❮
❯
حدیث نمبر: 3125
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِيَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ : إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كَلَامُ اللهِ ، وَأَوْثَقَ الْعُرَى كَلِمَةُ التَّقْوَى ، وَخَيْرَ الْمِلَلِ مِلَّةُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَأَحْسَنَ الْقَصَصِ هَذَا الْقُرْآنُ ، وَأَحْسَنَ السُّنَنِ سُنَّةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَشْرَفَ الْحَدِيثِ ذِكْرُ اللهِ تَعَالَى ، وَخَيْرَ الْأُمُورِ عَزَائِمُهَا ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، وَأَشْرَفَ الْمَوْتِ قَتْلُ الشُّهَدَاءِ ، وَأَغْيَرَ الضَّلَالَةِ الضَّلَالَةُ بَعْدَ الْهُدَى ، وَخَيْرَ الْعَمَلِ أَوِ الْعِلْمِ - شَكَّ بِشْرٌ - مَا نَفَعَ ، وَخَيْرَ الْهُدَى مَا اتُّبِعَ ، وَشَرَّ الْعَمَى عَمَى الْقَلْبِ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَمَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى ، وَنَفْسٌ تُنْجِيهَا خَيْرٌ مِنْ إِمَارَةٍ لَا تُحْصِيهَا ، وَشَرُّ الْغِيلَةِ الْغِيلَةُ عِنْدَ حَضْرَةِ الْمَوْتِ ، وَشَرُّ النَّدَامَةِ نَدَامَةُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ لَا يَأْتِي الْجُمُعَةَ أَوِ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا ، وَلَا يَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى إِلَّا هُجْرًا ، وَأَعْظَمُ الْخَطَايَا اللِّسَانُ الْكَذُوبُ ، وَخَيْرُ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَخَيْرُ الزَّادِ التَّقْوَى ، وَرَأْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللهِ تَعَالَى ، وَخَيْرُ مَا أُلْقِيَ فِي الْقَلْبِ الْيَقِينُ ، وَالرَّيْبُ مِنَ الْكُفْرِ ، وَالنَّوْحُ مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَالْغُلُولُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ ، وَالْكَنْزُ كَيٌّ مِنَ النَّارِ ، وَالشِّعْرُ مَزَامِيرُ إِبْلِيسَ ، وَالْخَمْرُ جِمَاعُ الْإِثْمِ ، وَالنِّسَاءُ حَبَائِلُ الشَّيْطَانِ ، وَالشَّبَابُ شُعْبَةٌ مِنَ الْجُنُونِ ، وَشَرُّ الْمَكَاسِبِ مَكَاسِبُ الرِّبَا ، وَشَرُّ الْمَآكِلِ مَأْكَلُ مَالِ الْيَتَامَى ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ ، وَالشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَإِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ مَا قَنَعَتْ بِهِ نَفْسُهُ ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ إِلَى مَوْضِعِ أَرْبَعَةِ أَذْرُعٍ ، وَخَيْرُ الْأَمْرِ نَاجِزُهُ ، وَأَمْلَكُ الْعَمَلِ خَوَاتِمُهُ ، وَشَرُّ الرَّوَايَا رَوَايَا الْكَذِبِ ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ ، وَسِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ، وَأَكْلُ لَحْمِهِ مِنْ مَعَاصِي اللهِ تَعَالَى ، وَلَحُرْمَةُ مَالِهِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ ، وَمَنْ يَتَأَلَّ عَلَى اللهِ تَعَالَى يُكَذِّبْهُ ، وَمَنْ يَغْفِرْ يَغْفِرُ اللهُ لَهُ ، وَمَنْ يَعْفُ يَعْفُ اللهُ عَنْهُ ، وَمَنْ يَكْظِمِ الْغَيْظَ يَأْجُرْهُ اللهُ تَعَالَى ، وَمَنْ يَصْبِرْ عَلَى الرَّزَايَا يُعِنْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ يَعْرِفِ الْبَلَاءَ يَصْبِرْ عَلَيْهِ ، وَمَنْ لَا يَعْرِفْهُ يُنْكِرْهُ ، وَمَنْ يُنْكِرْهُ يُضَيِّعْهُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَمَنْ يَتَّبِعِ السُّمْعَةَ يُسَمِّعِ اللهُ بِهِ ، وَمَنْ يَنْوِ الدُّنْيَا تُعْجِزْهُ ، وَمَنْ يُطِعِ الشَّيْطَانَ يَعْصِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنْ يَعْصِ اللهَ تَعَالَى يُعَذِّبْهُ .
