المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الرقائق— دلوں کو نرم کرنے والی نصیحتوں کا بیان۔
بَابُ الوصايا النافعة باب: نفع بخش وصیتوں کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ فِي الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنَا عَبْدُ اللهِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ( ح ) قَالَ : وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ قَالَ : إِنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : تَلِدُونَ لِلْمَوْتِ وَتَعْمُرُونَ لِلْخَرَابِ ، وَتَحْرِصُونَ عَلَى مَا يَفْنَى ، وَتَذَرُونَ مَا يَبْقَى ، أَلَا حَبَّذَا إِلَيْكُمْ مِنْ هَذِهِ الثَّلَاثِ : الْمَوْتُ ، وَالْمَرَضُ ، وَالْفَقْرُ .
قُلْتُ : وَأَخْرَجَهُ أَبُو نُعَيْمٍ فِي تَرْجَمَةِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْحِلْيَةِ ، مِنْ طَرِيقِ عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : فَذَكَرَهُ ، وَلَكِنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : أَلَا حَبَّذَا الْمَكْرُوهَانِ ; الْمَوْتُ وَالْفَقْرُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ بَيْنَ عُبَيْدِ اللهِ وَأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَحَدًا .سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تم موت کی خاطر اولاد پیدا کرتے ہو اور ویرانی کے لیے آبادیاں تعمیر کرتے ہو، تم ان چیزوں کی حرص و ہوس میں مبتلا ہو جو فنا ہو جانے والی ہیں اور ان کو فراموش کر دیتے ہو جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں؛ آگاہ رہو! تمہارے حق میں یہ تین چیزیں کس قدر بھلی اور پسندیدہ ہیں: موت، بیماری اور فقر و محتاجی۔“
میں کہتا ہوں: اسے ابو نعیم نے ”حلیۃ الاولیاء“ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے حالاتِ زندگی میں عبداللہ بن وہب کے واسطے سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، انہوں نے عبیداللہ بن زحر سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، پھر انہوں نے مکمل روایت ذکر کی لیکن اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کیے: ”خبردار! وہ دو ناپسندیدہ چیزیں یعنی موت اور فقر کس قدر بہترین ہیں“، اور انہوں نے اس سند میں عبیداللہ اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی واسطے کا ذکر نہیں کیا۔