المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الوصايا النافعة باب: نفع بخش وصیتوں کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ حَاتِمٍ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْكَوْثَرِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا قَوْمٌ يَتَحَدَّثُونَ ، أَضْحَكَهُمْ حَدِيثُهُمْ ، فَوَقَفَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اذْكُرُوا هَاذِمَ اللَّذَّاتِ : الْمَوْتَ " . وَخَرَجَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ خَرْجَةً أُخْرَى ، فَإِذَا قَوْمٌ يَتَحَدَّثُونَ وَيَضْحَكُونَ ، فَقَالَ : " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " . قَالَ : وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا ، فَإِذَا قَوْمٌ يَتَحَدَّثُونَ وَيَضْحَكُونَ ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَلَا إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " قِيلَ لَهُ : وَمَنِ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِينَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ صَلَحُوا " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ مسجد کی جانب تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگوں کو باہم گفتگو میں مصروف پایا جنہیں ان کی باتوں نے ہنسا رکھا تھا، پس آپ ﷺ وہاں رکے، انہیں سلام کیا اور ارشاد فرمایا: ”لذتوں کو پاش پاش کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔“ اس واقعے کے بعد ایک اور مرتبہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو پھر کچھ لوگوں کو باتیں کرتے اور ہنستے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”خبردار! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم وہ حقائق جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔“ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار پھر باہر تشریف لائے تو لوگوں کو گفتگو اور ہنسی مذاق میں پایا، آپ ﷺ نے انہیں سلام کیا اور پھر ارشاد فرمایا: ”سنو! یقیناً اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا تھا اور عنقریب یہ دوبارہ ویسے ہی اجنبی ہو جائے گا جیسے شروع ہوا تھا، پس قیامت کے دن ان اجنبیوں کے لیے خوشخبری اور طوبیٰ ہے۔“ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ اجنبی کون لوگ ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت اصلاح و نیکی پر قائم رہتے ہیں جب لوگ فساد و بگاڑ کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔“
مسند ابویعلی: 3129، المعجم الکبیر للطبرانی: 13093، اس کی سند میں کوثر بن حکیم متروک راوی ہے، تاہم اس مفہوم کی دیگر صحیح احادیث موجود ہیں۔