3125 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ - هُوَ الْأَعْوَرُ اسْمُهُ مَيْمُونٌ - عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ كُلَّ عَشِيَّةِ خَمِيسٍ بِهَذِهِ الْخُطْبَةِ ، قَالَ : وَكُنَّا نَرَى أَنَّهَا خُطْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ تَعَالَى ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ، أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَوْقُوفُونَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، يَنْفُذُكُمُ الْبَصَرُ ، وَيُسْمِعُكُمُ الْمُنَادِي ، وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَإِنَّ السَّعِيدَ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ " .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے: ”بے شک سب سے سچی بات اللہ کا کلام ہے، اور سب سے مضبوط سہارا تقویٰ کی بات ہے، اور بہترین ملت، ملتِ ابراہیم علیہ السلام ہے، اور بہترین قصص یہ قرآن ہے، اور بہترین طریقے محمد ﷺ کے طریقے ہیں، اور سب سے اشرف کلام اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے، اور تمام امور میں سے بہتر وہ ہیں جو پختہ عزم والے (ثابت شدہ) ہوں، اور بدترین امور وہ ہیں جو دین میں خود سے نکالے گئے ہوں، اور بہترین رہنمائی انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی ہے، اور سب سے معزز موت شہداء کی موت ہے، اور بدترین گمراہی ہدایت پانے کے بعد بھٹک جانا ہے، اور بہترین علم وہ ہے جو نفع بخش ہو، اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی پیروی کی جائے، اور بدترین اندھا پن دل کا اندھا پن ہے، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور وہ تھوڑی چیز جو کفایت کر جائے اس بہت زیادہ سے بہتر ہے جو غافل کر دے، اور وہ جان جسے تو نجات دلا دے اس حکمرانی سے بہتر ہے جس کی تو مکمل حفاظت اور ذمہ داری نہ نبھا سکے، اور بدترین فریب موت کے وقت کا فریب ہے، اور بدترین ندامت قیامت کے دن کی ندامت ہے، اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو جمعہ یا نماز کے لیے محض آخری وقت میں آتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی لغو اور بے ہودہ کلام کے ساتھ کرتے ہیں، اور سب سے بڑی خطا جھوٹ بولنے والی زبان ہے، اور بہترین غنا نفس کی مالداری ہے، اور بہترین توشہ تقویٰ ہے، اور حکمت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے، اور دل میں ڈالی جانے والی بہترین چیز یقین ہے، اور شک کفر کا حصہ ہے، اور نوحہ کرنا جاہلیت کے کاموں میں سے ہے، اور مالِ غنیمت میں خیانت جہنم کے انگاروں میں سے ہے، اور زکوٰۃ نہ دیا گیا خزانہ آگ سے داغے جانے کا سبب ہے، اور شعر ابلیس کے باجے ہیں، اور شراب تمام گناہوں کا مجموعہ ہے، اور عورتیں شیطان کے جال ہیں، اور جوانی جنون کا ایک شعبہ ہے، اور بدترین کمائی سود کی کمائی ہے، اور بدترین کھانا یتیم کا مال کھانا ہے، اور خوش بخت وہ ہے جو دوسروں کے حالات سے نصیحت حاصل کرے، اور بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ ہی میں بد بخت لکھ دیا گیا، اور تم میں سے ہر ایک کے لیے وہی کافی ہے جس پر اس کا نفس قناعت کر لے، اور ہر انسان کا انجام چار ہاتھ کی جگہ (قبر) ہے، اور بہترین معاملہ وہ ہے جو فوری انجام پا جائے، اور اعمال کا دارومدار ان کے خاتمے پر ہے، اور بدترین روایتیں جھوٹی روایتیں ہیں، اور ہر آنے والی چیز قریب ہے، اور مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے، اور اس کا گوشت کھانا (غیبت کرنا) اللہ کی نافرمانی ہے، اور اس کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے، اور جو اللہ پر جھوٹی قسمیں کھاتا ہے اللہ اسے جھوٹا ثابت کرتا ہے، اور جو معاف کرتا ہے اللہ اسے معاف کرتا ہے، اور جو درگزر کرے اللہ اسے معاف فرماتا ہے، اور جو غصے کو پی جائے اللہ اسے اجر دیتا ہے، اور جو مصائب پر صبر کرے اللہ اس کی مدد فرماتا ہے، اور جو آزمائش کو پہچان لے وہ اس پر صبر کرتا ہے، اور جو اسے نہیں پہچانتا وہ اس کا انکار (بے صبری) کرتا ہے، اور جو اس کا انکار کرتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اسے ضائع کر دیتا ہے، اور جو شہرت کا پیچھا کرتا ہے اللہ اسے (رسوائی کے ساتھ) مشہور کر دیتا ہے، اور جو دنیا کی نیت کرے وہ اسے عاجز کر دیتی ہے، اور جو شیطان کی پیروی کرے وہ اللہ عزوجل کی نافرمانی کرتا ہے، اور جو اللہ کی نافرمانی کرے وہ اسے عذاب دے گا۔“
امام احمد بن منیع کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہر جمعرات کی شام یہ خطبہ دیا کرتے تھے اور ہم سمجھتے تھے کہ یہ نبی کریم ﷺ ہی کا خطبہ ہے: ”اے لوگو! بے شک سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور بہترین رہنمائی محمد ﷺ کی رہنمائی ہے، اور بدترین امور نئی نکالی گئی باتیں ہیں، اور ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، آگاہ رہو! تم سب ایک ہی میدان میں جمع کیے جاؤ گے، جہاں نگاہیں تم سب کو دیکھ سکیں گی اور پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی، اور بے شک بد بخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی بد بخت رہا اور خوش بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الرقائق / حدیث: 3125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :3125/1: هذا إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات.
3125/2: هذا الحديث بهذا الإسناد ضعيف جدًا، فيه يوسف بن عطية وهو متروك. »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8522، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7867، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 6318، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 4207»