❮
❯
حدیث نمبر: 3127
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، فَكَانَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا عَلَّمَنِي أَنْ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، أَحْكِمْ وُضُوءَكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ : وَلَا تَبِيتَنَّ وَلَا تُصْبِحَنَّ يَوْمًا وَفِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ ، فَإِنَّ هَذَا مِنْ سُنَّتِي ، وَمَنْ أَخَذَ بِسُنَّتِي ، فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي فَهُوَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ، يَا بُنَيَّ ، فَإِذَا عَمِلْتَ بِهَذَا وَحَفِظْتَ وَصِيَّتِي ، فَلَا يَكُونَنَّ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ ، فَإِنَّ فِيهِ رَاحَتَكَ " .
3127 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، ثَنَا عَبَّادٌ الْمِنْقَرِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَأَتَمَّ مِنْهُ .
3127 \ 3 - حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَهُ وَزَادَ فِيهِ : " وَسَلِّمْ فِي بَيْتِكَ يَزِدِ اللهُ تَعَالَى فِي بَرَكَاتِكَ ، وَوَقِّرْ كَبِيرَ الْمُسْلِمِينَ ، وَارْحَمْ صَغِيرَهُمْ ، أَجِيءُ أَنَا وَأَنْتَ كَهَاتَيْنِ " . وَجَمَعَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ .
3127 \ 4 - حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ : " إِنْ نِمْتَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ فَمُتَّ ، مُتَّ شَهِيدًا ، يَا أَنَسُ وَقِّرِ الْكَبِيرَ وَارْحَمِ الصَّغِيرَ " .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت کی جبکہ میری عمر آٹھ سال تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سب سے پہلے جو تعلیم دی وہ یہ تھی کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے میرے پیارے بیٹے! اپنا وضو اچھی طرح اور کامل طریقے سے کیا کرو“، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی جس کے آخر میں ہے: ”اور تم کبھی ایسی حالت میں صبح نہ کرو اور نہ شام کرو کہ تمہارے دل میں کسی بھی مسلمان کے لیے ذرہ برابر بھی کھوٹ، کینہ یا بدخواہی ہو، کیونکہ یہ میرا طریقہ اور میری سنت ہے، اور جس نے میری سنت کو تھام لیا اس نے یقیناً مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا، اے میرے پیارے بیٹے! جب تم اس پر عمل پیرا ہو جاؤ گے اور میری اس نصیحت کی حفاظت کرو گے، تو تمہیں موت سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوگی، کیونکہ اسی میں تمہارے لیے حقیقی راحت و سکون ہے“۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ تفصیل کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
ایک اور سند میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے اس میں یہ اضافہ فرمایا: ”جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کیا کرو، اللہ تعالیٰ تمہاری برکتوں میں اضافہ فرما دے گا، اور مسلمانوں کے بڑوں کی توقیر و عزت کرو اور ان کے چھوٹوں پر رحم و شفقت کرو، (قیامت کے دن) میں اور تم ان دو انگلیوں کی طرح قریب ہوں گے“، اور آپ ﷺ نے اپنی مبارک انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا۔
منصور بن ابی مزاحم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی، جس کے آخر میں ہے: ”اگر تم اس حال میں سوئے کہ تم باوضو اور پاک تھے اور اسی حالت میں تمہیں موت آ گئی، تو تم شہادت کی موت مرو گے، اے انس! بڑوں کی عزت کرو اور چھوٹوں پر رحم کرو“۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3127
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا؛ لحال العلاء بن زَيْدَل. »
«أخرجه جامع الترمذي برقم: 589، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 896، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 3624، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 85 / 2، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 713، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5991»