المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الوصايا النافعة باب: نفع بخش وصیتوں کا بیان۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي زَكَرِيَّا الْكُوفِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى رَجُلًا عَنْ ثَلَاثٍ وَأَوْصَاهُ بِثَلَاثٍ ، فَأَمَّا الَّتِي نَهَاهُ عَنْهَا فَقَالَ : " لَا تَنْقُضْ عَهْدًا ، وَلَا تُعِنْ عَلَى نَقْضِهِ ، وَلَا تَبْغِ ، فَإِنَّ مَنْ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنْصُرَنَّهُ اللهُ تَعَالَى ، وَإِيَّاكَ وَمَكْرَ السَّيِّئِ فَإِنَّهُ لَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ، وَلَهُنَّ مِنَ اللهِ تَعَالَى طَالِبٌ " . وَأَمَّا الَّتِي أَوْصَاهُ بِهَا : " أَنْ تُكْثِرَ ذِكْرَ الْمَوْتِ ; فَإِنَّهُ يُسَلِّيكَ عَمَّا سِوَاهُ ، وَعَلَيْكَ بِالدُّعَاءِ ; فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَتَى يُسْتَجَابُ لَكَ ، وَعَلَيْكَ بِالشُّكْرِ ; فَإِنَّهُ زِيَادَةٌ " . ثُمَّ قَرَأَ سُفْيَانُ : لَئِنْ شَكَرْتُمْ لأَزِيدَنَّكُمْ .ابوزکریا الکوفی ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو تین کاموں سے روکا اور اسے تین کاموں کی وصیت فرمائی، پس جن چیزوں سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ان کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”تم کبھی کسی عہد و پیمان کو نہ توڑنا، اور نہ ہی عہد شکنی پر کسی کی مدد کرنا، اور کبھی ظلم و زیادتی نہ کرنا کیونکہ جس پر ظلم کیا جائے اللہ تعالیٰ یقیناً اس کی مدد فرماتا ہے، اور تم بری چالوں اور مکر و فریب سے بچ کر رہنا کیونکہ برائی کی چال اپنے چلنے والے ہی کو گھیرے میں لیتی ہے، اور ان تمام افعال کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محاسبہ کرنے والا موجود ہے۔“ اور جن باتوں کی آپ ﷺ نے اسے وصیت فرمائی وہ یہ ہیں: ”تم موت کو بکثرت یاد کیا کرو کیونکہ یہ تمہیں دنیا کی دیگر تمام چیزوں سے بیزار کر کے قلبی تسلی فراہم کرے گی، اور تم دعا کی پابندی کرو کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ تمہاری دعا کس وقت قبول کر لی جائے، اور تم شکر گزاری کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نعمتوں میں اضافے کا سبب ہے۔“ پھر امام سفیان نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ [سورة إبراهيم: 7] ”اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں یقیناً اور زیادہ دوں گا۔“
یہ روایت امام بیہقی نے شعب الایمان میں ذکر کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے لیکن اس کے مختلف حصوں کے شواہد دیگر صحیح احادیث میں کثرت سے موجود ہیں۔