❮
❯
حدیث نمبر: 3130
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ النَّخَعِ ، قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اعْبُدِ اللهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ، وَعُدَّ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى ، وَاتَّقِ دَعَوَاتِ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا تُسْتَجَابُ ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَشْهَدَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ فِي جَمَاعَةٍ فَلْيَفْعَلْ وَلَوْ حَبْوًا " .
صَحِيحٌ لَوْلَا الْمُبْهَمُ .
3130 \ 2 - حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : اعْبُدِ اللهَ تَعَالَى كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا إِلَى قَوْلِهِ : "الْمَظْلُومِ" . وَزَادَ : وَاعْلَمْ أَنَّ قَلِيلًا يُغْنِيكَ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرٍ يُلْهِيكَ ، وَإِنَّ الدَّيْنَ لَا يَبْلَى ، وَإِنَّ الْبِرَّ لَا يُنْسَى .
ترجمہ

سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی حدیث سنا رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اسے نہیں دیکھ پاتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اور اپنے آپ کو مردوں (قبر والوں) میں شمار کرو، اور مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ وہ بلاشبہ قبول کر لی جاتی ہے، اور تم میں سے جو کوئی عشاء اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ضرور ایسا کرے خواہ اسے سرین کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے۔“
اگر اس میں ایک راوی مبہم نہ ہوتا تو یہ روایت صحیح ہوتی۔
سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو“، پھر انہوں نے مظلوم کی بددعا تک یہی الفاظ بیان کیے اور یہ اضافہ کیا: ”اور جان لو کہ وہ تھوڑی چیز جو تمہیں کفایت کر جائے اس بہت سے بہتر ہے جو تمہیں (اللہ سے) غافل کر دے، اور یقیناً بدلہ یعنی حساب و کتاب کبھی پرانا نہیں ہوتا اور نیکی کبھی فراموش نہیں کی جاتی۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ لَوْلَا الْمُبْهَمُ . »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3130 / 2، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 29983»