشریف لائے تو لوگوں کو گفتگو اور ہنسی مذاق میں پایا، آپ ﷺ نے انہیں سلام کیا اور پھر ارشاد فرمایا: ”سنو! یقیناً اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا تھا اور عنقریب یہ دوبارہ ویسے ہی اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، پس قیامت کے دن ان اجنبیوں کے لیے خوشخبری اور طوبیٰ ہے۔“ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ اجنبی کون لوگ ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت اصلاح و نیکی پر قائم رہتے ہیں جب لوگ فساد و بگاڑ کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔“
مسند ابویعلی: 3129، المعجم الکبیر للطبرانی: 13093، اس کی سند میں کوثر بن حکیم متروک راوی ہے، تاہم اس مفہوم کی دیگر صحیح احادیث موجود ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3129
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإِسناد ضعيف جدًا، فيه ثلاث علل:، 1 - الكوثر بن حكيم، وهو متروك.، 2 - روح بن حاتم، وهو ضعيف.، 3 - عنعنة هُشيم، وهو مدلس. »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 146، وأخرجه مسند البزار برقم: 5898، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5780»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ النَّخَعِ ، قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اعْبُدِ اللهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ، وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى ، وَاتَّقِ دَعَوَاتِ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تُسْتَجَابُ ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَشْهَدَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ فِي جَمَاعَةٍ فَلْيَفْعَلْ وَلَوْ حَبْوًا " .
صَحِيحٌ لَوْلَا الْمُبْهَمُ .
3130 \ 2 - حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : اعْبُدِ اللهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا إِلَى قَوْلِهِ : "الْمَظْلُومِ" . وَزَادَ : وَاعْلَمْ أَنَّ قَلِيلًا يُغْنِيكَ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرٍ يُلْهِيكَ ، وَإِنَّ الدَّيْنَ لَا يَبْلَى ، وَإِنَّ الْبِرَّ لَا يُنْسَى .
ترجمہ
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی حدیث سنا رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اسے نہیں دیکھ پاتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اور اپنے آپ کو مردوں (قبر والوں) میں شمار کرو، اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ وہ بلاشبہ قبول کر لی جاتی ہے، اور تم میں سے جو کوئی عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ضرور ایسا کرے خواہ اسے سرین کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔“
اگر اس میں ایک راوی مبہم نہ ہوتا تو یہ روایت صحیح ہوتی۔
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو“، پھر انہوں نے مظلوم کی بددعا تک یہی الفاظ بیان کیے اور یہ اضافہ کیا: ”اور جان لو کہ وہ تھوڑی چیز جو تمہیں کفایت کر جائے اس بہت سے بہتر ہے جو تمہیں (اللہ سے) غافل کر دے، اور یقیناً بدلہ یعنی حساب و کتاب کبھی پرانا نہیں ہوتا اور نیکی کبھی فراموش نہیں کی جاتی۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ لَوْلَا الْمُبْهَمُ . »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3130 / 2، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 29983»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي زَكَرِيَّا الْكُوفِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى رَجُلًا عَنْ ثَلَاثٍ وَأَوْصَاهُ بِثَلَاثٍ ، فَأَمَّا الَّتِي نَهَاهُ عَنْهَا فَقَالَ : " لَا تَنْقُضْ عَهْدًا ، وَلَا تُعِنْ عَلَى نَقْضِهِ ، وَلَا تَبْغِ ، فَإِنَّ مَنْ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنْصُرَنَّهُ اللهُ تَعَالَى ، وَإِيَّاكَ وَمَكْرَ السَّيِّئِ فَإِنَّهُ لَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ، وَلَهُنَّ مِنَ اللهِ تَعَالَى طَالِبٌ " . وَأَمَّا الَّتِي أَوْصَاهُ بِهَا : " أَنْ تُكْثِرَ ذِكْرَ الْمَوْتِ ; فَإِنَّهُ يُسَلِّيكَ عَمَّا سِوَاهُ ، وَعَلَيْكَ بِالدُّعَاءِ ; فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَتَى يُسْتَجَابُ لَكَ ، وَعَلَيْكَ بِالشُّكْرِ ; فَإِنَّهُ زِيَادَةٌ " . ثُمَّ قَرَأَ سُفْيَانُ : لَئِنْ شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ .
ترجمہ
ابوزکریا الکوفی ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو تین کاموں سے روکا اور اسے تین کاموں کی وصیت فرمائی، پس جن چیزوں سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ان کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”تم کبھی کسی عہد و پیمان کو نہ توڑنا، اور نہ ہی عہد شکنی پر کسی کی مدد کرنا، اور کبھی ظلم و زیادتی نہ کرنا کیونکہ جس پر ظلم کیا جائے اللہ تعالیٰ یقیناً اس کی مدد فرماتا ہے، اور تم بری چالوں اور مکر و فریب سے بچ کر رہنا کیونکہ برائی کی چال اپنے چلنے والے ہی کو گھیرے میں لیتی ہے، اور ان تمام افعال کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محاسبہ کرنے والا موجود ہے۔“ اور جن باتوں کی آپ ﷺ نے اسے وصیت فرمائی وہ یہ ہیں: ”تم موت کو بکثرت یاد کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں دنیا کی دیگر تمام چیزوں سے بیزار کر کے قلبی تسلی فراہم کرے گی، اور تم دعا کی پابندی کرو کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ تمہاری دعا کس وقت قبول کر لی جائے، اور تم شکر گزاری کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نعمتوں میں اضافے کا سبب ہے۔“ پھر امام سفیان نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ [سورة إبراهيم: 7] ”اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں یقیناً اور زیادہ دوں گا۔“
یہ روایت امام بیہقی نے شعب الایمان میں ذکر کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے لیکن اس کے مختلف حصوں کے شواہد دیگر صحیح احادیث میں کثرت سے موجود ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3131
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :أتوقف في الحكم على هذا الحديث؛ وذلك لأنّ فيه راويا لم أقف له على ترجمة وهو أبو زكريا الكوفي، وشيخه مبهم لم يتبين لي. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عِنْدَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى خَزَائِنُ لِلْخَيْرِ وَالشَّرِّ مَفَاتِيحُهَا الرِّجَالُ " .
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں خیر و بھلائی اور شر و برائی کے بے شمار خزانے ہیں، جن کو کھولنے والی کنجیاں کچھ مخصوص افراد ہیں۔“
مسند ابویعلیٰ: 3132، اس کی سند میں موجود راوی عبد الرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3132
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :وفيه عبد الرحمن بن زيد وهو ضعيف. »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 238، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7526، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 5812»